• ہمارے بارے میں
  • آن لائن اشتہاری ٹیرف
  • ہمارے لئے لکھیں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • نیا دور انگریزی
Sat, October 10, 2026
main logo
Font
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • تجزیہ
  • ویڈیوز
  • میگزین
  • فیچر
  • عوام کی آواز
  • Naya Daur English
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • تجزیہ
  • ویڈیوز
  • میگزین
  • فیچر
  • عوام کی آواز
  • Naya Daur English

Get Alerts

شامی کرد کون ہیں؟

  • 02:48 PM, 10 Oct, 2019
  • بین الاقوامی, خبریں
  • نیا دور
شامی کرد کون ہیں؟
شیئر کریں:

 کرد پانچ ملکوں، شام، ترکی، عراق، ایران، اور آرمینیا کے پہاڑوں میں بستے ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ کے نسلی گروہوں میں آبادی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہیں لیکن ان کی کوئی ریاست نہیں ہے۔


حالیہ عشروں میں علاقائی حالات نےدنیا کی توجہ کردوں پر مرکوز کر دی ہے۔ کہیں تو وہ ترکی سے علیحدگی کے لیے لڑ رہے ہیں اور کہیں وہ شام میں اسلامی خلافت کے بڑھتے ہوئے اثر کے خلاف دیوار بنے ہوئے ہیں۔

کرد قوم اپنی جداگانہ زبان اور ثقافت کی حامل ہے لیکن اس کے پاس کوئی ملک نہیں ہے۔ ان کی مجموعی تعداد پچیس سے پینتیس ملین کے درمیان بنتی ہے۔ کئی ملکوں میں ان کی وطن کے حصول کی تحریکوں کو جبر کے ساتھ دبا دیا گیا۔


 ترکی کو کردوں کی علیحدگی پسندی کی ایک مضبوط تحریک کا سامنا ہے۔ اسی طرح شام میں بھی کرد مسلح باغیوں کو امریکی حمایت حاصل ہے اور ان کے عسکری گروپ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کو جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جاری بھرپور عسکری کارروائیوں میں امریکی فضائی تعاون بھی حاصل ہے۔ ترکی کو اس صورت حال پر بھی تشویش ہے۔


چار ملکوں میں پھیلے ہوئے کرد بےگھری کا شکار ہیں


کرد بنیادی طور پر پہاڑی علاقوں کے مکین تصور کیے جاتے ہیں اور یہ تقریباً نصف ملین مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کئی مقامات پر ان کی آبادی کا تناسب 100 فیصد کے قریب ہے۔ یہ جنوبی ترکی سے شمالی شام اور عراق کے علاوہ ایران تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ترکی میں مجموعی آبادی کا یہ بیس فیصد (بارہ سے پندرہ ملین) ہیں جب کہ عراق میں ملکی آبادی کا پندرہ فیصد سے زائد (سینتالیس لاکھ) ہیں۔ شام میں کل آبادی کا پندرہ فیصد (بیس لاکھ سے زائد) ہیں اور ایران میں یہ کل آبادی میں دس فیصد سے کم (ساٹھ لاکھ) ہیں۔ کردوں کی ایک بڑی آبادی آرمینیا، آذربائیجان، جرمنی اور لبنان میں بھی آباد ہے۔

آبادی کے اس تناظر میں کرد عوام کے اتحاد کو مختلف ممالک ایک بڑے خطرے کے طور پر لیتے ہیں۔ ترکی میں کردستان ورکرز پارٹی کو خلاف قانون قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے لیڈر عبداللہ اوجلان ترکی کے ایک جزیرے پر قائم انتہائی سخت سکیورٹی کی جیل میں قید ہیں۔ اس پارٹی کو یورپی یونین اور امریکا بھی دہشت گرد گروپوں میں شمار کرتا ہے۔

فوجی آپریشن کا آغاز


ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ’’ترکی کی مسلح افواج اور شامی قومی فوج (جیش الحر) نے شام کے شمال میں ’آپریشن بہار امن‘ کا آغاز کردیا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اس فوجی کارروائی میں شمالی شام میں کرد جنگجوؤں اور داعش کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد پر دہشت گردی کی راہداری کو قائم ہونے سے روکنا اورعلاقے میں امن کا قیام ہے۔‘‘ ترکی کے ایک سکیورٹی عہدہ دار نے بتایا کہ فضائی حملوں سے اس آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے اور توپ خانے سے اس کی مدد کی جائے گی۔

دوسری جانب شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے کہا ہے کہ ’’ترکی کے لڑاکا طیاروں نے شہری علاقوں پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔‘‘

شام کے سرکاری میڈیا اور ایک کرد عہدیدار نے الگ سے بتایا کہ فضائی بمباری میں ترکی کی سرحد کے ساتھ شام کے شمال مشرق میں واقع قصبے راس العین کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔




 


ٹیگز: ترکی کا شام پر حملہ, شامی کرد
شیئر کریں:

نیا دور

تازہ ترین

بلوچستان: رشتہ داروں کی جانب سے مردوں کے بعد کیمروں کے سامنے خواتین سے ...

