Get Alerts

ایم او یو ایک مہلت ہے، طویل جنگ کا خاتمہ نہیں

ایران کے اندر بحث سفارت کاری کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان نہیں ہے۔ بحث اس بات پر ہے کہ ایران کو اس جنگ سے کیا سبق سیکھنا چاہیے اور اس نے خون دے کر جو کچھ حاصل کیا ہے اس سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے۔

ایم او یو ایک مہلت ہے، طویل جنگ کا خاتمہ نہیں

6 جولائی کو جب لاکھوں ایرانی شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کے لئے جمع تھے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور دھمکی آمیز بیان جاری کیا۔ اوول آفس میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یا تو "ڈیل کرے گا یا پھر ہم کام تمام کر دیں گے۔"

ایک دلیل یہ ہے کہ ایسے بیانات شدید دباؤ کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جن کا مقصد رعایتیں حاصل کرنا اور ایران کو جوہری معاملے پر جھکنے پر مجبور کرنا ہے۔ زیادہ تر مبصرین ان بیانات کو فوری اعلانِ جنگ کے بجائے، جاری جنگ بندی اور جوہری مذاکرات میں فائدہ اٹھانے کے حربے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے، ایران نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے یہ مؤقف برقرار رکھا ہے کہ اگر امریکہ دھمکیاں دیتا رہا تو مذاکرات آگے نہیں بڑھیں گے کیونکہ ان کے نتیجے میں عوامی سطح پر پوزیشن لینے کا ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جو باقاعدہ سفارتی ذرائع کو پیچیدہ بناتا ہے اور ایران کے اندر سخت گیروں کی مدد کرتا ہے۔ اگرچہ یہ اہم ہے، لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ سیاسی، سٹرٹیجک اور آپریشنل عوامل بھی اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ٹرمپ کے پاس اب زیادہ پتے باقی نہیں بچے۔ اگر دیکھا جائے تو صورتحال اس کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ صورتحال ایران کے کنٹرول میں ہے۔ دنیا بھر کے بعض اعلیٰ آئی آر (بین الاقوامی تعلقات) اور سکیورٹی ماہرین نے اس حقیقت کو بڑے پیمانے پر نوٹ کیا ہے۔ بلاشبہ ٹرمپ کے پاس وحشیانہ بمباری کے حملے دوبارہ شروع کرنے کا آپشن موجود ہے، لیکن بربریت سے سٹرٹیجک فوائد حاصل نہیں ہوتے۔ البتہ ایسا فیصلہ صورتحال کو ایک ناقابلِ برداشت حد تک بڑھانے کا پیش خیمہ ضرور بنتا ہے۔ اس کی کسی میں بھی سکت نہیں ہے، نہ امریکہ میں اور یقیناً خلیج میں موجود امریکی پارٹنرز (ساتھیوں) میں بھی نہیں۔

لیکن اس سے پہلے کہ میں مزید آگے بڑھوں، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ جب یہ جنگ شروع ہوئی تھی، تو بہت سے بزرجمہروں نے فیصلہ صادر کر دیا تھا کہ ایران کا کام تمام ہو چکا ہے۔ ایک پروفیسر نے ایک مضمون لکھا جس میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ ایران امریکی مطالبات نہ مان کر اور پاکستان کو ثالثی کے عمل میں تیزی لانے کی اجازت نہ دے کر بیوقوفی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہ خیالات کچھ حوالوں سے جہالت پر مبنی تھے اور دیگر معاملات میں صورتحال کو فرقہ وارانہ عینک سے دیکھنے کا نتیجہ تھے۔ اگر پہلی صورت حال بری ہے تو دوسری اس سے بھی بدتر ہے۔ امید ہے کہ اب دونوں قسم کے لوگوں کو بہتر سمجھ آ گئی ہوگی۔

اب اصل سوال کی طرف آتے ہیں: ایران نے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے پر کیوں آمادگی ظاہر کی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ صرف ایک جزوی اور عارضی مہلت ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایران کے مطابق وہ اس جنگ سے کس طرح سرخرو ہو کر نکلا ہے۔ اگرچہ بیرونی مبصرین اس جنگ کا نقطہ آغاز اٹھائیس فروری کو قرار دیتے ہیں، ایران کے لئے یہ جنگ فضائی حملوں سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ یہ حملے تو برسوں کی پابندیوں، امریکہ اور صیہونیوں کے خفیہ آپریشنز، ٹارگٹ کلنگ، معاشی دباؤ اور اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنے اور بالآخر اس کا تختہ الٹنے کی کوششوں کا عروج تھے۔

اب اس بات کے کافی ثبوت موجود ہیں، جن میں صیہونی میڈیا کی رپورٹس اور تجزیے بھی شامل ہیں، کہ کس طرح موساد نے ایران کے اندرونی سیاسی منظر نامے کا نقشہ تیار کیا، باغیوں کے نیٹ ورک بنائے، بے چینی کو فروغ دیا، حکومت مخالف مظاہرین کو ہتھیار فراہم کیے اور غلط معلومات کے ذریعے اثر و رسوخ کے آپریشنز چلائے۔ اس تجزیے نے جنگ اور اس کے بعد کے حالات کے بارے میں ایران کے نقطہ نظر کو گہرا رخ دیا ہے۔ اس نے ایران کی موجودہ قیادت کے اس نظریے کو بھی ترتیب دیا ہے کہ مذاکرات کیسے کرنے ہیں، کس رفتار سے آگے بڑھنا ہے اور کن شرائط کو پورا کروانا ہے۔

