خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع طالبان کے مکمل کنٹرول میں جا چکے؟

خفیہ ادارے، صحافی اور دیگر ذرائع متفق ہیں کہ ٹانک، ڈی آئی خان، وزیرستان اور لکی مروت میں حالیہ مہینوں میں تحریک طالبان پاکستان میں مقامی سطح پر کافی بھرتیاں کی گئی ہیں اور مبینہ طور پر سینکڑوں مقامی نوجوان ٹی ٹی پی اور دوسری شدت پسند تنظیموں میں شامل ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع طالبان کے مکمل کنٹرول میں جا چکے؟

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع پولیس کیلئے نوگو ایریاز بن گئے ہیں۔ شام ڈھلتے ہی کئی مقامات پر طالبان سڑکوں پر گشت کرتے اور ناکے لگاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں، جبکہ پولیس تھانوں تک محدود ہو کررہ گئی ہے اور یہ علاقہ شام سے صبح تک طالبان کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ مقامی پولیس بھی سب سے پہلے اپنی جانوں کی حفاظت یقینی بنانے پر کاربند ہے۔ اس صورت حال کے باعث رہزنی، ڈکیتی اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

حالیہ عرصے میں شدت پسند تنظیموں کے طریقہ واردات میں بھی نمایاں تبدیلی آ گئی ہے۔ وہ نئے ناموں کے ساتھ تخریبی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ پاکستان کا افغانستان پر دباؤ قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف خیبر پختونخوا حکوت نے 2251 دہشت گردوں کے سروں کی قیمت 3 ارب 31 کروڑ روپے مقرر کردی ہے۔

بنوں، شمالی و جنوبی وزیرستان، ٹانک، لکی مروت اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، گورنر فیصل کریم کنڈی اور انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات گنڈپورا کے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور نقل و حرکت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شام کے بعد انڈس ہائی وے پر سفر کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے اور بلوچستان جانے والے مسافروں کو بھی بہت سے خطرات درپیش ہیں۔ خفیہ ادارے، صحافی اور دیگر ذرائع اس بات پر متفق ہیں کہ ٹانک، ڈی آئی خان، وزیرستان اور لکی مروت میں حالیہ مہینوں میں تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) میں مقامی سطح پر کافی بھرتیاں کی گئی ہیں اور مبینہ طور پر سینکڑوں مقامی نوجوان ٹی ٹی پی اور دوسری تنظیموں میں شامل ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت ان پڑھ اور غریب نوجوانوں کی ہے تاہم کئی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بھی ٹی ٹی پی میں شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسی طرح پولیس اور دیگر اداروں کو مختلف مقدمات میں مطلوب جرائم پیشہ افراد بھی ٹولیوں کی شکل میں ٹی پی پی میں شامل ہوئے ہیں۔

محکمہ انسداد دہشت گردی ( سی ٹی ڈی) کے مطابق رواں سال صوبے میں شدت پسندوں نے پولیس اور دیگر فورسز پر 273 حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں 70 پولیس اہلکار شہید اور 91 زخمی ہو گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی نے 1400 کے قریب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کر کے 322 دہشت گردوں کو گرفتار اور 124 کو ہلاک کیا ہے۔ تاہم ان کارروائیوں کے باوجود ڈی آئی خان میں شام کے بعد طالبان ڑوب روڈ پر تحصیل داربن جانے والے علاقے سبو کے مقام پر، لکی مروت میں بعض اوقات انڈس ہائی وے پر یا رک پیزو کے مقامات پر، بنوں میں کبھی کبھار نوے اڈہ کے قریب جبکہ ٹانک میں پٹھان کوٹ، درازندہ کے علاقوں اور میران شاہ روڈ پر باقاعدہ ناکے لگاتے ہیں اور گشت کرتے دیکھے گئے ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پولیس دن کے وقت خاص چیک پوسٹوں تک محدود رہتی ہے جبکہ ضلع کے اکثر پولیس اہلکار ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی آئی ہیں کہ اب تک 50 سے زائد چھوٹے بڑے گروہوں نے ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ حافظ گُل بہادر گروپ اور ٹی ٹی پی کے درمیان بھی اتحاد ہوا ہے اور رواں سال دونوں نے 11 حملوں کی ذمہ داری مشترکہ طور پر قبول کی ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق ڈی آئی خان میں مجموعی طور پر 22 شدت پسند گروپس کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ ضلع کی تحصیل کلاچی میں موجود دونوں گنڈاپور گروپس جن میں ایک کی سربراہی فیصل گنڈاپور جبکہ دوسرے کی سربراہی مبینہ طور پر عمر خطاب کر رہے ہیں، سرائیگی گروپ (اقبال کلہاڑہ گروپ) اور ستورانی گروپ جو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر کارروائیاں کرتے ہیں، ٹی ٹی پی میں ضم ہو گئے ہیں۔ اسی طرح شمالی وزیرستان اور بنوں میں حافظ گل بہادر گروپ، جنوبی وزیرستان اور ٹانک میں ٹی ٹی پی، لکی مروت میں ٹی ٹی پی ٹیپو گل گروپ فعال ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور رپورٹس کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

