Get Alerts

کیا کراچی کا کلائیمیٹ ایکشن پلان ایک فیل منصوبہ ہوگا؟

کراچی کے لیے سال 2017 میں بنایا گیا ہیٹ ویو مینجمنٹ پلان پہلے ہی موجود ہے، تاہم اس پر کبھی عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔ مزید یہ سوال اٹھایا جا چکا ہے کہ اس میں کراچی کے مختلف مائیکرو کلائمٹس کے مطابق تفصیلی حکمت عملی اور مخصوص مقامی تعریفیں موجود نہیں، کیونکہ وہ پلان بھارت کے شہر احمد آباد کے ہیٹ ویو پلان کی نقل تھا۔

کیا کراچی کا کلائیمیٹ ایکشن پلان ایک فیل منصوبہ ہوگا؟

کراچی آج جس رفتار سے موسمیاتی خطرات کی طرف بڑھ رہا ہے، اس کے مقابلے میں صرف ایک کلائیمیٹ ایکشن پلان بنا دینا کافی نہیں۔ کراچی میں شدید گرمی، ہیٹ ویوز، شہری سیلاب، مختصر وقت میں شدید بارش، پانی کی قلت، ساحلی خطرات، سبزے میں کمی، بڑھتی ہوئی تعمیرات اور کمزور شہری انفراسٹرکچر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ اس لیے کراچی کے لیے ایک ایسے منصوبے کی ضرورت ہے جو صرف موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کی نشاندہی نہ کرے بلکہ زمین کے استعمال، شہری ڈیزائن، پانی، نکاسی آب، صحت، ہنگامی ردعمل، انفراسٹرکچر اور شہری حکمرانی کو ایک مربوط نظام میں جوڑے۔ کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان (K-CAP) اس سمت میں ایک اہم قدم ضرور ہے، لیکن اسے ایک مکمل اور قابلِ عمل شہری موسمیاتی منصوبہ سمجھنے سے پہلے اس کی تکنیکی، ادارہ جاتی اور قانونی حیثیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ خود کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان کی تیاری سے قبل ہونے والی Strategic Climate Action Planning Appraisal میں بھی یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ کراچی میں موسمیاتی منصوبہ بندی کے لیے ادارہ جاتی، بجٹ اور بین الادارہ جاتی رابطے کے مسائل موجود ہیں، اور Greater Karachi Regional Plan 2047 کو ان مسائل کے حل اور موسمیاتی اہداف کے انضمام کے موقع کے طور پر استعمال کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان کی خوبی یہ ہے کہ اس نے کراچی کے متعدد موسمیاتی خطرات کو ایک ہی دستاویز میں اکٹھا کیا ہے۔ شہری گرمی، شہری سیلاب، خشک سالی، ساحلی خطرات، پانی کی قلت، فضائی آلودگی، گرین اسپیس اور انفراسٹرکچر جیسے موضوعات اس میں شامل ہیں۔ لیکن کسی منصوبے کا جامع ہونا صرف اس بات سے ثابت نہیں ہوتا کہ اس میں کتنے موضوعات شامل ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر خطرے کے لیے واضح مقاصد، مقامی سطح پر نقشہ بندی، ذمہ دار ادارہ، بجٹ، ٹائم لائن، قانونی اختیار، ڈیزائن معیار، ہنگامی طریقۂ کار اور مانیٹرنگ کا نظام موجود ہے؟ یا بغیر کسی نظام کی موجودگی کے صرف ایک دستاویز تیار کی گئی ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان ایک جامع حکمت عملی ہونے کے باوجود ایک مکمل شہری موسمیاتی عمل درآمدی منصوبے سے پیچھے رہ جاتا ہے۔

