Get Alerts

ملتانی ڈبہ پیر کا سیاسی مستقبل؟

ملتانی ڈبہ پیر کا سیاسی مستقبل؟
مئی کی ۲۶ تاریخ کو 'شیخ رشید کی سیاست ختم ہونے والی ہے' کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا جس میں ان کے تاریک سیاسی مستقبل کے حوالے سے پیش گوئی کی تھی۔ آج بات کرتے ہیں ملتانی ڈبہ پیر یعنی شاہ محمود قریشی کی کیونکہ ان کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ رشید کی طرح شاہ محمود قریشی کو انتخابات میں جیتنے کیلئے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ کسی بھی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں جیت ان کا مقدر ہوتی ہے لیکن اس دفعہ بات جیت یا ہار کی نہیں بلکہ جیتنے کے باوجود ان کے مستقبل کی ہے۔ شاہ صاحب تحریکِ انصاف میں وزیر بننے کیلئے نہیں آئے تھے بلکہ ان کی نظریں اس جماعت کی چیئرمین شپ اور بعد ازاں وزیر اعظم کی کرسی پر تھی۔ اس بات کی تصدیق خود شاہ صاحب کے برادر عزیز مرید حسین قریشی نے کی تھی۔

تحریکِ انصاف میں شمولیت سے پیشتر موصوف خواجہ آصف کے ذریعے میاں نواز شریف سے ملے اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی خواہش ظاہر کی لیکن جب بات نہیں بنی تو چھلانگ لگا کر تحریکِ انصاف کے کنٹینر پر چڑھ گئے۔ میاں صاحب کی حیثیت پاکستانی سیاست میں ایک پارس کی طرح ہے کہ جو ان سے ایک بار ملاقات کر لے وہ انمول ہو جاتا ہے لہذا میاں صاحب کی ملاقات کے بعد کیونکہ ان کی 'گڈی' چڑھ گئی تھی اس لئے تحریکِ انصاف کے ڈپٹی چیئرمین بنائے گئے اور یہاں سے شاہ صاحب نے آگے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔

یہ تو سب کو معلوم ہے کہ ۲۰۱۳ کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے جیت گئی تھی لہذا شاہ صاحب کو پانچ سال کا جاں لیوا انتظار برداشت کرنا پڑا۔ ۲۰۱۸ کے انتخابات میں 'مہربانوں' نے ایسا جادو کیا کہ ملکی ہی نہیں غیر ملکی مبصرین بھی منہ میں انگلیاں داب کر رہ گئے۔

بہرحال تحریکِ انصاف کی حکومت بن گئی اور عمران خان وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہوگئے۔ ان دو سالوں میں شاہ صاحب نے درپردہ کئی کوششیں کیں کہ عمران خان کے ناتجربہ کاری اور اس سے بھی بڑھ کر ان کی نا لائقی کی وجہ سے 'مہربان' انہیں موقع فراہم کردیں لیکن امید بر نہیں آئی۔ اب جب کہ اس حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے تو سوال یہ ہے کہ شاہ صاحب کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا۔

شاہ صاحب سرٹیفائیڈ لوٹا ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ میاں نواز شریف جب پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو یہ ان کے وزیر رہے۔ پھر یہ پیپلز پارٹی کو پیارے ہو گئے۔ مشرف کے دور میں کیونکہ وزیر سے زیادہ فائدہ مند عہدہ میئر کا ہوتا تھا تو یہ ملتان کے میئر بن گئے۔ ۲۰۰۷ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی آمد سے قبل ایک بار پھر پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ محترمہ اللہ کو پیاری ہو گئیں تو انتخابات کے بعد زرداری صاحب نے انہیں وزیر خارجہ بنا دیا لیکن بالآخر وہاں سے بھی نکالے گئے۔ 'مہربانوں' کو خوش کرنے کے چکر میں شاہ صاحب اپنی ماضی کی جماعتوں کے قائدین کے بارے میں ہرزہ سرائی کر کے اپنی واپسی کے تمام دروازے خود ہی بند کر چکے ہیں۔ تمام تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ اگلے انتخابات میں مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی نوشتۃ دیوار ہے جبکہ پیپلز پارٹی سندھ کی اکثریتی پارٹی رہے گی۔

اب سوال یہ ہے کہ اگلا انتخاب اگر موصوف جیت بھی جاتے ہیں تو حزب اختلاف کی نشستوں پر ہی بیٹھنا پڑے گا۔ ایک عرصہ سے سیاست کے میدان میں رہنے والا اگر اپنی ساری کشتیاں خود ہی جلا بیٹھے تو اس کی سیاست سے واقفیت پر شک ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے شاہ صاحب کا سیاسی مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

مصنف ایک سیاسی ورکر ہیں۔