Get Alerts

ڈی ایچ کیو اسپتال وانا میں انتظامی و طبی خامیوں کا انکشاف

جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال وانا کا اچانک معائنہ، عملے کی کمی، ادویات کی قلت، صفائی کی ناقص صورتِ حال اور ایکسپائر سیفٹی سلنڈرز کی نشاندہی

ڈی ایچ کیو اسپتال وانا میں انتظامی و طبی خامیوں کا انکشاف

ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر کی ہدایت پر تحصیلدار وانا محمد ثقلین نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مرف (MERF) کے زیرِ انتظام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال وانا کا اچانک معائنہ کیا، جہاں عملے کی کمی، ضروری ادویات کی قلت، صفائی کی ناقص صورتِ حال اور بعض حفاظتی آلات کے ایکسپائر ہونے سمیت متعدد انتظامی و طبی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔

تحصیلدار محمد ثقلین نے بدھ کے روز اسپتال کے مختلف شعبہ جات، وارڈز، طبی سہولیات، صفائی ستھرائی، ادویات کی دستیابی اور عملے کی حاضری کا تفصیلی جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران بعض سیفٹی سلنڈرز ایکسپائر پائے گئے، جس پر تحصیلدار نے صورتِ حال کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔

اسپتال کے مختلف وارڈز میں عملے کی کمی بھی معائنے کے دوران نمایاں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق معائنے کے وقت میل وارڈ میں صرف ایک اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھا، جبکہ فی میل وارڈ میں بھی ایک ہی اہلکار حاضر پایا گیا۔ عملے کی کمی کے باعث مریضوں کی مناسب دیکھ بھال اور انہیں طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کی نشاندہی کی گئی۔

دورے کے دوران مریضوں اور شہریوں کی جانب سے اسپتال کے عملے کے حوالے سے شکایات بھی تحصیلدار کے سامنے پیش کی گئیں۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سٹاف ارکان ڈیوٹی کے اوقات میں موبائل فون استعمال کرتے ہیں اور مریضوں کی دیکھ بھال پر مطلوبہ توجہ نہیں دیتے۔

معائنے کے دوران ڈائیلیسز ٹیکنیشن شہزاد بھی موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پائے گئے، جس کا تحصیلدار نے نوٹس لیا اور اسے معائنے کی رپورٹ میں شامل کیا۔

اسپتال میں ادویات کی دستیابی کا جائزہ لینے پر ضروری ادویات کی شدید قلت بھی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق ادویات کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ مقامی شہری بھی اس حوالے سے متعدد شکایات کر چکے ہیں۔

اسپتال کے مختلف وارڈز میں صفائی ستھرائی کی صورتِ حال بھی تسلی بخش نہیں پائی گئی۔ معائنے کے دوران بعض مقامات پر گندگی موجود تھی اور صفائی کے مناسب انتظامات نظر نہیں آئے، جس پر اسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے معیار کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔

تحصیلدار وانا نے معائنے کے دوران عملے کی حاضری، مریضوں کی دیکھ بھال، ادویات کی دستیابی، صفائی، حفاظتی انتظامات اور اسپتال کے دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران سامنے آنے والی خامیوں، عوامی شکایات اور انتظامی مسائل کو رپورٹ کا حصہ بنایا گیا تاکہ متعلقہ حکام ان کا ازالہ کر سکیں۔

اس موقع پر سول ڈیفنس آفیسر عصمت اللہ بھی تحصیلدار محمد ثقلین کے ہمراہ موجود تھے۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے مارچ 2022 میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال وانا کا انتظام مرف (MERF) کے حوالے کیا تھا۔ اسپتال کا سالانہ بجٹ تقریباً 47 کروڑ روپے بتایا جاتا ہے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت انتظام سنبھالے جانے کے باوجود اسپتال میں بنیادی سہولیات، ادویات، صفائی اور عملے سے متعلق شکایات کا سامنے آنا مقامی شہریوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال کے دستیاب وسائل اور بجٹ کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عملے کی حاضری کی مؤثر نگرانی کی جائے اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