جارح امریکہ کے واضح کردہ اور بدلتے ہوئے مقاصد کو ناکام بنانے کے بعد ایران اب میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والے فوائد کو مستحکم کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنی مزاحمت اور اس تکلیف کا زیادہ سے زیادہ صلہ حاصل کر سکے جو اسے برداشت کرنی پڑی ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کا رویہ مشکل تھا یا ہے، انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صورتحال کے بارے میں ایران کے اس ادراک نے ہی مفاہمت کی یادداشت کے ڈھانچے کو تشکیل دیا ہے۔

پچھلے سال کے مذاکرات اور بارہ دن کی جنگ اور اس سال کی بات چیت اور حملوں کا بنیادی سبق بالکل سادہ ہے: ایران مستقبل کے وعدوں کی بنیاد پر اب کبھی بھی رعایتیں نہیں دے گا۔ ٹرمپ کے ہاتھوں تین بار ڈسے جانے کے بعد اب کام کرنے کا اصول مطلق بے اعتمادی اور تصدیق شدہ عمل درآمد پر وضع ہو گا۔ ایران یہ بھی جانتا ہے کہ ٹرمپ کو اچانک سفارت کاری کی خوبیاں معلوم نہیں ہوئیں۔ اس نے جنگ کا انتخاب کیا تھا۔ اگر وہ اب سفارت کاری چاہتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی شروع کی ہوئی جنگ ہار چکا ہے۔

باریک بین مبصرین کے لئے یہ بات واضح ہے کہ ایران کا طریقہ کار اقدامات کی ترتیب پر زور دینا ہے۔ پابندیوں میں ریلیف، تیل کی چھوٹ، یا منجمد اثاثوں تک رسائی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایران کی طرف سے کسی فوری اقدام کے بدلے مستقبل میں کوئی فائدہ دیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں ایران امریکی مطالبات کی تعمیل کر کے اپنی رعایتوں کے بدلے مستقبل کے کسی فائدے کا انتظار نہیں کرے گا۔ وہ پہلے وہ چیزیں چاہتا ہے جن سے اسے ناجائز طور پر محروم رکھا گیا ہے۔ ایک بار جب ایسا ہو جائے گا، تو وہ باقی امور بشمول اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرے گا۔

ایران کے اندر بحث سفارت کاری کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان نہیں ہے۔ یقیناً مفاہمت کی یادداشت پر تنقید کرنے والے بہت سے لوگ موجود ہیں۔ لیکن کوئی بھی فریق مذاکرات کو سرے سے مسترد نہیں کر رہا۔ بحث اس بات پر ہے کہ ایران کو اس جنگ سے کیا سبق سیکھنا چاہیے اور اس نے خون دے کر جو کچھ حاصل کیا ہے اس سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے۔ جیسا کہ ایک ایرانی نژاد امریکی سکالر سینا طوسی نے لکھا ہے، "معاہدے کے بہت سے ناقدین کی تشویش یہ نہیں ہے کہ سفارت کاری کیوں ہو رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ جس طریقے سے اس پر عمل کیا جا رہا ہے وہ جنگ کے ذریعے حاصل ہونے والے دباؤ کے اثر کو بتدریج کمزور کر سکتا ہے۔ ان کا استدلال یہ نہیں ہے کہ 'مذاکرات نہ کریں' بلکہ یہ ہے کہ 'ایسے انداز میں مذاکرات نہ کریں جس سے کمزوری ظاہر ہو اور مزید دباؤ کی دعوت ملے'۔"

آخر میں، جیسا کہ میں مسلسل اصرار کرتا آیا ہوں، یہ مفاہمت کی یادداشت ایک مہلت ہے، کوئی مستقل تصفیہ نہیں ہے۔ یہ اس طویل جنگ اور اس کے کئی معرکوں کی بنیادی اور ساختیاتی وجوہات کو حل نہیں کرتی۔ کوئی یہ پیش گوئی بھی نہیں کر سکتا کہ یہ یادداشت برقرار رہے گی یا نہیں۔ ابھی تو آغاز ہے اور ہنوز دلی دور است۔ اس لئے بنیادی مقصد جنگ کے دوران حاصل ہونے والے فوائد کو مستحکم کرنا ہے، خاص طور پر معاشی ریلیف کے ذریعے۔ سوچ یہ معلوم ہوتی ہے کہ چند سال کا معاشی ریلیف ایران کو اپنے بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر، اپنے خزانے کو بھرنے اور اپنی فوج کو مزید جدید بنانے میں مدد دے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایران کو اگلے راؤنڈ کے لئے زیادہ سازگار پوزیشن میں لا کھڑا کرے گا۔ کھیل ابھی ختم نہیں ہوا۔

اعجاز حیدر معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