پیس اینڈ جسٹس نیٹ ورک پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک جامع پالیسی رپورٹ میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) میں فوری اور حقوق پر مبنی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ ترامیم اور ان کے نفاذ کے رجحانات پاکستان کے تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول میں آئینی آزادیوں، ضابطۂ کار کے تقاضوں اور جمہوری شرکت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام عوامی زندگی کا ایک اہم جزو بن چکا ہے، جہاں انٹرنیٹ صحافت، شہری شرکت، سیاسی مکالمے، تعلیم اور معاشی سرگرمیوں کے لیے کلیدی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ تاہم، واضح قانونی تعریفوں کی کمی، محدود طریقۂ کار کے تحفظات اور نفاذی اختیارات میں توسیع نے من مانی تشریحات اور ممکنہ غلط استعمال کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
اہم خدشات
پالیسی رپورٹ میں 2025 کی ترامیم کے بعد پیکا کے نفاذ سے پیدا ہونے والے متعدد قانونی اور عملی چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سیکشن 26-A کے تحت “جھوٹی یا گمراہ کن معلومات” کی وسیع اور غیر واضح تعریف شامل ہے، جس کے تحت واضح ثبوتی معیار اور تناسب کے اصولوں کے بغیر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس سے تشریحی ابہام اور نفاذ میں صوابدیدی اختیارات میں اضافہ ہوتا ہے۔
رپورٹ میں شکایت درج کرانے کے دائرہ کار میں توسیع پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جس کے تحت تیسرے فریق اور اداروں کو بھی شکایت درج کرانے کی اجازت دی گئی ہے، یوں مقدمات کے آغاز کا اختیار متاثرہ فریق سے آگے بڑھ گیا ہے۔
مزید برآں، رپورٹ کے مطابق صحافیوں، میڈیا سے وابستہ افراد، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا اور عام شہریوں کے خلاف آن لائن اظہارِ رائے کے معاملات میں فوجداری دفعات کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے اظہارِ رائے کے ممکنہ طور پر فوجداری رنگ اختیار کرنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں ایسے واقعات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں مواد بلاک کرنے، گرفتاریوں اور ایف آئی آرز کے اندراج میں مناسب ثبوتی معیار، عدالتی اجازت یا آزادانہ نظرثانی کے بغیر کارروائیاں کی گئیں، جو طریقۂ کار کے تحفظات کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔
ڈیٹا تحفظ کے قانون کی عدم موجودگی
رپورٹ میں پاکستان میں جامع پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی عدم موجودگی کو ایک اہم ساختی خلا قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پیکا تحقیقاتی اور نگرانی کے اختیارات فراہم کرتا ہے، لیکن ڈیٹا تحفظ کے مؤثر فریم ورک کے بغیر رازداری کے حقوق اور ڈیٹا گورننس مناسب تحفظ سے محروم رہتے ہیں۔
حقوق پر مبنی اصلاحات کی ضرورت
پالیسی رپورٹ ایک ایسے حقوق پر مبنی ڈیجیٹل گورننس فریم ورک کی حمایت کرتی ہے جو سائبر سیکیورٹی اور آئینی آزادیوں کے درمیان توازن قائم کرے۔ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی اور بنیادی حقوق ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ تکمیلی عناصر ہیں، جبکہ مؤثر ڈیجیٹل حکمرانی عوامی اعتماد، قانونی وضاحت اور مضبوط ادارہ جاتی احتساب پر منحصر ہوتی ہے۔
اس تناظر میں رپورٹ میں پیکا کے نفاذی ڈھانچے میں اصلاحات کی سفارش کی گئی ہے، جن میں آن لائن اظہارِ رائے سے متعلق فوجداری ذمہ داریوں کو محدود کرنا، سائبر جرائم کی واضح قانونی تعریف فراہم کرنا، اور گرفتاریوں، ایف آئی آرز اور مواد بلاک کرنے کے معاملات میں مؤثر عدالتی نگرانی کو یقینی بنانا شامل ہے تاکہ منصفانہ ٹرائل اور ضابطۂ کار کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ آزاد، شفاف اور جوابدہ ریگولیٹری ادارے قائم کیے جائیں جو انتظامی اثر و رسوخ سے محفوظ ہوں۔ اس کے ساتھ صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور شہری حلقوں کے لیے قانونی تحفظات فراہم کیے جائیں تاکہ ڈیجیٹل قوانین کے ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
رپورٹ جامع پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن قانون کے نفاذ پر بھی زور دیتی ہے تاکہ ڈیٹا گورننس کو مؤثر انداز میں منظم کیا جا سکے اور شہریوں کے رازداری کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ڈیجیٹل خواندگی اور حقیقی سائبر خطرات پر توجہ
رپورٹ میں ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ اور غلط معلومات کے تدارک کے لیے غیر فوجداری اور مشترکہ ریگولیٹری طریقۂ کار اپنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سفارش کی گئی ہے کہ قانون کے نفاذ کو حقیقی سائبر خطرات، جیسے مالیاتی دھوکہ دہی، سائبر دہشت گردی، بچوں کے استحصال اور سنگین ڈیٹا لیکس تک محدود رکھا جائے تاکہ ریاستی وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہو اور جمہوری ماحول محفوظ رہے۔
ادارہ جاتی سفارشات
رپورٹ میں پارلیمنٹ، وزارتِ انسانی حقوق، ریگولیٹری اداروں، عدلیہ اور خودمختار کمیشنز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اصلاحاتی عمل میں مربوط کردار ادا کریں۔ اس کے علاوہ مضبوط نگرانی کے نظام، آزاد اپیلیٹ ڈھانچوں اور نفاذی عمل میں شفافیت بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ قومی انسانی حقوق ایکشن پلان میں “محفوظ ڈیجیٹل معاشرہ” کے عنوان سے ایک الگ باب شامل کیا جائے تاکہ ڈیجیٹل حقوق اور شہری آزادیوں کے تحفظ کو ادارہ جاتی شکل دی جا سکے۔
نتیجہ
پالیسی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا ڈیجیٹل گورننس فریم ورک ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو موجودہ رجحانات آئینی تحفظات کو کمزور اور شہری شرکت کو محدود کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پیکا میں اصلاحات کا مقصد سائبر سیکیورٹی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ ڈیجیٹل ضابطہ کاری جمہوریت کو مضبوط کرے، بنیادی حقوق کا تحفظ کرے اور ریاست و شہریوں کے درمیان اعتماد کو فروغ دے۔ رپورٹ اب پالیسی سازوں، متعلقہ فریقوں اور عوام کے لیے دستیاب ہے تاکہ پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق سے متعلق بامعنی مکالمے کو فروغ دیا جا سکے۔