Get Alerts

نسیم اشرف کے انکشافات محض فسانہ، کلنٹن سے نواز شریف پر کوئی بات نہیں ہوئی، ارشاد حسن خان

یہ خبر بے بنیاد ہے، جب وہاں پر کھانے کا کمرہ بھی موجود تھا، جس میز پر بیٹھے تھے وہاں بھی بات ہو سکتی تھی، واش روم جا کر ایسی بات کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا،بل کلنٹن نے واش روم کی بات کی، میں بھی ان کے ساتھ اپنی ضرورت کے تحت چلا گیا، ہمارے راستے میں یا واش روم ہال میں کوئی بات نہیں ہوئی، کھانے کی میز پر ان کی اور میری ذاتی نوعیت کی گفتگو ضرور ہوئی جس میں نواز شریف کی سزا کا تذکرہ نہیں ہوا،ارشاد حسن خان

نسیم اشرف کے انکشافات محض فسانہ، کلنٹن سے نواز شریف پر کوئی بات نہیں ہوئی، ارشاد حسن خان

سابق چیف جسٹس (ریٹائرڈ) ارشاد حسن خان نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ 25مارچ 2000 میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دورۂ پاکستان کے دوران ان کی آپس میں کسی بھی سیاسی یا قانونی معاملے پر گفتگو ہوئی تھی اور انہوں نے امریکی صدر کو یہ گارنٹی دی تھی کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزائے موت نہیں ہوگی۔

سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ اور سابق صدر پرویز مشرف کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے ڈاکٹر نسیم اشرف نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ”Ringside“  میں دعویٰ کیا ہے کہ بل کلنٹن نے سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو پھانسی سے بچانے کے لئے اس وقت کے چیف جسٹس سے خفیہ ملاقات کی تھی۔ 

کتاب کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے صدر بل کلنٹن کو دورہ پاکستان سے منع کر دیا تھا لیکن بل کلنٹن نے محض اس لئے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا کہ نواز شریف کو پھانسی سے بچا سکیں۔ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یقین دہانی کے بعد وہ چند گھنٹوں کے لئے پاکستان آئے۔ امریکی صدر نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی ایک خفیہ ملاقات کی تاکہ یہ یقین دہانی حاصل کی جا سکے کہ نواز شریف کو پھانسی نہیں دی جائے گی اور یہ ملاقات ہال کے واش روم میں تقریباً 5 منٹ تک جاری رہی۔“

اپنے ایک بیان میں سابق چیف جسٹس نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر بے بنیاد ہے، جب وہاں پر کھانے کا کمرہ بھی موجود تھا، جس میز پر بیٹھے تھے وہاں بھی بات ہو سکتی تھی، واش روم جا کر ایسی بات کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، انہوں نے مزید کہا میں بہت مؤدبانہ عرض کروں گا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف صاحب کے مبینہ انکشافات فسانہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں، ان میں کوئی حقیقت نہیں۔

جسٹس (ر) ارشاد حسن خان کہتے ہیں کہ بل کلنٹن نے واش روم کی بات کی۔ میں بھی ان کے ساتھ اپنی ضرورت کے تحت چلا گیا، ہمارے راستے میں یا واش روم ہال میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ کھانے کی میز پر ان کی اور میری ذاتی نوعیت کی گفتگو ضرور ہوئی جس میں نواز شریف کی سزا کا تذکرہ نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ بل کلنٹن نے 25 مارچ 2000 کو پاکستان کا ایک مختصر دورہ کیا تھا جو کہ ان کے جنوبی ایشیا کے دورے کا حصہ تھا۔ اس دوران انہوں نے 5 دن بھارت میں جب کہ تقریباً ”صرف 5 گھنٹے پاکستان میں گزارے“۔ بل کلنٹن کا دورہ مشرف کی فوجی حکومت کے لئے امریکی حمایت کا شارہ نہیں تھا بلکہ انہوں نے پرویز مشرف سے اعلانیہ ملاقات تک نہیں کی تھی۔ امریکی دستاویزات کے مطابق تنہایہ میں ملاقات کے دوران بھی انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔

سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے پاکستانی عوام کے لئے ایک ٹیلی وژن خطاب ریکارڈ کرایا جس میں ملک کو جمہوری طرز حکمرانی کی طرف لوٹنے اور انتہا پسندی کے خطرات سے خبردار کرنے پر زور دیا۔ کلنٹن نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی گشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر ان کی جوہری صلاحیتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے عالمی امن کو لاحق خطرات کا ذکر کیا۔ یہ علامتی دورہ تھا جو کہ سخت سکیورٹی کے حصار میں کیا گیا۔ یہ مشرف کے ٹیک اوور کے بعد امریکہ اور پاکستان کے کشیدہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل جولائی 1999 میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل کی جنگ عروج پر تھی، اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے جنگ رکوانے کی خاطر بل کلنٹن سے ملاقات کی تھی جنہوں نے 4 جولائی کو امریکہ کے یومِ آزادی کے دن خصوصی طور پر نواز شریف کو وقت دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات کے دوران نواز شریف کو بتایا گیا تھا کہ امریکی معلومات کے مطابق کارگل میں مجاہدین نہیں بلکہ پاکستانی فوجی تھے۔ نواز شریف کو مبینہ طور پر اسی ملاقات کے دوران بل کلنٹن نے گارنٹی دی تھی کہ اگر جنگ رکوانے کا ملبہ نواز شریف پر ڈال کر انہیں جرنیلوں نے قتل کرنے کی کوشش کی تو وہ اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