Get Alerts

پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ میں بڑھتی عوامی تحریک، نتائج کیا ہونگے؟

افطار ڈنر پر جب ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے وفود کے درمیان پی ایم ہاؤس میں ملاقات ہوئی تو بلاول بھٹو نے یہ بات وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے رکھی، کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف نے جواب میں کہا کہ ”آپ کو معلوم ہے کہ یہ پروجیکٹ کس کا ہے، آپ ان سے بات کریں“میں تو کچھ نہیں کرسکتا، ظاہر ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا، کیونکہ یہ حقیت سب پر عیاں ہے کہ اگر آصف علی زرداری کو کینالوں کے معاملے پر اعتراضات تھے تو انہوں نے 8 جولائی 2024 کو گرین انیشیئٹوَ کے اجلاس کے سامنے کیوں نہ رکھے، جبکہ وہ خود اس اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، اب کیونکہ آصف علی زرداری مجبور ہوچکے ہیں اور انہیں بتایا گیا کہ سندھ میں عام لوگوں کی تحریک اتنی بڑھ گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر یا کسی تقریب میں کینال منصوبے کی اگر پیپلزپارٹی کے نیریٹوَ کو بیان کرنے کی بات کرے تو لوگ چڑھ دوڑتے ہیں

پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ میں بڑھتی عوامی تحریک، نتائج کیا ہونگے؟

 سندھ میں گذشتہ کافی دنوں سے  دریائے سندھ کے پانی کے حصے سے چولستان سمیت مختلف کینال نکالنے کے خلاف جو احتجاجی مظاہرے  جاری تھے، اب بڑھتے بڑھتے ایک عوامی تحریک  میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی ان مظاہروں میں نظر آنے والے غصے سے گھبراہٹ سمجھ میں آتی  ہے۔

سندھ میں گذشتہ ڈیڑھ دھائی سے پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت، جس نے پورے سیاسی اور انتظامی  کلچر کے  اندر بدعنوانی کا زہر گھول دیاہے، جس کا  شکار براہ راست عام آدمی  ہوا ہے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن سے لے کر  کوئی ایسا ادارہ  نہیں، جہاں  بغیر پیسے کے لوگوں کے جائز کام ہوتے ہوں، یہ ہی سبب تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہوا یہ  غصہ ایک ایسے دھماکے کی  صورت باہر آگیا ہے۔ کینالوں والے معاملے نے اس لاوے کو باہر نکالنے  میں اہم کردار ادا کیا ہے۔کیونکہ سندھ کے لوگوں کا یقین ہے کہ یہ منصوبے پیپلزپارٹی کی  حمایت کے بغیر نہیں بن سکتے تھے۔

 اب سندھ میں یہ صورتحال یہ ہے کہ، سیاسی جماعتیں، وکلا، عام سرکاری ملازم، یونیورسٹیز کے طلباء، پرائمری اور سیکنڈری سکولوں  سے لے کر عام شہریوں تک سندھ کے شہر شہر کی سڑکوں پر ” زرداری تو ساں جھیڑو آ“کے نعروں سے گونج رہے ہیں۔ ایک ایسی عوامی  جدوجہد، جس میں ٹوٹی چپل پہنے لوگ دھول اڑاتے۔ نعرے مارتے نظر آتے ہیں۔

 دوسری جانب پیپلزپارٹی، جو  اب سکڑ کر سندھ تک محدود ہوکر رہ گئی، اس معاملے پر دفاعی پوزیشن میں چلی گئی  ہے۔سوشل میڈیا پر کینالوں کے خلاف چلنے والی مہم کے بڑھتے دباؤ  نے اس کی سیاسی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ درباریت کا مزا لینے  والی پارٹی قیادت کے سامنے اس کے رہنما تمام حقائق کھل کر سامنے نہیں رکھتے، لیکن اس کے باوجود وہ اس شو کو  ” آتش فشاں“ضرور کہہ رہے ہیں۔قیام پاکستان کے بعد   سندھ اگر تاریخ اٹھاکر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ   مسلسل جدوجہد میں ہے، کبھی کبھی درمیان میں وقفے آجاتے ہیں لیکن اپنے بنیادی معاشی مسائل کیخلاف ان کی جدوجہد چلتی رہتی ہے۔

 بھٹو صاحب والے پاکستان کی ہی بات کریں، تو ان کی شہادت کے بعد سندھ، ضیاالحق کے 11سالہ دور میں مسلسل جبر و جدوجہد میں رہا۔ بحالی ء جمہوریت کی تحریک( ایم آر ڈی) کے دوران سندھ میں جو فوجی آپریشن ہوئے، اس میں سیاسی کارکنوں کو قتل کیا گیا۔ ضیاالحق نے پیپلزپارٹی کے متبادل پیدا کرنے کیلئے نئی سیاسی قوتیں پیدا کیں، جنہوں نے اس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سندھ کو یہ  صدمہ  تھا کہ  کارونجھر سے  لے کر  کشمیر تک ان کی تاریخ کا پہلا وزیراعظم سپریم کورٹ کے ذریعے پھانسی گھاٹ تک پہنچایا  گیا۔ اس سلوک نے  سندھ میں اس احساس  اور سچائی کو مزید تقویت دی کہ ریاست پاکستان ان کے ساتھ  برابری کا سلوک نہیں کر رہی۔