  • 12:09 AM, 4 Oct, 2026

پاکستان میں فیلڈ جرنلزم: خبر ضروری، صحافی کی جان نہیں؟

  • 11:55 PM, 30 Sep, 2026

نئے صوبے، پرانے مسائل: سندھ میں اختیارات کی اصل بحث

  • 12:15 AM, 30 Sep, 2026

جب علاج بیماری سے بڑا خطرہ بن جائے

  • 10:14 PM, 26 Sep, 2026

ون ڈے کرکٹ کا مستقبل: تین ملکی سیریز سے نئی زندگی کی کوشش

  • 10:05 PM, 26 Sep, 2026

متعلقہ خبریں

امریکی افواج کی واپسی، ترکی نے شامی کرد علاقوں میں زمینی آپریشن شروع کر دیا

  • 09:21 AM, 10 Oct, 2019

ترکی اب مزید شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کی سکت نہیں رکھتا، نائب صدر

  • 02:40 PM, 7 Sep, 2019

ترکی میں طیب اردوان کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے پیچھے امریکا تھا: ترکی

  • 01:10 PM, 5 Feb, 2021

ایک قاضی فائز عیسیٰ گیا تو لائن لگ جائے، علی احمد کرد

  • 02:06 PM, 14 Dec, 2019

علی احمد کرد نے چیف جسٹس کے سامنے پاکستانی عدلیہ کا پوسٹ مارٹم کر دیا

  • 12:28 PM, 20 Nov, 2021

ایڈیٹر کی پسند

پاکستان میں فیلڈ جرنلزم: خبر ضروری، صحافی کی جان نہیں؟

  • 11:55 PM, 30 Sep, 2026

کراچی کی رہائشی مکانیت، تجارتی تبدیلی اور شہری منصوبہ بندی کا ایک خطرناک ...

  • 11:31 PM, 15 Sep, 2026

صحافی کو تھانے بلا کر جیل پہنچا دیا گیا! پیکا کالا قانون

  • 11:05 PM, 28 Aug, 2026

فراز — جنہوں نے زمانوں کو دیوانہ بنایا

  • 11:56 PM, 22 Aug, 2026

مودودی اور قیامِ پاکستان: ’ناپاکستان‘ سے اسلامی ریاست تک

  • 11:05 PM, 15 Aug, 2026

میگزین

کلاسیکی موسیقی کا آخری منظر

  • 09:58 PM, 26 Sep, 2026

مٹھاس کا وعدہ، کڑوی حقیقت

  • 11:13 PM, 16 Sep, 2026

ان سے ملی نظر کہ میرے ہوش اُڑ گئے -- ایک ممنوعہ متن

  • 11:24 PM, 28 Aug, 2026

پاکستان کیوں بنا؟ جناح، ہندو مسلم دشمنی اور تقسیم کی اصل کہانی

  • 11:46 PM, 27 Aug, 2026

سفرِ ناتمام (6): گاؤں کا میلہ

  • 11:32 PM, 15 Aug, 2026

مصنف

بلوچستان: رشتہ داروں کی جانب سے مردوں کے بعد کیمروں کے سامنے خواتین سے ...

12:09 AM, 4 Oct, 2026
گہرام اسلم بلوچ

پاکستان میں فیلڈ جرنلزم: خبر ضروری، صحافی کی جان نہیں؟

11:55 PM, 30 Sep, 2026
ڈاکٹر جاوید ملک

نئے صوبے، پرانے مسائل: سندھ میں اختیارات کی اصل بحث

12:15 AM, 30 Sep, 2026
محمد توحید

جب علاج بیماری سے بڑا خطرہ بن جائے

10:14 PM, 26 Sep, 2026
احتشام اعجاز بھلی

ون ڈے کرکٹ کا مستقبل: تین ملکی سیریز سے نئی زندگی کی کوشش

10:05 PM, 26 Sep, 2026
حسنین جمیل

نیوز لیٹر

Test
Live

  • ہمارے بارے میں
  • آن لائن اشتہاری ٹیرف
  • ہمارے لئے لکھیں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
Sat, October 10, 2026

COPYRIGHT 2026. ALL RIGHTS RESERVED.

publishrr News CMS by bramerz