مثلاً کراچی کی سب سے فوری موسمیاتی حقیقت شدید گرمی اور ہیٹ ویو ہے۔ کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان گرین اسپیس، شجرکاری، سایہ، پانی کی فراہمی، کولنگ اور گرمی برداشت کرنے والی عمارتوں کی بات کرتا ہے، لیکن ایک مکمل کولنگ ایکشن پلان صرف درخت لگانے یا ٹھنڈے انفراسٹرکچر تک محدود نہیں ہوتا۔ اس میں یہ طے ہونا چاہیے کہ کس درجہ حرارت، نمی یا ہیٹ انڈیکس پر شہر کا ہنگامی نظام فعال ہوگا، کون سا ادارہ الرٹ جاری کرے گا، اسپتالوں کی اضافی گنجائش کیسے یقینی بنائی جائے گی، ایمبولینس اور ریسکیو نظام کیسے متحرک ہوگا، کولنگ سینٹر کہاں قائم ہوں گے، پانی کی ہنگامی فراہمی کیسے ہوگی، بجلی کی طویل بندش کے دوران کیا متبادل انتظام ہوگا، اور مزدوروں، خواتین، بچوں، بزرگوں اور غیر رسمی آبادیوں تک رسپانس کیسے پہنچے گا۔ کراچی کے لیے سال 2017 میں بنایا گیا ہیٹ ویو مینجمنٹ پلان پہلے ہی موجود ہے، تاہم اس پر کبھی عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔ مزید یہ سوال اٹھایا جا چکا ہے کہ اس میں کراچی کے مختلف مائیکرو کلائمٹس کے مطابق تفصیلی حکمت عملی اور مخصوص مقامی تعریفیں موجود نہیں، کیونکہ وہ پلان بھارت کے شہر احمد آباد کے ہیٹ ویو پلان کی نقل تھا۔

اسی طرح شہری سیلاب کے معاملے میں کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان اس مسئلے کو تسلیم کرتا ہے، مگر اس میں کوئی حل موجود نہیں، کیونکہ کراچی کو صرف ایک عمومی سیلاب سے نمٹنے کی حکمت عملی کی ضرورت نہیں بلکہ بارشی پانی اور شہری سیلاب کے انتظام کے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ ہر برس ہونے والی بارش کے بعد یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پانی کہاں سے آیا، کہاں جمع ہوا، کون سا نالہ کتنی مقدار برداشت کر سکتا ہے، کہاں پُلیا ناکافی ہے، کہاں نالے کا اخراجی دہانہ بند ہے، کہاں سمندر کی سطح نکاسی آب کو متاثر کرتی ہے، اور کون سی سڑکیں خود قدرتی نکاسی کا راستہ بن جاتی ہیں۔ ایک مکمل منصوبے میں کیچمنٹ لیول ہائیڈرولوجیکل اور ہائیڈرالک ماڈلنگ (Hydrological and Hydraulic Modelling)، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بارش، نکاسی آب کی صلاحیت، سیلابی بہاؤ کا تعین (Flood Routing)، پانی ذخیرہ کرنے کے مقامات (Detention Areas)، زیرِ زمین پانی کی بحالی کے علاقے (Recharge Zones)، پمپنگ کی ضروریات اور دیکھ بھال کے ضوابط شامل ہونے چاہئیں۔ صرف یہ کہنا کہ نکاسی آب بہتر کی جائے یا قدرتی نظام بحال کیا جائے، کراچی جیسے شہر کے لیے کافی نہیں۔

پانی کا مسئلہ بھی صرف پانی کی فراہمی کا مسئلہ نہیں بلکہ موسمیاتی لچک کا بنیادی جزو ہے۔ شدید گرمی میں پانی کی طلب بڑھتی ہے، خشک سالی میں ذرائع پر دباؤ بڑھتا ہے اور شہری سیلاب میں آلودہ پانی پورے نظامِ صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان کو ایک موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی آبی تحفظ کی حکمتِ عملی (Climate-Resilient Water Security Strategy) کے ساتھ جوڑنا ضروری تھا، جس میں پانی کی طلب، آبادی میں اضافہ، غیر آمدنی والا پانی (Non-Revenue Water)، زیرِ زمین پانی، ٹینکر پر انحصار، پمپنگ اسٹیشنز، بجلی کی فراہمی، پانی کا اہم بنیادی ڈھانچہ (Critical Water Infrastructure) اور ہنگامی پانی کی فراہمی کو موسمیاتی منظرناموں کے ساتھ دیکھا جائے۔