بعد کے سالوں میں سب سے بڑے ایشوز میں پانی کے معاملات اور سندھ کی تقسیم کے حوالے سے بار بار سامنے آنے والے مطالبات نے سندھ میں غصے کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ یہ مطالبات ان قوتوں کی طرف سے آتے رہے، جن کے بارے میں عام آدمی کو یقین تھا کہ یہ سٹیبلشمنٹ کی سیاسی فورسز ہیں، خصوصاَ مشرف دور میں۔بعد میں سندھ میں پیپلزپارٹی کی جانب سے صوبائی  اسمبلی سے پاس کرائے گئے دوھرے بلدیاتی نظام کے قانون کے خلاف  یا اس سے پہلے کالاباغ ڈیم منصوبے کی تعمیر کے خلاف احتجاج، سندھ کی حالیہ  تاریخ میں سیاسی  جدوجہد کی کامیابیوں کی  ایک شاندار مثال کے طور پر گنوائے  جاسکتے ہیں۔

پیپلزپارٹی، جس نے سندھ میں سندھی قوم پرستوں کا کردار بھی خود ادا کرنا شروع کردیا تھا، تاکہ چھوٹے موٹے  پریشر گروپ سے بھی چھٹکارہ حاصل کرلیا جائے، اس کوشش میں ایم کیو ایم کے سیاسی بیانئے کو پیپلزپارٹی نے نہ صرف کیش کرایا بلکہ اپنی ناقص گورننس بھی اس کے پیچھے چھپاتی رہی، اور وہ اس کوشش میں کافی کامیاب بھی رہی۔ لیکن کینالوں کے معاملے پر اب وہ بالکل اکیلی رہ گئی ہے، اس کے  حامیوں یا لیڈروں کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں کہ وہ اس منصوبے کا دفاع یا مخالفت کرسکیں۔ دفاع سے مراد یہ ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں صدر آصف علی زرداری کو گذشتہ برس ایوان صدر میں ایک مکمل بریفنگ دی گئی تھی۔

 8 جولائی کو یہ  اجلاس ہوا اور 9 کو ایوان صدر کی  جانب سے جاری کی گئی  پریس ریلیز اخبارات میں شائع ہوئی۔گرین انیشیئٹوَ پاکستان کے ان منصوبوں کے بارے میں صدر نے نہ صرف ان کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، بلکہ ایک تجویز یہ بھی دی کہ ایک ”اسٹیٹ لینڈ بنک“ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے، تاکہ سرکاری  زمینیں ان منصوبوں کے  ذریعے کاشت کی جائیں۔

اس وقت، سندھ کے باقی سیاسی حلقے اس پر پریشان رہے، کیونکہ یہ منصوبہ ، گرین انیشییئٹوَ پاکستان کا تھا، اور اس کا پاکستان کی فوج سے براہ راست تعلق تھا، اس لیے اس پر زیادہ آوازیں نہیں اُٹھ رہی تھیں، لیکن سندھ کی  باقی سیاسی  قیادت کو تب پتہ چلا، جب انہیں معلوم ہوا کہ”چولستان منصوبے پر تو کام ایک بڑے عرصے سے جاری ہے“۔ سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ اور سائیں جی ایم سید کے پوتے سید زین شاہ اسلام آباد آئے ، انہوں نے یہ بات کہی تھی، جب وہ اس پروجیکٹ کو دیکھ کر آئے تھے۔ ان کے اسلام آباد آنے کا مقصد  نیشنل  میڈیا کے سامنے دریائے  سندھ سے نکالے جانے والے کینالوں کے اشوز پر سندھ کے تحفظات سے آگاہ کرنا تھا۔ انہوں نے اسلام آباد میں ایک کانفرنس کا انعقاد بھی کیا  اور پریس کانفرنس بھی کی، لیکن کیونکہ نہ وفاقی  سطح پر سید زین شاہ اتنے پاپولر تھے اور نہ اس اہم اور حساس معاملے کو شعوری طور سمجھنے کی کبھی کسی نے کوشش کی، لہذا یہ ساری کوشش نہ جنگل  میں مور ناچا لیکن دیکھا کسی نے نہیں۔ ایک سبب شاید یہ بھی تھا کہ ان کے نام کے ساتھ ، جی ایم سید جڑا تھا، اس لیے ویسے بھی خوف زیادہ ہی تھا۔