خفیہ ادارے کے ایک سینیئر افسر کے مطابق ان علاقوں میں فعال شدت پسندوں کی تعداد 2500 سے 3000 کے لگ بھگ ہے۔ ڈی آئی خان میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کی آڑ میں جرائم پیشہ افراد رہزنی کرتے ہیں اور اکثر اپنے مخالفین کو قتل بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ شام کے بعد انہیں تھانوں سے نہ نکلنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شام کے بعد پولیس عام جرائم کی تفتیش کیلئے باہر جا سکتی ہے اور نا ہی کسی ملزم کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔

لکی مروت میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ضلع میں پولیس اور دیگر فورسز کے خلاف تمام کارروائیاں ٹی ٹی پی کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے شامل ہونے والے نوجوان بندوق چلانے سے زیادہ طالبان کیلئے ریکی کرتے ہیں اور انہیں کھانے کا سامان بھی پہنچاتے ہیں، اس لیے پولیس کو انہیں پہچاننے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ پولیس کے پاس نائٹ وژن گوگلز، بکتر بند گاڑیاں، بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹس کی شدید کمی ہے جبکہ انہیں صرف تھرمل کیمرے کی سہولت حاصل ہے۔

طالبانائزیشن پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی نے بتایا کہ جب افغانستان میں طالبان کی حکومت آئی اور پاکستان کا ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدہ ہوا تو پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں ہزاروں کی تعداد میں طالبان آئے جن میں زیادہ تر محسود اور مروت تھے۔ اس دوران چھپے ہوئے شدت پسند اور ان کے سہولت کار بھی منظرعام پر آ گئے اور اپنے آپ کو منظم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن ضرب غضب کے بعد حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ شدت پسندوں کا قلعہ قمع کر دیا گیا ہے مگر بعد میں آنے والے وقتوں میں ٹی ٹی پی نے منظم منصوبہ بندی کے تحت مقامی سطح پر پھر سے بھرتیاں کیں اور بڑے پیمانے پر اسلحہ خریدنا شروع کر دیا۔ اس دوران ہماری حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی اضلاع میں پولیس کے پاس طالبان کے خلاف لڑنے کیلئے اسلحہ اور دیگر ضروری ساز و سامان نہیں ہے۔

ایک اور بات مشاہدے میں آئی ہے کہ مذکورہ علاقوں میں دہشت گردی کے کئی واقعات کی ذمہ داری غیر معروف نئی تنظیموں نے قبول کی ہے جیسا کہ ایک ماہ پہلے داربن میں پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری تحریک جہاد پاکستان جبکہ گذشتہ دنوں گومل زام ڈیم سے اغوا ہونے والے مزدوروں کی ذمہ داری ایلدم بیلدم نامی تنظیم نے قبول کی ہے۔ شاید ایسا لگتا ہے کہ ٹی ٹی پی ایک سوچ کے تحت ایسا کر رہی ہے تا کہ وہ پاکستان کی طرف سے افغان حکومت پر ڈالے جانے والے دباؤ کو کم کر سکے۔ گومل زام ڈیم کے مغوی مزدوروں کی رہائی کے بدلے تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی مقامی علاقوں کو فراہم کی جائے۔

سکیورٹی امور کے ماہر اور سینیئر صحافی افتخار فردوس کے مطابق 2021 کے بعد جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو مختلف شدت پسند گروہوں نے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کا رخ کیا۔ اس دوران ان کے ساتھ کئی افغان شہری بھی آ گئے اور یہی وجہ ہے کہ اس دوران ان علاقوں میں جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ان میں سے اکثر حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تمام شدت پسند گروہ مذکورہ علاقوں میں ایک شیڈو حکومت اور اپنا بیس بنانا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گل بہادر گروہ اپنے علاقے سے نکل کر بنوں اور لکی مروت میں حملے کراتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ یہاں پہلے سے ہی عام لوگ حکومت سے ناراض ہیں اس لیے طالبان کو اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے زیادہ محنت نہیں کرتی پڑتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ پورا جنوبی پختونخوا نوگو ایریا بن گیا ہے، ان علاقوں میں پولیس اور دیگر فورسز کی موجودگی برقرار ہے تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ شدت پسند گروہ جب بھی چاہیں، کسی بھی روڈ پر ناکے لگا سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف، پولیس سربراہ اور کئی دیگر پولیس افسران سے ان کا سرکاری مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن کسی نے بھی جواب نہیں دیا۔