پچھلے چند گھنٹے میں پاکستان کی جانب سے کابل، قندھار سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں پر فضائی حملوں کی اطلاعات ہیں جن میں افغان دہشتگردوں کی متعدد چیک پوسٹس تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پچھلے چند گھنٹوں میں 50 افغان دہشتگردوں کو ان کے ٹھکانوں پر چُن چُن کر حملے کر کے جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔
لاشوں کا مثلہ، بدترین گناہ کا ارتکاب
گذشتہ رات سے سوشل میڈیا پر افغان دہشتگردوں کی پاکستان کی سرحد کے اندر گھسنے کی سیٹلائٹ ویڈیوز وائرل تھیں جس کے بعد ایک ہولناک منظر سوشل میڈیا پر ساری دنیا نے دیکھا جس میں افغان دہشتگردوں کو ایک ایف سی اہلکار کی لاش کا مِثلہ کرتے دیکھا گیا جس نے ناصرف انسانیت کو شرما دیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ پاکستان کی جانب سے ان کو درست طور پر فتنۃ الخوارج کہا جاتا ہے۔
پاکستان کا جواب
اس کے بعد سے پاکستان کی جانب سے درندوں کے دڑبوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگا کر ان کی کمیں گاہیں بڑی تعداد میں تباہ کی جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان کی عالمی سطح پر مطعون اور نسل پرست، انتہا پسند حکومت نے جنگ بندی کی درخواست کی تھی لیکن پاکستانی حکومت کی جانب سے بغیر نیک چال چلن کی گارنٹی کے اس قسم کی کسی سازش کا شکار ہونے سے انکار کیا جاتا رہا۔ البتہ طالبان سے اچھی طرح ناک رگڑوانےکے بعد 48 گھنٹوں کے لئے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔
لیکن اس جنگ بندی سے پہلے ہی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے قندھار میں افغان طالبان بٹالین ہیڈکوارٹرنمبر 4، 8 بٹالین اور بارڈر بریگیڈ نمبر 5 کے اہداف کو نشانہ بنایا، یہ تمام اہداف باریک بینی سے منتخب کئے گئے جو شہری آبادی سے الگ تھلگ تھے اور کامیابی سے تباہ کئے گئے۔
جنگ بندی میں صدر آصف زرداری کا کردار؟
اس سلسلے میں اب سے کچھ دیر قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کر کے انہیں بھی مکمل صورتحال پر بریفنگ دی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی ملاقات کے دوران آرمی چیف کو صدرِ مملکت نے غالباً پیغام دیا کہ ٍافغانستان کا دماغ بڑی حد تک درست ہو چکا ہے، اب موقع ہے کہ اپنے دوستوں کی بات سن کر ایک بار انہیں ایک موقع اور دے کر دیکھ لیا جائے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے 48 گھنٹے کے لئے جنگ بندی کی درخواست مان لینے کا اعلان کر دیا۔
یاد رہے کہ آج علی الصبح افغان طالبان کی فتنہ الخوارج کی مدد سے ایک بڑی تشکیل مہمند بھیجنے کی کوشش بھی پاک فوج نے ناکام بنا دی۔ سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاک فوج کی بروقت کارروائی سے تشکیل میں شامل 30 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔ تشکیل بھیجنے کا مقصد مہمند کے سرحدی علاقہ ترکمان زئی سے دراندازی کے ذریعے دہشتگردی پھیلانا تھا، یہ در اندازی پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائیوں کی ہزیمت کا بدلہ لینے کی ناکام کوشش تھی۔