Get Alerts

آڈٹ رپورٹ کا انکشاف: خیبر پختونخوا ماحولیاتی ادارہ ناکام!

ای پی اے گزشتہ چھ برسوں سے سالانہ ماحولیاتی رپورٹ تیار اور شائع کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں بروقت فیصلے نہ ہوسکے اور انسانی صحت و قدرتی وسائل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا

آڈٹ رپورٹ کا انکشاف: خیبر پختونخوا ماحولیاتی ادارہ ناکام!

پشاور: خیبر پختونخوا ایک بار پھر تباہ کن قدرتی آفت کی لپیٹ میں ہے۔ 15 اگست کو صوبے کے شمالی علاقہ جات، ہزارہ ڈویژن اور باجوڑ میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے اب تک تقریباً 400 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 181 زخمی ہوئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 294 مرد، 41 خواتین اور 30 بچے شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کلائمیٹ چینج پالیسی 2022 کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا ہے، جہاں ہر سال آفات کی شدت اور تکرار میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے نہ صرف انسانی جانیں بلکہ املاک اور معیشت بھی بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ تاہم صوبے کی ماحولیاتی تحفظ کی ذمہ دار ایجنسی (ای پی اے) شروع دن سے ہی سنگین مسائل کا شکار ہے۔ فنڈز کی کمی، عملے کی قلت، لیبارٹریوں کی عدم دستیابی اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی نے ادارے کی کارکردگی کو مفلوج کر رکھا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ (کلائمیٹ چینج اینڈ انوائرمنٹ) اسلام آباد کی جانب سے 26 فروری 2025 کو جاری کردہ رپورٹ Climate Change, Environment and Disaster Management Organizations of Government of Khyber Pakhtunkhwa نے ای پی اے کی مجموعی کارکردگی پر کئی بنیادی سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ مالی سال 2023-24 کے آڈٹ پر مبنی ہے اور اس میں ادارے کو ماحولیاتی تحفظ میں ناکام قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صوبے میں صرف ایک ماحولیاتی لیبارٹری پشاور میں فعال ہے جو عملے کی کمی کا شکار ہے، جس کے باعث صوبے بھر سے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور تجزیے کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔ ای پی اے تکنیکی اور لاجسٹک وسائل کی کمی کے باعث ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کو فروغ دینے میں بھی ناکام رہا ہے۔ ادارہ تعلیمی نصاب اور کتب کے حوالے سے اپنی قانونی ذمہ داریاں بھی پوری نہیں کر پایا۔

صوبائی ترقیاتی پروگرام (ADP) میں ای پی اے کے صرف دو منصوبے شامل کیے گئے ہیں: ایک اینٹوں کے بھٹوں میں زِگ زیگ ٹیکنالوجی کا نفاذ اور دوسرا لیبارٹریوں کا قیام، مگر ان پر کام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں بھی خیبر پختونخوا کے لیے کوئی ماحولیاتی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا۔ مزید برآں، فضائی معیار جانچنے والی کلیدی مشین "ایئر ایمبینٹ اسٹیشن" کئی برسوں سے خراب ہے جس کی مرمت کے لیے 12 سے 15 کروڑ روپے درکار ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ای پی اے گزشتہ چھ برسوں سے سالانہ ماحولیاتی رپورٹ تیار اور شائع کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں بروقت فیصلے نہ ہوسکے اور انسانی صحت و قدرتی وسائل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔ ادارہ اب تک صوبے میں کسی علاقے کو ماحولیاتی طور پر حساس قرار دینے یا ایسے زونز کے لیے رہنما اصول جاری کرنے میں بھی ناکام رہا ہے، جو ماہرین کے مطابق قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ایک اور بڑی خامی ماحولیاتی ٹریبونل کا غیر فعال ہونا ہے۔ چیئرمین کی عدم دستیابی کے باعث 209 مقدمات زیر التوا ہیں، حالانکہ قانون کے مطابق سینئر رکن کو قائم مقام چیئرمین کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنی چاہی تھیں۔

رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ ای پی اے صوبائی کلائمیٹ چینج پالیسی 2022 پر عمل درآمد میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ نتیجتاً ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی حکومتی کوششیں متاثر ہوئیں اور پالیسی اپنی روح کے مطابق نافذ نہ ہوسکی۔

ای پی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر افسر خان کے مطابق فنڈز کی کمی صوبائی حکومت اور فنانس ڈپارٹمنٹ کے دائرہ کار میں آتی ہے، ادارہ صرف دستیاب وسائل کو متعلقہ اسکیموں میں لگاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کلائمٹ سینسِٹو علاقوں کی نشاندہی کے لیے کنسلٹنٹس کو ہائر کیا گیا ہے اور رپورٹ سیکرٹری کو بھجوائی جاچکی ہے، مگر اب تک جاری نہیں کی گئی۔

ای پی اے کے ایک اور افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 2017 سے اب تک سالانہ رپورٹ کی اشاعت وسائل کی کمی کے باعث ممکن نہیں ہوسکی۔ ان کے مطابق ادارہ فیلڈ مانیٹرنگ کے لیے بھی درکار عملہ اور وسائل نہیں رکھتا، حتیٰ کہ اسٹیشنری تک کی شدید کمی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ای پی اے کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 100 ملین روپے سے زائد فنڈز نہیں ملے۔

ای پی اے ہیڈکوارٹرز کے چیف اینالسٹ ڈاکٹر اسد اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ لیب میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اپ گریڈیشن ہوئی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ رپورٹ میں دکھائے گئے 62 فیصد آلات آؤٹ آف آرڈر ہیں، مگر اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر فرسٹ جنریشن کے ہیں جبکہ دنیا میں تیسری اور چوتھی جنریشن کا استعمال ہورہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فضائی معیار جانچنے والا اسٹیشن مکمل طور پر غیر فعال نہیں بلکہ اس کی ریپئرنگ جاری ہے، اور نان فنکشنل حصوں کے لیے پی سی ون منظور ہوچکا ہے جس پر جلد فنڈز ریلیز ہوں گے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ای پی اے کو فعال بنانے کے لیے صوبائی اور وفاقی سطح پر نئے عزم اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں تکنیکی ڈھانچے کی بہتری، فنڈز میں اضافہ اور غیر فعال میکنزم کو فعال کرنا شامل ہیں۔