تحریک انصاف کے گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا کے گورنر راج کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ توقع ہے کہ اگلے ایک دو روز میں اس مقدمے کی سماعت شروع ہو جائے گی۔
26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد وطن عزیز کی اعلیٰ عدالتوں کی صورتحال واضح ہو چکی ہے۔ اہم ترین قانونی اور آئینی معاملات کے مقدمات کے فیصلوں کے لیے یہ اعلیٰ عدالتیں اب قابلِ اعتماد نہیں رہیں۔ اوپر سے سپریم کورٹ کی متبادل آئینی عدالت کا قیام بھی سپریم کورٹ کو عملی طور پر غیر فعال کر چکا ہے۔
یہ اس موجودہ رجیم، جو ہیئت مقتدرہ کی کٹھ پتلی ہے، کا پاکستان کے نظام عدل کے ساتھ ایک ایسا کھلواڑ ہے جس کی نظیر 80 سالہ ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس وزارت قانون کا یہ کام سیاہ حروف سے عدل کی دیوار پر لکھا جائے گا۔ لہٰذا، پشاور ہائی کورٹ کی اس سماعت سے گورنر راج کے خاتمے کی امید رکھنا تو فضول ہے۔ ہاں، البتہ ایک بات ہو سکتی ہے: خیبر پختونخوا کے عوام کے منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، جو گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے لاپتہ ہو چکے ہیں، اور ان کے ہمراہ اسپیکر خیبر پختونخوا بابر سواتی اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کے بارے میں شاید کچھ پتا چل جائے کہ وہ کس کی تحویل میں ہیں۔
ایک لمحے کے لیے ذرا آپ سوچیں کہ کسی مہذب ملک میں کسی منتخب وزیر اعلیٰ، اسپیکر اسمبلی یا رکن ایوان زیریں کو یوں لاپتہ کیا جا سکتا ہے؟ آپ کا جواب یقینی طور پر نفی میں ہو گا، مگر یہ سب پاکستان میں ہو سکتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنے وجود کے بعد سے اب تک فلاحی ریاست نہ بن سکا، جہاں ہیئت مقتدرہ کی شتر بے مہاری نے اسے سرکش ریاست بنا دیا ہے۔ اب تک تین وزرائے اعظم مارے جا چکے ہیں، ایک پابند سلاسل ہے جس کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ وفاق، پنجاب، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر میں فارم 47 کی حکومتیں قائم ہیں۔ جس صوبے، کے پی، میں فارم 45 کی اصل حکومت قائم تھی، اسے ختم کر کے گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کی تین مختلف مکتبہ ہائے فکر کی سیاسی جماعتیں، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمٰن)، گورنر راج کے خلاف کھل کر بات کر رہی ہیں۔ ان تینوں سیاسی جماعتوں کا مکتبہ فکر ایک دوسرے سے الگ ہے۔ جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور تحریک انصاف مختلف سیاسی نظریات کی داعی ہیں۔
مگر ہیئت مقتدرہ اور ان کی کٹھ پتلی حکومت کے وزیر اعظم شہباز شریف نے گورنر راج کا فیصلہ کیا اور صدر آصف علی زرداری نے اس کی توثیق کر دی۔
گورنر راج کے خلاف کے پی کے میں مختلف علاقوں میں احتجاج ہو رہا ہے۔ عوامی نفرت کا لاوا آہستہ آہستہ پک رہا ہے، جس کی ہلکی سی مثال گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر اطلاعات ثمر بلور پشاور میں دیکھ چکے ہیں۔
مراد سعید کے حوالے سے ریاست نے غداری کا وہی پرانا اور بھونڈا طریقہ کار شروع کر دیا ہے۔ یہ الٹا عوام میں موجودہ رجیم اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مزید نفرت کا باعث بنے گا۔
مگر اس بات کا فائدہ تب ہی ہے جب ریاست اپنی 80 سالہ حماقتوں اور شتر بے مہاری کو ختم کر کے حقیقی عوامی نمائندوں کے سامنے سرنگوں ہو جائے۔ آج کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جو عوامی نفرت کا لاوا پک رہا ہے، جب وہ آتش فشاں بن کر پھٹے گا تو کیا ہو گا؟ وہ الفاظ لکھنے کی جرأت مجھ میں نہیں ہے۔