کراچی کے کلائیمیٹ کا قانونی اختیار کس کے پاس ہے؟

کراچی میں گرمی کا مسئلہ زمین کے استعمال سے بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اگر شہر میں ہر خالی جگہ تعمیرات میں تبدیل ہو، درخت اور کھلی زمین کم ہوں، ساحلی ہواؤں کے راستے میں بلند عمارتیں بنیں اور تعمیراتی کثافت میں اضافہ ہوتا رہے تو بعد میں صرف شجرکاری یا ٹھنڈی چھتوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ شہری منصوبہ بندی میں ہیٹ رسک (Heat Risk) زوننگ (Zoning)، بلڈنگ ڈینسٹی (Building Density)، فلور ایریا ریشو (Floor Area Ratio)، وینٹیلیشن کوریڈورز (Ventilation Corridors)، ٹری کینوپی (Tree Canopy)، پارمیبل سرفیسز (Permeable Surfaces)، کھلی جگہیں (Open Spaces) اور قدرتی نکاسی آب کوریڈورز (Drainage Corridors) کو ڈیولپمنٹ کنٹرولز (Development Controls) کا حصہ بنانا ہوگا۔ کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان میں ان مسائل کے مختلف پہلو موجود ہیں، لیکن انہیں ایک باقاعدہ آب و ہوا سے ہم آہنگ زمین کے استعمال اور شہری ڈیزائن کے فریم ورک میں تبدیل کرنے کی ضرورت باقی رہتی ہے۔

یہاں سے اصل سوال قانونی اور ادارہ جاتی اختیار کا پیدا ہوتا ہے۔ سندھ حکومت کے محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے موسمیاتی تبدیلی موجود ہے، اور اس کا سرکاری مینڈیٹ صوبے میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق معاملات، صوبائی محکموں کے ساتھ رابطہ، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پالیسی بنانا اور اس پر عمل درآمد، موافقت اور کلائیمیٹ ایکشن کو ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ہے۔ سندھ کلائیمیٹ چینج پالیسی (Climate Change Policy 2022) بھی اسی صوبائی فریم ورک کا حصہ ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ کے ایم سی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوئی کام ہی نہیں کر سکتی۔ کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان خود سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی بعض دفعات، خصوصاً ڈیولپمنٹ پلان اور کام سے متعلق اختیارات کو بنیاد بنا کر کے ایم سی کے اندر ڈائریکٹوریٹ آف کلائیمیٹ چینج اور کلائیمیٹ چینج بورڈ بنانے کی تجویز دیتا ہے۔ لیکن یہ ایک مجوزہ ادارہ جاتی انتظام ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کے ایم سی کو صوبائی سطح کے موسمیاتی معاملات پر خودکار طور پر جامع اور خصوصی اختیار حاصل ہو گیا۔ کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان کی اپنی دستاویز یہ تسلیم کرتی ہے کہ کے ایم سی کے پاس موسمیاتی عمل درآمد کی موجودہ ادارہ جاتی صلاحیت محدود ہے اور ایک نئے ادارہ جاتی انتظام کی ضرورت ہے۔

کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان کی قانونی حیثیت؟

یہی وجہ ہے کہ کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان کی قانونی حیثیت ایک بنیادی سوال بن جاتی ہے۔ ایک طرف یہ کے ایم سی، یونائیٹڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام اور سی 40 کے اشتراک سے تیار کردہ اہم اسٹریٹجک کلائیمیٹ ایکشن پلان (Strategic Climate Action Plan) ہے اور اسے مئی 2025 میں باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔ دوسری طرف، اسے کسی قانون، صوبائی پالیسی یا ایسی واضح قانونی نوٹیفیکیشن کے برابر نہیں رکھا جا سکتا جس کے ذریعے کے ایم سی کو صوبائی محکموں، ڈیولپمنٹ اتھارٹیز، پی ڈی ایم اے، صحت، آبپاشی، پانی یا دیگر اداروں پر موسمیاتی اقدامات نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے۔ سندھ میں موسمیاتی پالیسی اور بین الادارہ جاتی موسمیاتی ہم آہنگی کا واضح صوبائی مینڈیٹ پہلے ہی ڈائریکٹوریٹ آف کلائیمیٹ چینج کے پاس موجود ہے۔

اس سلسلے میں ایک اور اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: میئر کراچی کی تائید (endorsement) اور کے ایم سی کی سٹی کونسل کی تائید (endorsement) ایک چیز نہیں ہیں۔ کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان کی دستاویز کے مطابق ستمبر 2024 میں کے ایم سی کے دفتر میں منصوبے کی پیشکش ہوئی اور اس کے اختتام پر میئر کراچی نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں کی تائید کی۔ لیکن میئر کی تائید کو خودبخود سٹی کونسل کی باقاعدہ منظوری، یعنی قرارداد یا قانونی طور پر اختیار کرنا، قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دستیاب عوامی ریکارڈ میں اب تک ایسی واضح قرارداد سٹی کونسل میں سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان کو باقاعدہ طور پر سٹی کونسل نے منظور کرکے کے ایم سی کے قانونی اور انتظامی عمل کا حصہ بنا دیا ہے۔

اگر کسی منصوبے کو کراچی کی طویل المدتی شہری پالیسی کا حصہ بنانا ہے تو اسے سیاسی تائید سے آگے لے کر جانا ہوتا ہے۔ اسے متعلقہ کونسل، صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان واضح ادارہ جاتی ملکیت، قانونی مینڈیٹ، بجٹ کا طریقۂ کار اور عمل درآمد کی ذمہ داری کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، ایک اہم سوال برقرار رہے گا کہ اگر منصوبے کے تحت کسی صوبائی ادارے کو کوئی اقدام کرنا ہو تو اس ادارے کے لیے کراچی کلائیمیٹ ایکشن پلان کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟

کیا کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان کراچی کے گریٹر کراچی ماسٹر پلان 2047 میں شامل ہوگا؟

اس سے بھی بڑا سوال کراچی کے آئندہ کے لیے بننے والے ماسٹر پلان، گریٹر کراچی ماسٹر پلان 2047 (Greater Karachi Regional Plan 2047)، کا ہے۔ کراچی کی آئندہ دو دہائیوں کی مکانی ترقیاتی منصوبہ بندی (Spatial Development Planning) اگر ایک نئے ریجنل پلان کے ذریعے ہونی ہے تو کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان کو اس سے الگ ایک دستاویز کے طور پر نہیں چلایا جا سکتا۔ خود کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان کے اسٹریٹجک جائزے نے سفارش کی تھی کہ گریٹر کراچی ماسٹر پلان کو موسمیاتی حکمرانی (Climate Governance) اور مخصوص، قابلِ پیمائش موسمیاتی اہداف (Climate Targets) کے انضمام کے لیے استعمال کیا جائے۔

گریٹر کراچی ماسٹر پلان 2047 کے بننے کے موجودہ عمل میں موسمیاتی تبدیلی، لچک اور موافقت کے منصوبے (Resilience and Adaptability Plans) کو باقاعدہ ایک پلاننگ اسٹیج کے طور پر شامل کیا جانا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان کے شدید گرمی کا خطرہ بیان کرنے والے نقشے، سیلاب کا خطرہ، پانی کی قلت، ساحلی خطرہ پذیری، گرین انفراسٹرکچر اور دیگر موسمیاتی ترجیحات کو گریٹر کراچی ماسٹر پلان 2047 کے زمین کے استعمال کے پلان، ترقیاتی زونز، انفراسٹرکچر نیٹ ورک اور ترقیاتی ضوابط میں کس حد تک شامل کیا جاتا ہے۔ محض دونوں منصوبوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کا ذکر کافی نہیں ہوگا۔

