جمیلہ ہاشمی بلاشبہ اردو ادب کا ایک معتبر نام ہیں، جنہیں اردو ادب میں ان کے چھپے ہوئے پہلے ناول آتشِ رفتہ—جسے 1961 میں آدم جی ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا—نے اردو ادیبوں میں بلند مرتبے پر فائز کیا۔ یہ بھی ایک المیہ رہا کہ ان کے لازوال ناول دشتِ سوس کے علاوہ باقی کتابیں تقریباً ناپیدِ طباعت رہیں۔ اردو ادب ان کی بیٹی عائشہ صدیقہ—جو کہ ہمارے ملک کی مایہ ناز سیاسی تجزیہ کار ہیں—کا ممنون ہے کہ جنہوں نے اپنی انتھک کاوشوں سے جمیلہ ہاشمی کی باقی ماندہ کتابوں کی طباعت کروائی۔ زیرِ مطالعہ کتاب آپ بیتی، جگ بیتی بک کارنر جہلم نے عمدگی سے شائع کی ہے۔ کہیں کہیں پروف ریڈنگ کی غلطیاں واضح ہیں، جنہیں اس کتاب کی دوسری اشاعت میں درست کیا جا سکتا ہے۔
جمیلہ ہاشمی کثیرالتصانیف مصنفہ تھیں۔ انہوں نے، خصوصاً اپنی کہانیوں میں، مشرقی اور مغربی پنجاب کی جمود زدہ دیہی زندگی پر وسیع پیمانے پر تحریر کیا۔ جمود زدہ دیہی زندگی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے اُس دور کے اقتصادی ڈھانچے کو اجاگر کیا جا سکے جو کرداروں—خاص طور پر خواتین—کی تقدیر کا تعین کرتا ہے۔
Fatalism عالمی ادب کا ایک خاص موضوع رہا ہے، جس میں سوفوکلیز کے مایہ ناز ڈرامے ایڈیپس ریکس کو اس فلسفیانہ نقطۂ نظر کا سرخیل کہا جاتا ہے۔ انگریزی ادب میں کسی حد تک جارج ایلیٹ بھی اس نقطۂ نظر کی حامی نظر آتی ہیں، مگر تھامس ہارڈی تو جانے ہی اس نقطۂ نظر سے جاتے ہیں۔ جارج ایلیٹ اور تھامس ہارڈی اپنے کرداروں کی زندگی پر سماجی و اقتصادی قوتوں کے اثرات دکھاتے ہیں، جو ان کے مقدر کا احساس دلاتے ہیں۔ یہاں مذہبی تقدیر پرستی اور معاشرتی تقدیر پرستی میں تمیز ضروری ہے۔ مذہبی تقدیر پرستی وہ عقیدہ ہے کہ تمام واقعات اور نتائج خدا کی مرضی سے طے شدہ ہیں اور انسان کا اختیار محدود ہے۔ ادب میں، ناقدین کے مطابق، ملٹن کی شہرۂ آفاق گم شدہ جنت مذہبی تقدیر پرستی کی عکاس ہے۔ اس کے برعکس معاشرتی تقدیر پرستی کا مؤقف ہے کہ ہماری معاشرت ہماری تقدیر کا تعین کرتی ہے۔ ادبی کہانیوں میں تقدیر پسندی اس وقت نمودار ہوتی ہے جب کردار اپنی مرضی کے برخلاف ظاہر ہونے والے حالات یا معاشرتی و اقتصادی دباؤ کے زیرِ اثر زندگی گزارتے ہیں، اور کہانی یہ دکھائے کہ انسانی کوشش کے باوجود نتائج ناگزیر ہیں۔ اسی طرح آپ بیتی، جگ بیتی کی کہانیاں ایک microcosmic تخیل سے macrocosmic تصور تک پھیلی ہوئی ہیں۔
’’ان کی کہانیاں، جیسے بن باس، اس پار، اُس پار، برہا کی رات اور رات کی ماں، تقدیر پرستی (fatalism) کے ادبی تصور کی مضبوط روایت کی عکاس ہیں، جہاں کرداروں کی زندگی میں فیصلے، محرومیاں اور انسانی اعمال اکثر لاشعوری اور ناگزیر قوتوں کے زیرِ اثر دکھائے گئے ہیں۔ یہ افسانے نہ صرف کہانی کے سطحی واقعات بیان کرتے ہیں بلکہ انسانی نفسیات، سماجی دباؤ اور تقدیر کے تصادم کی پیچیدہ پرتیں بھی سامنے لاتے ہیں۔‘‘
جہاں چمکدار آنکھیں کل کی آرزو میں تڑپتی ہیں
