Get Alerts

چترال کی خاموش اموات: خودکشی یا صنفی تشدد؟

ایک خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا میری بیٹی نے خودکشی نہیں کی وہ خودکشی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی، کیونکہ وہ انتہائی مضبوط اعصاب کی مالک تھی۔ وہ تو ہمیشہ مجھے حوصلہ دیا کرتی تھی۔ میں یہ ماننے کے لئے آج بھی تیار نہیں کہ اس نے خودکشی کی ہے۔

چترال کی خاموش اموات: خودکشی یا صنفی تشدد؟

کیا ہم چترال میں صنفی تشدد کو خودکشی کا نام دے رہے ہیں؟ کیا ہم اصل مجرموں کو خودکشی کے لفظ کے پیچھے چھپا رہے ہیں؟ چترال ہمیشہ امن، تہذیب، تعلیم اور باہمی احترام کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، مگر گذشتہ چند برسوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اس خوبصورت خطے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہر چند ہفتوں بعد ایک نئی خبر سامنے آتی ہے، چند دن سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار ہوتا ہے، پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ لیکن اصل سوال وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے: کیا ہر خودکشی واقعی خودکشی ہوتی ہے یا کہیں ہم صنفی تشدد، گھریلو ظلم، نفسیاتی استحصال اور سماجی دباؤ کو خودکشی کا نام دے کر اصل حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں۔

یہ سوال صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کا سوال ہے۔ اگر کوئی لڑکی یا نوجوان برسوں ذہنی دباؤ، گھریلو تشدد، سماجی تضحیک، جبر یا بے بسی کا شکار رہنے کے بعد اپنی جان لے لے، تو کیا صرف اس کی موت خود کشی قرار دینا کافی ہے؟

زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہر خودکشی صرف ایک لمحے کا فیصلہ نہیں ہوتی بلکہ اکثر یہ برسوں کے ظلم، خاموش تشدد، سماجی دباؤ اور بے حسی کا انجام ہوتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ بیشتر واقعات کو صرف خودکشی قرار دے کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس المناک انجام تک پہنچانے والے اسباب کی بھی اتنی ہی غیرجانبداری، شفافیت اور سنجیدگی سے تحقیقات کی جاتی ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر، معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنے۔ اگر ہم ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں، متاثرہ فرد کو سہارا نہیں دیتے، یا  لوگ کیا کہیں گےکے خوف سے سچ چھپا دیتے ہیں، تو ہم بھی اس خاموش نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ بات بھی اتنی ہی ضروری ہے کہ کسی بھی خودکشی کو بغیر ثبوت جینڈر بیسڈ تشدد کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔ ہر واقعے کی اپنی نوعیت ہوتی ہے، اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ نہ کسی بے گناہ پر الزام لگایا جائے اور نہ کسی مجرم کو صرف اس لئے بچنے دیا جائے کہ معاملے کو جلدی میں ذاتی مسئلہ یا خودکشی قرار دے دیا گیا۔

چند متاثرہ خاندانوں کے ساتھ میری گفتگو میں وہ کہانی سامنے آئی۔

ایک خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا میری بیٹی نے خودکشی نہیں کی وہ خودکشی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی، کیونکہ وہ انتہائی مضبوط اعصاب کی مالک تھی۔ وہ تو ہمیشہ مجھے حوصلہ دیا کرتی تھی۔ میں یہ ماننے کے لئے آج بھی تیار نہیں کہ اس نے خودکشی کی ہے۔ ایک اور ماں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ میری بیٹی خودکشی نہیں کر سکتی، یہ میرا پختہ ایمان ہے۔ البتہ میری لختِ جگر کو اس سماج نے نگل لیا۔ ایسے بے شمار جملے اور درد سے بھرے اعترافات ہیں، مگر اکثر مائیں اور اہلِ خانہ کھل کر کچھ کہنے سے ڈرتے ہیں۔ انہیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں یہی سماج ان پر ہی کیچڑ نہ اچھال دے اور ان کے زخموں کو مزید گہرا نہ کر دے۔

چترال کو آج صرف افسوس کے پیغامات کی ضرورت نہیں، بلکہ سچ بولنے کی ہمت، شفاف تحقیقات، متاثرین کے تحفظ، ذہنی صحت کی سہولیات اور ایسے معاشرتی ماحول کی ضرورت ہے جہاں کوئی بھی ظلم سہہ کر خاموش رہنے پر مجبور نہ ہو۔ کیونکہ اگر ہم ہر سوال کو خاموشی میں دفن کرتے رہے، تو شاید ہم صرف خودکشیوں کی تعداد گنتے رہ جائیں گے، مگر ان وجوہات کو کبھی نہیں سمجھ سکیں گے جو لوگوں کو موت کے دہانے تک لے جاتی ہیں۔ سچائی سے فرار کبھی بھی انصاف کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اگر کہیں صنفی تشدد کو خودکشی کا نام دیا جا رہا ہے تو اسے بے نقاب کرنا صرف پولیس، عدالت یا میڈیا کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انصاف اسی وقت ممکن ہے جب ہر غیر فطری موت کی غیرجانبدار، شفاف اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات ہوں، اور نتائج شواہد کی روشنی میں عوام کے سامنے لائے جائیں۔

خاموشی بعض اوقات صرف خاموشی نہیں ہوتی، بلکہ ناانصافی کی سب سے مضبوط ڈھال بن جاتی ہے۔