Get Alerts

مراد سعید کی دزدِ نیم شب کا رقیب، طاقتوروں کے خلاف ایک نوجوان کی للکار

مراد سعید کا قصور یہ ہے کہ وہ طاقتوروں سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ اس ملک کے اصل مالک عوام ہیں اور میں ان کا نمائندہ ہوں، اور یہ ملک میرے عوام کی منشا کے مطابق چلے گا۔ اسے کوئی سرکاری ملازم بندوق کی طاقت سے نہیں چلا سکتا۔

مراد سعید کی دزدِ نیم شب کا رقیب، طاقتوروں کے خلاف ایک نوجوان کی للکار

دزد نیم شب کا رقیب جوان کار سیاستکار مراد سعید کی کتاب کا نام ہے۔ کتاب کا عنوان بہت ہی شاندار ہے۔ یہ ایک پشتو بولنے والے کا اردو زبان و ادب سے اظہارِ عقیدت ہے اور بتاتا ہے کہ اردو قومی یکجہتی کی علامت کس طرح پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان ہر جگہ بولی، پڑھی اور سمجھی جاتی ہے۔

دزد نیم شب کا مطلب ہوتا ہے آدھی رات کا چور، اور جو اس چور کو چوری سے روکے تو وہ دزدِ نیم شب کا رقیب ہے، اس کتاب میں مراد سعید نے خود کو اور اپنی جماعت کی تحریک کو یہی ' دزدِ نیم شب کا رقیب' کے طور پر پیش کیا ہے۔

صحافی اسد اللہ خان کے مطابق مراد سعید ان جوان کار سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جو اردو زبان و ادب کے دلدادہ ہیں۔ دورانِ وزارت بھی ادبی محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔ اس کتاب کے ابواب کے نام بھی اردو شاعری کی غزلوں کے مصرعوں پر رکھے گئے ہیں۔

یہ کتاب مراد سعید نے دورانِ روپوشی لکھی ہے۔ کیسے ایک قوم پرست محبِ وطن نوجوان کو ریاست کا باغی قرار دے دیا گیا۔ ایک طالب علم رہنما جو جواں سالی میں ہی سیاست میں آتا ہے اور سوات سے رکنِ قومی اسمبلی بن جاتا ہے، پھر پانچ سال بعد دوبارہ منتخب ہوتا ہے اور وفاقی وزیر بن جاتا ہے۔

ایک مڈل کلاس کا نوجوان جو عمران خان کا نظریاتی سپاہی ہے، وہ ریاست کے لیے کیوں قابلِ قبول نہیں رہا؟ وجہ صرف 9 مئی کے احتجاج نہیں بلکہ اس سے بھی پہلے کے واقعات ہیں۔

مراد سعید کا قصور یہ ہے کہ وہ طاقتوروں سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ اس ملک کے اصل مالک عوام ہیں اور میں ان کا نمائندہ ہوں، اور یہ ملک میرے عوام کی منشا کے مطابق چلے گا۔ اسے کوئی سرکاری ملازم بندوق کی طاقت سے نہیں چلا سکتا۔

2008 کے سوات آپریشن میں جو کچھ ریاست نے وہاں کے عوام کے ساتھ کیا، وہ دردناک واقعات اس کتاب میں قلم بند ہیں۔ پہلے صوفی محمد اور ملا ریڈیو جیسے کرداروں کی سیاہ کاریوں پر ریاست آنکھیں موند کر انجان بنی رہی، پھر جب فوجی آپریشن ہوتا ہے تو کیسے گناہ گار کے ساتھ بے گناہ بھی مارے جاتے ہیں۔

مراد سعید کے گھر پر گولہ باری، اس کی والدہ اور بہنوں کا خون کس کے گلے پر ہے؟ یہ سب اس کتاب میں درج ہے۔

کیسے مراد سعید اور سہیل آفریدی جیسے محبِ وطن جوان کار صرف اربابِ اختیار سے ہی سوال کرتے ہیں کہ جب تک مقامی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے کر فوجی آپریشن نہیں ہوگا تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔

اور پھر پاکستان میں آپریشن رجیم چینج کی کہانی، کہ کیسے ایک تیسرے درجے کے امریکی سفارت کار کے مراسلے پر سپہ سالار نے اپنی نگرانی میں عمران خان کی حکومت کو ختم کیا۔

کیسے ہیئتِ مقتدرہ مراد سعید کی وزارت میں دخل اندازی کرتی ہے کہ یہ اپنی طرز کا واحد وزیر ہے جس پر اعتراض یہ ہے کہ وہ سستی سڑکیں کیوں بنا رہا ہے، طاقتوروں کی من پسند تعمیراتی کمپنیوں کو ٹھیکے کیوں نہیں مل رہے۔

کتاب میں مراد سعید ایک عوامی جنگ لڑتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ عوام کی طاقت عوام کے ہاتھ میں دینا چاہتا ہے۔ اس کو طاقتوروں سے سرِ عام یہ دھمکی مل جاتی ہے کہ تم کو ڈی چوک میں لٹکا دیا جائے گا اور نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔

طاقتور کہتے ہیں، کون ہے یہ گستاخ جو یہ نعرۂ مستانہ بلند کر رہا ہے:

“اب راج کرے گی خلقِ خدا۔”

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ خلقِ خدا کی منشا تو ہمارے بوٹوں تلے دب جاتی ہے۔ ہوتا وہی ہے جو ہم چاہتے ہیں۔

یہ نوجوان اس کا پیروکار ہے جو ہر جگہ شلوار قمیض اور پشاوری چپل پہن کر “Absolutely Not” کہتا پھر رہا ہے۔ اسے پسِ زنداں ہی رہنے دو اور مراد سعید جیسے غریب الوطن ہی مارے جائیں۔ ان کے باغی قدم اس زمین پر دوبارہ نہ پڑیں۔

یہ تو لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، عوام کو سوال کرنے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ہمیں شہری نہیں، رعایا چاہیے جن پر ہم فارم 47 کے حکمران مسلط رکھیں۔

مراد سعید کی کتاب ہر سیاسی کارکن اور صحافی کو ضرور پڑھنی چاہیے۔ بے شک آپ ان کے نظریات سے متفق نہ ہوں، مگر ایک بار ایک مڈل کلاس جوان کار سیاست دان کی جدوجہد کا مطالعہ ضرور کریں۔

اور عمران خان کو بھی خراجِ تحسین پیش کریں جس نے روایتی سیاسی خاندانوں کی بجائے ایک مڈل کلاس طالب علم رہنما کو وفاقی وزیر بنا دیا۔

واقعی عمران خان ایک ہارے ہوئے لشکر کا دلیر قائد تھا۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