 نیشنل میڈیا کے  اندر موجود ایک بڑی اکثریت کے ذہنوں میں ایک تاثر سرائیت کرگیا ہے کہ دریائے سندھ  کا پانی سمندر میں ضایع ہوجاتا ہے، اس لیے یہ  پانی  نئے ڈیم بناکر اس میں محفوظ کیا جائے۔ دوسرا تاثر یہ ہے کہ پانی  ذخائر کے منصوبوں  کی  تعمیر کے خلاف سندھ اس لیے مخالفت کرتا ہے، کیونکہ اس کے  پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے،اسلام آباد میں تو میں نے بہت سارے صحافیوں کو خود کہتے سنا ہے۔

زین شاہ کے بعد قومی  عوامی تحریک نے اسلام آباد میں ایک کامیاب کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں ماہرین نے کینالوں کی  تعمیر کے  نقصانات اور اس کے  سیاسی  اثرات کے  بارے میں کھل کر بات کی۔ لیکن اس کانفرنس کو جتنی پذیرائی  ملنی  چاہیئے تھی وہ نہیں ملی۔اب جب سندھ میں   کینالوں کے خلاف مظاہرے  پر امن عوامی  تحریک میں تبدیل ہوچکے ہیں، پیپلزپارٹی کو شدید پریشانی نے گھیرا ہوا ہے۔ اسے فی الحال تو اس بات کی فکر نہیں کہ اس عوامی تحریک کے  نتیجے میں کوئی ایک نئی سیاسی قوت بن کر سامنے آئے گی، لیکن عوامی غصے کو ایک ہی صورت میں ختم یا کم کیا جاسکتا ہے کہ وفاقی حکومت ان منصوبوں کے خاتمے کا اعلان کرے، یا مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرکے اس منصوبے پر بات کی جائے۔

 صدر زرداری  کے پارلیمنٹ کے مشترکہ  اجلاس سے خطاب میں کینالوں کے معاملے پر بات کرنے کے  بعد اسی  شام افطار ڈنر پر جب ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے  وفود کے درمیان جب پی ایم ہاؤس میں ملاقات ہوئی  تو بلاول بھٹو نے یہ  بات وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے رکھی۔

 کہا  جاتا ہے کہ  شہباز شریف نے جواب میں کہا کہ ”آپ کو معلوم ہے کہ یہ پروجیکٹ کس کا ہے، آپ ان سے بات کریں“میں تو کچھ نہیں کرسکتا۔ ظاہر ہے کہ  بلاول بھٹو زرداری کے پاس اس کا کوئی  جواب نہیں تھا، کیونکہ یہ حقیت سب پر عیاں ہے کہ  اگر آصف علی  زرداری کو کینالوں کے معاملے پر اعتراضات تھے تو انہوں نے 8 جولائی 2024  کو گرین انیشیئٹوَ کے اجلاس کے سامنے کیوں نہ رکھے، جبکہ وہ خود  اس اجلاس کی  صدارت کر رہے تھے۔ اب کیونکہ آصف علی  زرداری مجبور  ہوچکے  ہیں   اور انہیں بتایا گیا کہ سندھ میں عام لوگوں کی  تحریک اتنی  بڑھ گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر یا کسی تقریب  میں کینال منصوبے  کی  اگر پیپلزپارٹی کے نیریٹوَ کو بیان کرنے کی بات کرے تو لوگ چڑھ دوڑتے ہیں۔

سندھ میں  پیپلزپارٹی اس سیاسی دباؤ سے کیسے نکلے گی؟ کیا اسٹیبلشمنیٹ اس سیاسی دباؤ سے پیپلزپارٹی  کو نکالنے کیلئے اس کی  کوئی  مدد کرے گی؟ تاحال ان 2 سوالوں کے جوابات کو ڈھونڈنے کیلئے پیپلزپارٹی سر جوڑ کر بیٹھی  ہے ، لیکن کہیں سے جواب نہیں مل رہا۔ ن لیگ سمجھتی ہے کہ پوری سیاست قربان کردی، پیپلزپارٹی آئینی عہدے  لے کر مزے کر رہی ہےاور عوام کا غصہ ہمیں اٹھانا پڑ رہا ہے اب تھوڑا مزا پیپلزپارٹی بھی لے۔”سارے آئینی  عہدے وہ لیں  اور گالیاں ہم کھائیں،اتنے بھی سادہ نہیں“ن لیگ کے ایک لیڈر سے جب میں نے پوچھا کہ ”آپ پیپلزپارٹی کو سندھ میں کیوں ریسکیو کرنے میں مدد  نہیں کرتے“ انہوں نے مجھے  یہی جواب دیا تھا۔

مصنف اسلام آباد میں مقیم سینیئر سیاسی رپورٹر ہیں۔ ملکی سیاست پر ان کے مضامین و تجزیے مختلف ویب سائٹس اور اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