Get Alerts

پاراچنار کا محاصرہ: استحصال، خاموشی اور ممکنہ حل

پارہ چنارگزشتہ 5 ماہ سے مکمل محاصرے کی حالت میں ہے، تقریباً 5 لاکھ آبادی کو نقل و حرکت، غذائی قلت، طبی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے بنیادی انسانی حقوق اور تجارتی ناکہ بندی کا سامنا ہے، مقامی شیعہ طوری اور بنگش قبائل کو جھکانے کے لئے دہشت گردی، شدت پسندی، معاشی، نفسیاتی اور سکیورٹی دباؤ کا ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان اور افغانستان سمیت نام نہاد مہذب دنیا کی مجرمانہ خاموشی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے

پاراچنار کا محاصرہ: استحصال، خاموشی اور ممکنہ حل

پاراچنار، جو قبائلی ضلع کرم کا صدر مقام ہے، گزشتہ 5 ماہ سے مکمل محاصرے کی حالت میں ہے۔ تقریباً 5 لاکھ آبادی کو نقل و حرکت، غذائی قلت، طبی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے بنیادی انسانی حقوق اور تجارتی ناکہ بندی کا سامنا ہے۔ مقامی شیعہ طوری اور بنگش قبائل کو جھکانے کے لئے دہشت گردی، شدت پسندی، معاشی، نفسیاتی اور سکیورٹی دباؤ کا ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان اور افغانستان سمیت نام نہاد مہذب دنیا کی مجرمانہ خاموشی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

یہ محاصرہ محض ایک وقتی بحران نہیں بلکہ ایک منظم استحصال کا حصہ ہے، جس کا مقصد مقامی طوری، بنگش قبائل کو مختلف حیلے بہانوں سے تنگ کرکے بغاوت پر مجبور کرنا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم اس محاصرے کے ممکنہ نتائج، عالمی حالات سے اس کا موازنہ، اور اس کے حل پر بات کریں گے۔

پاراچنار کے محاصرے کے اثرات میں انسانی بحران اور غذائی قلت سنگین خطرات بن چکے ہیں۔ پانچ لاکھ افراد کو نقل و حرکت، خوراک، دوائیوں، اور بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا گیا ہے۔ سڑکیں بند ہیں، کاروبار ختم ہو چکا ہے، اور لوگ بھوک و بیماریوں سے دوچار ہیں۔ اسپتالوں میں ادویات ختم ہو چکی ہیں، سنیکڑوں افراد ادویات کے عدم دستیابی کی وجہ سے سسک سسک کر جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ حاملہ خواتین، بزرگوں، اور بچوں کے لیے صورتحال سب سے زیادہ خطرناک ہو چکی ہے۔ جبکہ دہشتگردانہ کارروایئوں میں سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، مقامی قبائل خوارج کی مدد سے قومی شاہراہ پر قابض ہیں، ٹل۔ پارچنار قومی شاہراہ پر کانوائے میں قتل درجنوں افراد بشمول بچے اور خواتین شامل ہیں اور مسافروں کے سر کاٹ دیئے گئے ہیں جو لوئر کرم بگن سے لیکر صدہ شہر تک قومی شاہراہ پر قابض بیٹھے ہیں۔

کانوائے کے نام پر ایک طرف لوگوں کو ذلیل کیا جارہا ہے وہاں بعض نام نہاد تاجر ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہیں اور مہنگے داموں اشیاء فروخت کررہے ہیں جو عام عوام کے پہنچ سے دور ہیں۔

ضلع کرم کے طوری،بنگش قبائل کا اقتصادی استحصال کیا جا رہا ہے

پاراچنار کی معیشت زراعت، تجارت، پاک افغان بارڈر تجارت، لاکھوں بیرون ملک مقیم افراد اور مقامی منڈیوں پر مبنی ہے۔ محاصرے کے باعث بیرون ملک مقیم سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جو نہ پاراچنار جا سکتے ہیں اور جو پاراچنار گئے ہیں وہ ہزاروں افراد واپس نہیں آسکتے، ویزے ختم ہوئے ہیں۔

پاک افغان بارڈر بند اور تجارت ختم ہوئی ہے

محاصرے ست مقامی کاشتکار اپنی پیداوار فروخت نہیں کر سکتے، اور روزمرہ اشیاء ناپید ہیں، جو مل رہی ہیں تو قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ طوری بنگش قبائل کی اقتصادی خودمختاری ختم کر دی جائے۔