جمیلہ ہاشمی کی ان کہانیوں میں سے کچھ میں longing کے موضوع کی بھی گہری جھلک ملتی ہے۔ longing—یا اردو میں جسے کسک کہا جا سکتا ہے—کی نفسیاتی بنتیں ان کہانیوں میں واضح ہیں۔ کہانی آپ بیتی، جگ بیتی میں نرائین چاچا کی کسک جُرم کی صورت میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔ نرائین چاچا کی زندگی ایک ایسی ہی خاموش محرومی کی تصویر ہے۔ اس کی آپ بیتی—تنہائی، نامکمل خواہشات اور مسلسل احساسِ کمتری—آہستہ آہستہ جگ بیتی میں تبدیل ہو جاتی ہے، یعنی اس کا ذاتی المیہ سماجی سانحہ بن جاتا ہے۔ افسانے کا المیہ یہ ہے کہ نرائین چاچا کی کسک کو نہ تو سماج سمجھ پاتا ہے اور نہ ہی وہ خود اسے کسی صحت مند راستے سے اظہار میں لا پاتا ہے۔ اس کہانی میں ذاتی انا کی حکمرانی کے عنصر کو بھی مہارت سے برتا گیا ہے۔
لاکان کے مطابق خواہش (desire) محض کسی چیز کے حصول کی آرزو نہیں بلکہ ایک ایسی ہمیشہ ادھوری نفسیاتی طلب ہے جو انسان کی شناخت، تسکین اور وجود کی تلاش سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ خواہش اکثر کمی (lack) یا فقر سے جنم لیتی ہے، اور اسے سماجی اور علامتی حدود کے تحت شکل دی جاتی ہے؛ یعنی خواہش ہمیشہ کسی نہ کسی دوسرے (the Other) یا سماجی توقعات سے جڑی ہوتی ہے۔ لاکان کے نزدیک خواہش کی بنیاد فقدان (manque) پر ہے۔ ہم ہمیشہ کچھ نہ کچھ کی کمی محسوس کرتے ہیں، اور یہی کمی ہماری خواہش کو جنم دیتی ہے۔ خواہش کبھی مکمل نہیں ہوتی، کیونکہ اس کا محور انسان کی بنیادی ادھوری شناخت ہے۔
کہانی پُرانے گیت میں خواہش اور فقدان (lack) نمایاں ہے۔ افسانے کے دونوں کردار، ریاض اور رتنم، کی خواہش بنیادی طور پر ایک فقدان (manque) کی عکاسی کرتی ہے—کچھ ایسا جو اب واپس نہیں آ سکتا۔ یہ فقدان لاکان کے مطابق انسان کی ہر خواہش کی بنیاد ہے اور اسے ہمیشہ ادھورا رہنے والا جذباتی محرک بناتا ہے۔ لیکن کہیں شاید مذہب کی گہری سرحد بھی ان کے رشتے کو پنپنے نہیں دیتی۔ ممکن ہے اسے taboo کہا جا سکے۔ مگر ادب کے طالبِ علم کے لیے رتنم کے کردار کی تہوں کو سمجھنا ایک جوکھم کا کام ہے۔
ای۔ ایم۔ فاسٹر (E. M. Forster) نے اپنی کتاب Aspects of the Novel (1927) میں کرداروں کی نوعیت کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے: راؤنڈ کردار (Round Character) اور فلیٹ کردار (Flat Character)۔ راؤنڈ کردار کو ایک پیچیدہ اور جامع شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، یعنی ایسا کردار جس کی شخصیت متعدد پہلوؤں سے تشکیل پاتی ہو۔ اس میں مختلف جذبات، سوچیں، خواہشات، کمزوریاں اور طاقتیں موجود ہوتی ہیں۔ یہ کردار کہانی کے دوران تبدیل یا ارتقا پذیر ہو سکتا ہے، اور حالات و تجربات اس کے رویّے یا سوچنے کے انداز پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ راؤنڈ کردار میں انسانی نفسیات کی گہرائی ہوتی ہے؛ یعنی یہ کردار حقیقی انسان کی طرح پیچیدہ اور ناقابلِ پیش گوئی ہوتا ہے۔ فاسٹر کے مطابق اچھے راؤنڈ کردار قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور کہانی کو زیادہ حقیقت پسندانہ بناتے ہیں۔ رتنم بھی انہی کرداروں میں سے ایک کردار ہے۔
اگر آپ بیتی، جگ بیتی کو کوئی میوزیکل تھیم دیا جائے تو راگ پہاڑی اور بیرویں کی سنگت میں ایک لازوال ٹریک موزوں ہوگا۔ جمیلہ ہاشمی کی ان کہانیوں میں گاؤں کے گھبرو—بلونت سنگھ جیسے—گھبرو نہیں بلکہ اپنی ذات کے حصار میں مقید دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی بے بسی ہر کہانی کا موضوع ہے۔ ان افسانوں میں عورت اور مرد دونوں بے بس نظر آتے ہیں، جو معاشرتی لکھی ہوئی تقدیر کے ہاتھوں محض کٹھ پتلیاں ہیں، اور یہی وصف جمیلہ ہاشمی کی کہانیوں کو منفرد بناتا ہے۔