ڈنڈے کے زور پر 'جے شری رام' اور 'لبیک یارسول اللہ' ، انتہا پسند سکے کو دو رخ!

ڈنڈے کے زور پر 'جے شری رام' اور 'لبیک یارسول اللہ' ، انتہا پسند سکے کو دو رخ!
سرحد کے اس پار کی ایک ویڈیو ہے جس میں ایک داڑھی والے سفید ریش عمر رسیدے آدمی کو چند اوباش نوجوانوں نے گیرے میں رکھا ہے۔ بوڑھا شخص لہولہان ہے اور نوجوان زور زور سے چلا کر کہہ رہے کہ بول جے شری رام۔ یہ ویڈیو کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر ایسی کئی ویڈیوز موجود ہیں اور روز بہ روز ایسی ویڈیوز کی تعداد میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ یہ ایک گاؤں کے کسی ایک بوڑھے شخص پردرندہ صفت نوجوانوں کے ہاتھوں تشدد کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ آج کے ہندوستان کا ایک منظرنامہ ہے جو یاد دلاتا ہے کہ آج سے کوئی ستّر سال پہلے جب انگریزوں نے دو مُلکوں کی آزادی کا اعلان کیا تھا تو کیسے ریل گاڑیوں کے ڈبّے انسانی سروں سے بھر کے آ جا رہے تھے۔

مگر وہ بستیوں کا جلنا، گلوں کا کٹنا اور دنگے فساد تو وہ قربانیاں تھیں جس کے لیے ہمیں ہمارے نصاب میں پڑھایا جاتا کہ اس کے بعد ہم آزاد ہوئے تھے۔ آج ہندوستان کی حالت ایسی ہے کہ مسلمان تو خوف کا شکار ہیں ہی ہیں ایک ہندو کرکٹر ویرات کوہلی کی نو ماہ کی بچی کو بھی ریپ کرنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ آج عالم یہ ہے یہ مسئلہ ہندوستان میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کی پروان سے نہ صرف ہندوستان کا آئین، جمہوریت اور کلچر داغدار ہے بلکہ بالی وڈ کی پیش کردہ نمائشی ہندوستان بھی اس کے زد میں ہیں جہاں ایک نامور اداکار اور اس کے خاندان کو بھی میڈیا میں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے دہشت گرد ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے اور انھیں غداری کا سرٹیفکٹ دے کر پاکستان جانے کو کہا جاتا ہے۔

ایک اور ویڈیو سرحد کے اِس پار کی ہے جس میں کئی ڈنڈا بردار داڑھی والوں نے کچھ پولیس والوں کو گھیرے میں لیے رکھا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے یہ ریاست کے محافظ بے بس، لہولہان ہیں اور ڈنڈے بردار انھیں زور زور سے ' لبیک یا رسول اللہ' کہنے کا کہہ رہے اور وہ بچارے بے بس قانون کے سپاہی زور زور سے لبیک یا رسول اللہ کہہ کر اپنے مسلمان ہونے کا سرٹیفکٹ دے رہے ہیں۔

ہندوستان میں اس وقت ہندو انتہا پسند تنظیم بی جے پی کی سرکار ہے جس کا ماضی بھی مذہبی فسادات سے داغ دار ہے۔ مگر پاکستان میں اس وقت ایک تبدیلی والی حکومت کی سرکار ہے جس نے تبدیلی کے نام پر حکومت قائم کی اور پھر مدینہ کی ریاست بناتے بناتے شاید ایسی یوٹرن لیکر دہلی و کابل کی ریاست بنانے کی طرف چل پڑا ہے۔ ریاست مدینہ سے ریاست مودی۔

وہ مذہبی انتہا پسند جنھیں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے، املاک کو نقصان پہنچانے اور پرتشدد کاروائیوں کی بنا پر کالعدم قرار دیا گیا تھا اب ان سے حکومت نے کامیاب مذاکرات کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

حکومت نے سخت ترین معاشی دہشت گردی کا شکار عوام، سخت ترین پابندیوں کی زد میں صحافتی اداروں کے صحافیوں اور بقول عمران خان کے کرپٹ اپوزیشن جماعتوں کی تعاون کے باوجود کہ جنھوں نے ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنے کے لیے مذہبی شدت پسندوں کی کسی بھی طرح کی حوصلہ افزائی کرنے سے گریز کیا تاکہ ملک اس صورت حال سے نکل سکے مگر حکومت نے مذاکرات سے یہ ثابت کیا کہ یہ مذہبی جھتے تو ریاست کے لاڈلے ہیں۔

ہندوستان پاکستان کے ان حالات میں کیا فرق ہے؟ جہاں ایک طرف جے شری رام والوں کے ہاتھوں کمزور لوگوں پر ڈھنڈے برس رہے ہیں تو دوسری طرف لبیک یا رسول اللہ کہنے والوں کے ہاتھوں۔

بقول انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کی ایک ٹوئیٹ کے کہ "‏ہندوستان میں ہندو بلوائی مارتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں، پاکستان میں مسلمان بلوائی مارتے ہیں کہ اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دو۔"

کون آزاد ہوا ہے؟" ان واقعات کو دیکھ کر اب تو ہر انسان کو اپنے سائے سے ہی ڈر لگتا ہے کہ کوئی بھی جھتہ اب کہیں بھی کسی بھی وقت کسی بھی شہری سے ان کے مسلمان ہونے کا ثبوت مانگ سکتا ہے اور وہ بھی ایسا ثبوت جو اس کے مطابق اس کے دین کے لیے تشریح ہو۔

اب نا تو جمہوریت کی بقاء چاہیے اور ناں ہی اداروں کا استحکام۔ روٹی، کپڑا اور مکان کی بھی خیر ہے بس زندہ ہیں یہی کافی ہے۔ اور خدا کرے کہ یہ کرکٹ چلتی رہے تاکہ حب الوطنی کی جوش برقرار رہے ورنہ باقی معاملات میں تو دونوں طرف ڈنڈوں کے زور پر جھتوں کے خوف کا سایہ ہے۔ علی سردار جعفری صاحب نے ہماری انہی حالات پہ شاید کہا ہوگا کہ "کون آزاد ہوا؟

کس کے ماتھے سے سیاہی چھوٹی
میرے سینے میں ابھی درد ہے محکومی کا
مادر ہند کے چہرے پہ اداسی ہے وہی
خنجر آزاد ہیں سینوں میں اترنے کے لیے
موت آزاد ہے لاشوں پہ گزرنے کے لیے"

لکھاری بلوچستان کے شہر گوادر سے تعلق رکھتے ہیں اور صحافت کے طالب علم ہیں۔