شاہد خاقان نے LNG کا سستا ترین سودا کیا، عمران خان نے توڑ کر ملک پر ظلم کیا، جنرل باجوہ کا اعتراف

شاہد خاقان نے LNG کا سستا ترین سودا کیا، عمران خان نے توڑ کر ملک پر ظلم کیا، جنرل باجوہ کا اعتراف
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے اپنے حالیہ کالم میں انکشاف کیا ہے کہ جب شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم تھے تو پاکستان میں گیس کا بحران پیدا ہوا، 'جنرل باجوہ تسلیم کرتے ہیں شاہد خاقان عباسی نے قطر سے ایل این جی کا سستا ترین سودا کیا تھا‘ وہ جاری رہنا چاہیے تھا‘ عمران خان نے وہ سلسلہ توڑ کر ملک پر ظلم کیا۔'

جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ:

"ندیم بابر اورینٹ پاور کے نام سے بجلی بنانے والی ایک کمپنی چلا رہے تھے‘ عمران خان نے انھیں 22 اپریل 2019کومعاون خصوصی برائے پٹرولیم بنا دیا‘ یہ سیدھا سادا کلیش آف انٹرسٹ تھا۔

اسٹیبلشمنٹ نے وزیراعظم کو اس تقرری سے روکا لیکن یہ نہیں مانے اور یوں ندیم بابر پٹرولیم کے معاون خصوصی بن گئے‘ ان کے دور میں تین خوف ناک واقعات پیش آئے‘ ان کے پلانٹس کو جلدی اور زیادہ پے منٹ مل جاتی تھی جس پر دوسرے مالکان شور کرتے تھے‘ دوسرا ایک دن افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر نے جنرل باجوہ کو فون کر کے بتایا‘ کراچی پورٹ پر تیل کی درآمد میں گڑ بڑ ہو رہی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ نے ندیم بابر سے پوچھا‘ ان کا جواب تھا‘ نہیں سر یہ اطلاع غلط ہے‘ کراچی پورٹ پر کچھ نہیں ہو رہا‘ چند دن بعد امریکا کے چارج ڈی افیئر نے جنرل باجوہ کو فون کر کے دوبارہ شکایت کی‘ آرمی چیف نے آئی ایس آئی کو کراچی پورٹ بھجوا دیا‘آئی ایس آئی نے پورٹ سے تیل کا بھرا ہوا جہاز پکڑ لیا‘ جہاز کے کاغذات اومان کے تھے لیکن اس میں پٹرول ایرانی تھا اور اس پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 30 روپے کا فرق تھا اور یہ جہاز ندیم بابر نے اپنے لیے منگوایا تھا‘ وزیراعظم کو بتایا گیا لیکن یہ خاموش رہے۔

تیسرا واقعہ اس سے زیادہ خوف ناک تھا‘ جنرل باجوہ کے قطر کے شاہی خاندان سے قریبی تعلقات تھے‘ یہ پابندی کے دوران بھی قطر کا دورہ کرتے رہے تھے اور قطر کے شاہی خاندان کو اس بات کی بہت حیاء تھی‘ 2021 میں ملک میں گیس کا بحران تھا‘ ماہرین کی پیش گوئی تھی سردیوں میں لوگوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔

جنرل باجوہ ندیم بابر کو لے کر قطر گئے اورشیخ سے ایل این جی کی درخواست کی‘ چین قطر سے گیس کا سب سے بڑا خریدار تھا‘ قطر اسے سوا گیارہ ڈالرمیں ایل این جی بیچتا تھا لیکن قطر نے ہمیں سوا دس ڈالر میں گیس دے دی مگر یہ سہولت ون ٹائم تھی‘ ہمیں کہا گیا آپ کو جتنی گیس چاہیے آپ ایک بار لے لیں۔

جنرل باجوہ نے ندیم بابر اور میجر جنرل محمد عرفان کو قطر کے وزیر گیس کے حوالے کر دیا‘ وزیر نے پاکستان کی ضرورت پوچھی‘ ندیم بابر نے کہا‘ ہمیں تین جہاز دے دیں‘ جنرل عرفان نے ندیم بابر کے کان میں کہا‘ ہم دس لے لیتے ہیں‘ ہمیں زیادہ ضرورت پڑے گی لیکن ندیم بابر کاکہنا تھا ہمارے لیے تین جہاز کافی ہیں‘ جنرل عرفان نے دوبارہ سوچنے کے لیے کہا لیکن ندیم بابر نہیں مانے‘یہ ایکسپرٹ تھے‘ فوج گیس کی اصل ضرورت سے واقف نہیں تھی۔

لہٰذا جنرل عرفان خاموش ہو گئے اور یوں ہم صرف تین جہاز بک کرا کر واپس آ گئے لیکن جب سردیاں آئیں تو پورے ملک سے گیس اور بجلی دونوں غائب ہو گئیں اور حکومت اوپن مارکیٹ سے 30 ڈالرمیں ایل این جی خریدنے پر مجبور ہو گئی‘ یہ سیدھی سادی زیادتی تھی‘ تحقیقات کی گئیں تو پتاچلا ندیم بابر یہ کھیل اپنا فرنس آئل بیچنے کے لیے کھیلتے رہے چناں چہ فوج نے شدید احتجاج کیا اور یوں عمران خان نے ندیم بابر سے استعفیٰ لے لیا۔

ندیم بابر چلے گئے لیکن ان کی مہربانیوں کی فصل ملک آج بھی کاٹ رہا ہے‘جنرل باجوہ تسلیم کرتے ہیں شاہد خاقان عباسی نے قطر سے ایل این جی کا سستا ترین سودا کیا تھا‘ وہ جاری رہنا چاہیے تھا‘ عمران خان نے وہ سلسلہ توڑ کر ملک پر ظلم کیا۔"

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی عمران خان کے دور حکومت میں وفاقی وزیر پٹرولیم اسد عمر اور مشیر پٹرولیم ندیم بابر پر الزامات لگے تھے کہ انہوں نے دانستہ قطر سے سستی گیس کا معاہدہ ختم کیا تھا تاکہ آئل اور گیس کی مخصوص کمپنیز کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ اسد عمر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ان الزامات کو ثابت کرنے پر زور دیا تھا۔