Get Alerts

اسرائیل شترِ بے مہار ہو چکا، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان معاہدہ وقت کی ضرورت تھی

اس معاہدے کا سب سے بڑا اثر اسرائیل سے زیادہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت پر پڑا ہے جس نے کہا ہے کہ ہمیں اس معاہدے کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا اور ہم معاملے کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔

اسرائیل شترِ بے مہار ہو چکا، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان معاہدہ وقت کی ضرورت تھی

‎سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان معاہدہ ہوا ہے کہ اب ہم ایک صفحے پر ہیں۔ کوئی بھی اگر کسی ایک ملک پر میلی آنکھ ڈالے گا تو دونوں مل کر اس کی دونوں آنکھیں نکال کر قینچے کھیلیں گے۔ اب بات بہت آگے نکل چکی ہے۔ یقیناً یہ شہباز حکومت کی ایک سٹریٹجک کامیابی ہے چاہے ہم لاکھ ان کے خلاف میمز بنا دیں۔ یہ ضروری تھا کہ اگر حرمین کے خلاف اسرائیل قطر جیسی شر انگیزی کرے گا تو پاکستان کی طرف سے ابدالی اور فتح جیسے بیلسٹک میزائل اسرائیل کا رخ کریں گے۔

‎اب سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کو پاکستان جیسے قرضوں میں ڈوبے ملک کی حمایت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

تو اس کی وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ اسرائیل کو اب پہلے سے بھی زیادہ چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ کسی بھی ملک پر بلااشتعال جارحیت کر سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پچھلے ہفتے قطر پر کی جہاں انہوں نے دوحہ میں حماس کی قیادت کو جو غزہ میں جنگ بندی کے مشن پر تھے نشانہ بنایا۔ یوں قطر اپنے دفاعی نظام کے باوجود کچھ نہ کر سکا۔

‎اگر ایران کی مثال لی جائے تو امریکہ کے ساتھ مل کر جو کچھ بھی کیا گیا، ایران نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ یوں انہیں لگا کہ ایران سے چھیڑ کر اپنی ہی سبکی کروائی۔ ان حملوں سے انسانیت خود شرما جاتی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے اوپر سے یمن پر بھی حملے ہو رہے ہیں جن کا جواب بھی یقیناً میزائل کی صورت میں اسرائیل کو مل رہا ہے۔

‎ان تمام حملوں کو دیکھ کر خود سعودی عرب بھی جو کہ امریکہ کا قریبی دوست ہے سہم گیا اور اس نے شہباز شریف کو دعوت دے کر ریاض بلا لیا۔ سوچا کہ ایٹمی ملک ہے ہاتھ ملا کر رکھا جائے۔ جب شہباز شریف کا طیارہ سعودی حدود میں پہنچا تو ایف 15 طیاروں نے اڑان بھر کر ان کا استقبال کیا۔ بعدازاں ولی عہد نے شاہی محل بلا کر یہ معاہدہ کیا کہ اب ہم ایک ہیں اور کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔ یعنی اگر کسی نے جنگ مسلط کی تو دونوں مل کر اس کا جواب دیں گے۔

‎اس معاہدے کا سب سے بڑا اثر اسرائیل سے زیادہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت پر پڑا ہے جس نے کہا ہے کہ ہمیں اس معاہدے کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا اور ہم معاملے کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ یقیناً یہ ایک بہت اہم معاہدہ ہے جس کی ضرورت برسوں سے محسوس کی جا رہی تھی۔ یہ معاہدہ صرف دو ملکوں کا نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے 57 ممالک کے درمیان ہونا چاہیے تھا۔

‎اگر ایسا ہوتا تو ناصرف اسرائیل بلکہ شیطان بزرگ امریکہ بھی خود میں الجھا رہتا بلکہ قطر پر ہونے والے حملے کے فوراً بعد دوحہ میں منعقدہ او آئی سی کانفرنس میں یہ فیصلہ ہونا چاہیے تھا کہ اگر کسی ایک اسلامی ملک پر حملہ ہوا تو اسے پورے عالم اسلام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ لیکن اس کے برعکس او آئی سی میٹنگ میں امریکہ کی تعریف کی جا رہی تھی جس پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔

‎لیکن ایسا کب ہوگا؟ پوری ملت منتظر ہے۔ ایسا کہنے والے مسلم رہنماؤں کو ناصرف راستے سے ہٹایا گیا بلکہ بعض کو تختۂ دار تک پہنچا دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل، کرنل معمر قذافی سمیت کئی رہنماؤں کو اپنے ہی لوگوں کے ذریعے موت کے منہ میں اتارا گیا۔ اگر اب بھی کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے ساتھ بھی یہی کچھ ہونے کا خدشہ ہے۔

‎لیکن غزہ کی حالت دیکھ کر، وہاں بسنے والے لاکھوں مظلوموں کی کسمپرسی دیکھ کر یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش مسلم ممالک کی بھی نیٹو جیسی کوئی متحد اور مضبوط تنظیم ہوتی اور اس طرح کے مظالم کا سدباب ہو سکتا۔

سرور حسین سکندر کا تعلق سکردو کے علاقے مہدی آباد سے ہے۔ وہ بین الاقوامی تعلقات میں ایم ایس سی کر چکے ہیں اور گزشتہ آٹھ سالوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ سرور مختلف سماجی مسائل سے متعلق تحقیقاتی رپورٹس تحریر کرتے رہتے ہیں۔