Get Alerts

بی جے پی کا ہندتوا ایجنڈا اور "آپریشن سندور" کا پس منظر

آپریشن سندور: مودی کے لیے طاقت کا ٹیسٹ کیس یا پاکستان کے لیے وارننگ؟

بی جے پی کا ہندتوا ایجنڈا اور

آفتاب اقبال ایک معروف شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی کے کئی پہلو ہیں جن میں صحافت، اسکرپٹ رائٹنگ، ہدایتکاری، ڈکومنٹری میکنگ، تحقیق، اور ٹی وی میزبانی شامل ہیں۔ انہوں نے ایک انگریزی اخبار سے بطور رپورٹر کام کا آغاز کیا، پھر کالم نگاری، ڈرامہ نگاری، ہدایتکاری اور ٹی وی شوز کی میزبانی تک کامیابیاں حاصل کیں۔ اب وہ سوشل میڈیا پر بھی بہت مقبول ہیں۔

عمران خان سے محبت کے جرم میں وہ پابندِ سلاسل بھی رہے، پھر ہجرت کر گئے — پہلے متحدہ عرب امارات اور اب برطانیہ میں سکونت اختیار کر چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے شوز کو شائقین کی بڑی تعداد دیکھتی ہے، چاہے وہ وی لاگز ہوں یا دیگر پروگرام — سبھی بے پناہ دیکھے جاتے ہیں۔

بارہ سال قبل مجھے مختصر وقت کے لیے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا، جو خوشگوار تجربہ تھا۔ آفتاب اقبال ایک وسیع المطالعہ شخصیت ہیں، جس کا اندازہ ان کی گفتگو اور "کسوٹی" جیسے پروگرام سے بھی ہوتا ہے۔

آج کل وہ تواتر سے پاک-بھارت ممکنہ جنگ کے بارے میں اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ جنگ پچھلی بار کی طرح چار روزہ جھڑپ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک طویل جنگ ہوگی۔ آفتاب اقبال کے علاوہ کچھ دوسرے صحافی بھی اس ممکنہ جنگ کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ چونکہ بھارتی ریاست بہار میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں، اس لیے مودی جنگ کی بات کر کے الیکشن جیتنا چاہتا ہے۔

میں اس خیال سے متفق نہیں ہوں۔ بھارت کی ریاستوں میں سب سے اہم ریاست اتر پردیش ہے، جہاں لوک سبھا کی 80 سیٹیں ہیں اور صوبائی اسمبلی میں 424 نشستیں۔ بھارت میں کہاوت ہے کہ "جس نے لکھنؤ جیتا، اس نے دہلی جیتا"۔ یوپی کے ریاستی انتخابات لوک سبھا کے انتخابات سے ایک سال قبل ہوتے ہیں۔

جہاں تک بہار کا تعلق ہے، وہاں ریاستی اسمبلی کی 224 اور لوک سبھا کی 40 نشستیں ہیں۔ بہار کے انتخابات اہم ضرور ہیں مگر اتنے اہم نہیں کہ ان کی وجہ سے مودی پاکستان پر حملہ کر دے۔

آفتاب اقبال کا تجزیہ مختلف ہے۔ ان کے خیال میں بی جے پی کا دس سالہ "ہوم ورک" ہے — جنوبی ایشیا میں بالادستی اور ہندتوا کے انتہا پسند خواب کی تکمیل۔ اس کے لیے "آپریشن سندور" ایک ٹیسٹ کیس تھا، جس سے مودی نے اپنی طاقت اور کمزوری کا اندازہ لگایا۔ اب وہ ستمبر میں پاکستان پر بھرپور حملہ کرے گا۔

بھارت اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت ہے۔ آفتاب اقبال کے مطابق، وہ پاکستان کے خلاف طویل جنگ جیت سکتا ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت ایسی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس لیے تین سے پانچ ہفتوں میں بھارت کی فتح ممکن ہے۔

میرا خیال کچھ مختلف ہے۔ بڑی سے بڑی معاشی طاقت بھی جنگ میں فتح کے بعد کمزور ہو جاتی ہے۔ بھارت اگر جیت بھی گیا تو شاید دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت نہ رہے۔ دنیا بھر کی سرمایہ کار کمپنیوں نے بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ کیا وہ اس ممکنہ جنگ کے بعد اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں گی؟ یہ سوالیہ نشان ہے۔

مودی پچھلے سال تیسری بار بھارت کے وزیرِاعظم بنے ہیں، مگر اس بار بی جے پی کو پچھلے دونوں انتخابات کی نسبت کم نشستیں ملی ہیں۔ ان کی حکومت اتحادیوں کی مرہونِ منت ہے۔ جنگ کے بعد معیشت کی صورتحال کیا بی جے پی کے لیے فائدہ مند ہوگی؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔

لہٰذا مجھے آفتاب اقبال کے ممکنہ جنگ کے بارے میں مؤقف سے اختلاف ہے۔ البتہ میرا علم، مطالعہ اور تجربہ آفتاب اقبال سے کم ہے۔ ہو سکتا ہے میرا یہ تجزیہ غلط ثابت ہو اور آفتاب اقبال درست نکلیں۔ دیکھتے ہیں آنے والا وقت کیا ثابت کرتا ہے۔

تحریر: حسنین جمیل

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