ناقدینِ اردو ادب اس نکتے پر تو یکسو ہیں کہ خدائے سخن میر تقی میر، مرزا نوشہ اسداللہ غالب اور علامہ محمد اقبال (جنہیں "سر" کا خطاب بھی ملا) — یہ تینوں اردو شاعری کے عظیم ترین شاعر ہیں۔ اب اگر اور بڑے شعرا کا ذکر کیا جائے تو اس میں فیض احمد فیض، ن م راشد اور جوش ملیح آبادی کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔
مگر یہ طے ہے کہ جب کوئی ایسا ناقد، جسے اردو شاعری پر پوری دسترس حاصل ہو، زبان و ادب پر بات کرے گا یا کوئی مضمون قلم بند کرے گا، تو پانچ بڑے شعرا میں فیض احمد فیض کا نام ضرور شامل ہوگا۔
فیض نے اپنے ہم عصر شعرا کو مقبولیت کے میدان میں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وہ اردو کے واحد شاعر ہیں جن کی عظمت کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر ہو چکا ہے۔ دبستانِ روس سے بھی وہ سند یافتہ ہیں۔
برطانیہ — جو عظیم فکشن نگار شیکسپیئر کا دیس اور جان کڈ جیسے شاعر کا وطن ہے — وہاں انجمن ترقی پسند مصنفین لندن کے عاصم علی شاہ (جو اعلیٰ پائے کے مترجم ہیں) نے عاشقانِ فیض — معروف قانون دان بلال وڑائچ، صاحبِ طرز شاعر ڈاکٹر ثاقب ندیم، اور ڈاکٹر عامر بٹ — کے ساتھ مل کر فیض امن میلہ کمیٹی بنائی، جس کے زیرِ اہتمام یہ میلہ منعقد ہوا۔
عصرِ حاضر کے اہم شاعر و صحافی شیراز راج بیلجیم سے شرکت کے لیے آئے۔ تقریب کا آغاز بھی شیراز راج اور ثاقب ندیم کی شاعری کی کتابوں پر گفتگو سے ہوا۔ پھر معروف اینکر پرسن و صحافی جگنو محسن، موسیقار و اداکار ارشد محمود، اور فیض کی بیٹی سلیمہ ہاشمی نے فیض کے ساتھ اپنی یادوں کا اظہار کیا۔
پھر کلاسیکل رقاصہ سنجوتی داس نے اپنے رقص کے ذریعے کلامِ فیض پیش کیا۔ علی شیر نے بانسری کی دھن پر سر بکھیرے، تو امریکہ سے آئے ڈاکٹر شہرام نے کلامِ فیض اور دوسرے گیت گا کر شام کو امر کر دیا۔
فیض ایک ہمہ گیر شخصیت تھے۔ ان کے کئی روپ تھے — ایک صحافی، ایک معلم، بایاں بازو کے سیاست دان اور شاعر۔ مگر جب بطور شاعر ذکرِ فیض ہوتا ہے، تو ان کے تمام روپ پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں، کیونکہ بطور شاعر فیض کا قد آسمان کو چھو لیتا ہے۔
میلے کی خاص بات یہ تھی کہ فیض بطور شاعر حرفِ اوّل تا آخر موضوعِ گفتگو رہے۔ فیض میلہ اپنی ترقی پسند فکر و سوچ کے ساتھ دنیا بھر میں جاری شدت پسندی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن کر اُسی لندن میں برپا ہوا، جہاں سجاد ظہیر نے کسی چائے خانے میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد رکھی تھی — اور فیض اسی انجمن کی پہچان بن گئے تھے۔