طوری بنگش قبائل پر روز بروز سیاسی و سماجی دباؤ بڑھایا جارہا ہے

پاراچنار کے محاصرے کا مقصد صرف معیشت کو تباہ کرنا نہیں بلکہ مقامی شیعہ آبادی کو سیاسی طور پر کمزور کرنا اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا ہے۔ مقامی اہل سنت قبائل کو بطور ہتھیار استعمال کرکے شیعہ قبائل کو جھکانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی بار طوری بنگش قبائل کو عسکری و اقتصادی دباؤ کے ذریعے ان کی مزاحمت ختم کرنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں، لیکن وہ ہمیشہ کامیاب رہے، اس دفعہ بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔

حکومت پاکستان اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی معنی خیز ہے

پانچ ماہ گزر چکے ہیں، مگر پاکستانی حکومت نے کوئی سنجیدہ ایکشن نہیں لیا۔ نہ ہی عالمی میڈیا اس بحران کو وہ توجہ دے رہا ہے جو فلسطین یا یوکرین جیسے بحرانوں کو دی جاتی ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس محاصرے کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جاری رکھا جا رہا ہے۔

پاراچنار کے محاصرے کا ممکنہ حل

1. بین الاقوامی سطح پر مسئلہ اجاگر کرنا

 • عالمی میڈیا میں اس مسئلے کو فلسطین اور دیگر انسانی بحرانوں کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جانا چاہیے۔

 • اقوامِ متحدہ، او آئی سی، اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سوشل میڈیا، بین الاقوامی اخبارات، اور سول سوسائٹی کو متحرک کیا جائے۔

 • پاکستانی اور عالمی شیعہ برادری کو چاہیے کہ اس مسئلے کو عالمی فورمز پر اٹھائیں تاکہ دباؤ بڑھایا جا سکے۔

 2. مقامی اقتصادی خودمختاری کی بحالی

 • اگر محاصرہ برقرار رہتا ہے تو متبادل اقتصادی نظام پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جیسے مقامی سطح پر خوراک اور بنیادی اشیاء کی پیداوار کو بڑھایا جائے۔

 • افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے کھولنے پر زور دیا جائے تاکہ مقامی معیشت آزاد ہو سکے۔

 • مقامی سرمایہ دار اور کاروباری حضرات اپنی کمیونٹی کے لیے ریلیف فراہم کریں۔

3. قبائلی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی

 • اہل سنت اور اہل تشیع قبائل کے درمیان امن معاہدے اور مذاکرات کو فروغ دیا جائے، تاکہ حکومت اور دیگر طاقتور حلقے استحصالی سیاست کے لیے فرقہ واریت کو استعمال نہ کر سکیں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد، پشاور اور کوہاٹ میں جرگے ہوچکے ہیں جس میں اعتماد کی بحالی ممکن نظر نہیں آرہی، لہذا قبائل کو چاہیئے کہ بگن پر مشترکہ جرگہ کرکے گلے شکوے ختم کرے، جو پختون روایات کے مطابق ہوں، اور حکومت بگن بازار بحالی اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔

 4. حکومتی اور عدالتی سطح پر دباؤ

 • پاکستانی حکومت پر یہ دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ اس محاصرے کو ختم کرائے، کیونکہ یہ آئینی، انسانی اور اخلاقی لحاظ سے ناقابلِ قبول ہے۔

 • سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں اس معاملے پر درخواست دائر کی جائے، تاکہ قانونی طریقے سے بھی دباؤ ڈالا جا سکے۔

پاراچنار کا محاصرہ صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی طاقتوں کی استحصالی پالیسیوں اور ریاستی بے حسی کا ایک اور مظہر ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ محاصرہ شدت اختیار کر سکتا ہے، اور پاراچنار کو مکمل اقتصادی، سماجی اور جغرافیائی طور پر تباہ کیا جا سکتا ہے۔

لہٰذا، اس وقت سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کیا جائے، مقامی خودمختاری کو مضبوط کیا جائے، اور ریاست کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی مجرمانہ خاموشی ختم کرے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا، تو تاریخ ہمیں اسی طرح یاد رکھے گی جیسے وہ آج فلسطینیوں، کشمیریوں، اور کانگو کے مظلوم قبائل کو یاد رکھتی ہے—بطور وہ قومیں جنہیں دبانے اور مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، مگر وہ پھر بھی زندہ رہیں۔وادئ کرم طوری بنگش اقوام کا سینکڑوں سال سے مسکن ہے اور رہے گا۔

احمد طوری سماجی کارکن اور بلاگر ہیں۔