Get Alerts

آزادی نہیں دیں گے تو GenZ آپ سے خود چھین لے گی

میں سمجھتا ہوں کہ جب تک سیاست دان مکمل جمہوری نہیں ہوتے اور میرٹ پر نہیں آتے، تب تک ہائبرڈ نظام ہی ٹھیک ہے۔ جب تک لوگوں کو ووٹ اور جمہوریت کی اصل روح سمجھ نہیں آتی، تب تک اسٹیبلشمنٹ کا کردار رہے گا۔

آزادی نہیں دیں گے تو GenZ آپ سے خود چھین لے گی

یہ جو ہمارے اسٹیبلشمنٹ کے تراشے ہوئے بُت سیاست دان ہیں، جتنا یہ عوام میں جمہوری بننے کی ایکٹنگ کرتے ہیں، ویسے اتنے جمہوری ہوتے نہیں۔ یہی میرا صحافتی تجربہ رہا ہے۔ پرویز مشرف کے مارشل لا کے مخالف ہونے کے باوجود یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ وہی الیکٹرانک میڈیا کو لائے تھے، اور باقی جمہوری ادوار کی نسبت یہ زیادہ آزاد بھی تھا۔ لیکن یہاں بھی صحافت ہم جیسے دیوانوں کا خواب ہی رہی، کیونکہ ٹی وی چینلز کے زیادہ تر مالکان کاروباری لوگ تھے، اور انہوں نے میڈیا انڈسٹری میں سرمایہ کاری کاروبار کے نقطۂ نظر سے کی تھی۔ صحافت سے انہیں کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

اپنے چینلز کو مالکان حکومت سے ٹیکس میں رعایت لینے اور حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے مدِ مقابل بطور پریشر ٹول استعمال کرتے تھے، اور یہ پریشر اپنے مفادات تک ہی محدود تھا۔ اگر آپ کو پاکستان میں کاروبار کرنا ہے تو لامحالہ آپ کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بنا کر رکھنا پڑتی ہے۔ کاروبار تو دور، اگر آپ ان کے ساتھ نہیں چلتے تو آپ پاکستان میں نارمل زندگی بھی نہیں گزار سکتے۔

یہاں آپ پر جھوٹے کیس بنیں گے، لڑکی کے بڑے بھائیوں سے مار کھائیں گے، یا یہاں کی ایجنسیاں آپ کو ہراساں کریں گی۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کے جبر کی ایک تاریک سمت تھی۔ تو کیا سب کچھ دودھ کے دھلے سیاست دانوں کے حوالے کر دیا جائے؟

اسٹیبلشمنٹ کا ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ پوری دنیا میں اسٹیبلشمنٹس ہیں، اور وہاں کے سارے ادارے اور سیاست دان مل کر چلتے ہیں۔ سب کچھ ان امیر کبیر جاگیردار سیاست دانوں پر چھوڑا بھی نہیں جا سکتا جو معصوم ووٹرز کو خریدتے ہیں، انہیں دباؤ میں لاتے ہیں، یا پیر مریدی اور برادری کے چکر میں اپنا غلام بناتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ جب تک سیاست دان مکمل جمہوری نہیں ہوتے اور میرٹ پر نہیں آتے، تب تک ہائبرڈ نظام ہی ٹھیک ہے۔ جب تک لوگوں کو ووٹ اور جمہوریت کی اصل روح سمجھ نہیں آتی، تب تک اسٹیبلشمنٹ کا کردار رہے گا۔

میں نے جرنلزم میں بی ایس کیا ہوا ہے، اور پھر تقریباً تین سال تک عملی صحافت بھی کی ہے۔ اپنے تجربے اور سوشل میڈیا کی موجودگی میں، میں نجم سیٹھی صاحب کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ جرنلزم میں نوجوانوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ جناب، جرنلزم میں نوجوانوں کا مستقبل اس سے بھی زیادہ روشن ہے۔ مین اسٹریم میڈیا کو عمران خان کے حق میں اور ان کے خلاف اسٹیبلشمنٹ نے اس قدر استعمال کیا کہ اس پر کسی کو کوئی بھروسہ نہیں رہا۔ پوری دنیا میں میڈیا اپنے اپنے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلتا ہے، لیکن وہاں صحافتی اقدار کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے۔

بیانیے کی جنگ میں مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا انتہائی اہم ہیں۔ خدارا، ریاست کے اس چوتھے ستون کو بچائیے۔ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ بھی کریں اور اسے آزاد بھی رکھیں۔ اس سے شفافیت آئے گی اور جمہوریت مضبوط ہوگی۔

صحافی اور سیاست دان تخلیق کرنا چھوڑ دیں۔ جس میں ٹیلنٹ ہوگا، وہ اپنی جگہ خود بنائے گا۔ ایک ہی شخص کی خاطر آپ نے پورے میڈیا اور صحافیوں کو ڈس کریڈٹ کیا۔ اگر آپ یہ تجربات نہ کرتے تو آج آپ کو کسی کو ڈیجیٹل دہشت گرد ڈکلیئر نہ کرنا پڑتا۔

امید ہے آج، جب آپ بیانیے کی جنگ ہار چکے ہیں اور لوگ پراپیگنڈے کا شکار ہیں، اس سے آپ کو احساس ہوا ہوگا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کتنے حساس محاذ ہیں۔ یہ سفارشوں پر نہیں بلکہ میرٹ پر آنے والوں کو سنبھالنے چاہییں۔

اس اہم محاذ کو فتح کرنے کے لیے آپ کو صحافیوں کو اتنی آزادی دینا پڑے گی کہ لوگ انہیں واقعی صحافی مانیں۔ آپ اگر یہ آزادی نہیں دیں گے اور مار دھاڑ والی پالیسی اپنائے رکھیں گے تو Gen Z کے صحافی یہ آزادی آپ سے خود چھین لیں گے۔