فارم 47 کی حکومت نے دونوں ایوان بالا اور ایوان زیریں سے پیکا ایکٹ منطور کرا کر فارم 47 کے صدر پاکستان سے دستخط کرا کر باقاعدہ قانون کی شکل دے کر نافذ کر دیا ہے ۔ وفاقی وزیر برائے قانون اور اطلاعات ونشریات نے جھوٹ بولا ہے پیکا ایکٹ کے حوالے سے صحافیوں کی تنطمیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ ملک بھر کی صحافی تنظیمیں اس وقت سراپا احتجاج ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ رمضان کے بعد ایک بڑی تحریک شروع کی جائے گی لیکن تب تک شائد بہت دیر ہو جائے گی۔
پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہو گا ،فارم 47 کی حکومت اور انکے سہولت کار اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکے ہوں گے ۔ پچھلے 3 سالوں سے جس طرح آزادی اظہار کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے ملک بھر سے صحافیوں کیخلاف کریک ڈاؤن ہوا ، ارشد شریف کو شہید کیا گیا عمران ریاض 4 ماہ لاپتہ رہے ، انکو ہی کو عدالت بازیاب نہ کرا سکی جب وہ حساس ادارے کی غیر قانونی قید سے رہا ہوئے تو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ یہ پوچھنے کی جُرات بھی نہ کر سکے کہ کس حساس ادراے نے عمران ریاض کو اور کیوں غیر قانونی قید میں رکھا ۔
صدیق جان، سمیع ابراہیم اوریا مقبول جان ، جمیل فاروقی ،شاکر اعوان ، شاہد اسلم ، اسد طور ، میطع اللہ جان کو گرفتار کیا گیا ۔ ایاز میر پر تشدد ہوا ، عارف حمید بھٹی، کاشف عباسی اور طارق متین کو آف اییر کیا گیا ، یہ سب ہوتا رہا ٹکڑوں میں بٹی صحافی تنظیمیں وکلا تنظیمیں اور انسانی حقوق کے نام لیوا تماشا دیکھتے رہے ۔ وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے وکلا اور صحافیوں کو ہاؤسنگ کالونی کے چکر ویو میں الجھائے رکھا اور اپنے اہداف حاصل کر لئے ، اب پیکا ایکٹ جیسے کالے قانون کیخلاف صحافی تنظیمیں جس قدر مرضی احتجاج کر لیں نتیجہ دھاک کے تین پات کے مترداف ہی نکلے گا ۔
اب چند دن قبل ہی لاہور کے 2 صحافیوں کو ایک حساس ادارے کے مرکز میں توہین وزیر اعلیٰ پر ہراساں کیا گیا وہ بےچارے باہر آکر بتا بھی نہیں سکے کہ ہمارے ساتھ یہ ہوا ، کیونکہ خوف کی فضا اس قدر ہے نوکری کھو جانے ،بھوک کاڈر ایسا قائم کر دیا گیا ہے کہ چپ رہنے میں ہی افایت ہے ، زبیر علی خان کی مثال سامنے ہے جس بے چارے کو فارم 47 کی حکومت پر تنقید کرنے کے جر م میں بے روزگار کر دیا گیا، ایک درباری مسخرہ مرتضیٰ سولنگی پی ایف یو جے کے صدر رانا عظیم پر گھیٹا الزام ترشی کرتا ہے اور پی ایف یو جے کے تمام دھڑے خاموش رہتے ہیں ، ہر طرف خاموشی ہے ۔ہیومین راٹیس کمیشن نے پیکا ایکٹ کے خلاف پریس کانفرنس تو کر دی مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کوہی نہیں سنے گا کیونکہ اب بہت دیر ہو چکی ہے ۔
بڑے بڑے اینکر پرسن خاموش رہے میڈیا مالکان کاسہ لیس بنے رہے اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں بیٹھے اہم ترین لوگ ٹی وی چینلز چلا رہے ہیں اب کیسا اجتجاج اور کیا مظاہرہ ہو گا، اگر ارشد شریف کی شہادت اور عمران ریاض کی جبری گمشدگی پر صحافی تنظیمیں وکلا تنظیمیں اور سول سوسائٹی یک زبان ہو جاتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ،” سو اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گہی کھیت۔“