کراچی کو یہ بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگر ایک طرف کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان ہے اور دوسری طرف گریٹر کراچی ماسٹر پلان 2047 میں موسمیاتی لچک کا الگ جزو تیار ہو رہا ہے تو دونوں کے درمیان بنیادی منصوبہ بندی کے درجہ بندی کے نظام کیا ہوگا؟ کیا کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان کے اہداف گریٹر کراچی ماسٹر پلان 2047 میں منتقل ہوں گے؟ کیا کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان کے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو بیان کرنے والے نقشوں کو ریجنل زمین کے استعمال میں قانونی حیثیت ملے گی؟ کیا گرمی کے خطرے والے علاقوں میں مخصوص ترقیاتی ضوابط نافذ ہوں گے؟ کیا سیلابی خطرے سے دوچار علاقوں میں تعمیرات کی اجازت موسمیاتی جائزے سے مشروط ہوگی؟ کیا پانی، نکاسی آب، گرین اور بلیو انفراسٹرکچر کے منصوبے ایک ہی مکانی فریم ورک میں آئیں گے؟ اور سب سے اہم، ان فیصلوں پر عمل درآمد کون کرے گا؟

کراچی کے درجنوں جدا جدا منصوبے اور عمل درآمد کوئی نہیں

کراچی کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ منصوبہ بنانا نسبتاً آسان ہے، اسے نافذ کرنا اصل امتحان ہے۔ ماضی میں بھی کراچی کے لیے متعدد ماسٹر پلان بنے، مگر ان میں سے کئی مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکے۔ خود سندھ حکومت نے گریٹر کراچی ماسٹر پلان 2047 کے آغاز کے موقع پر کراچی کے سابقہ ماسٹر پلان اور ان کے عدم نفاذ کو ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا تھا۔

اسی لیے کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان کو صرف ایک اچھی دستاویز سمجھ کر مطمئن ہو جانا کراچی کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ آج ضرورت ایک ایسے کلائمیٹ ایکشن فریم ورک کی ہے جو قانونی اختیار، ادارہ جاتی ذمہ داری، بجٹ، GIS پر مبنی مقامی منصوبہ بندی (GIS-based Spatial Planning)، انجینئرنگ کے معیارات، ہنگامی ردعمل اور قابلِ پیمائش عمل درآمد کو ایک نظام میں جوڑے۔ لہٰذا، کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان کو ختم کرنے یا اس کے متبادل کی ضرورت نہیں؛ ضرورت اسے کراچی کے ریجنل پلاننگ فریم ورک میں صحیح جگہ دینے کی ہے۔

کراچی کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ شہر گرم ہو رہا ہے یا بارش زیادہ ہو رہی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شہر کی منصوبہ بندی ابھی تک موسمیاتی حقیقتوں کے مطابق تبدیل نہیں ہوئی۔ اگر کلائمیٹ ایکشن پلان زمین کے استعمال، پانی، نکاسی آب، سڑکوں، عمارتوں، بجلی، صحت اور ہنگامی نظام کے فیصلوں کو متاثر نہیں کرتا تو وہ کلائمیٹ ایکشن پلان کم اور موسمیاتی حکمتِ عملی کی دستاویز زیادہ رہ جاتا ہے۔

کراچی کو اب ایک ایسے منصوبے کی ضرورت ہے جس میں یہ واضح ہو کہ خطرہ کہاں ہے، کس آبادی کو ہے، کس انفراسٹرکچر کو ہے، ذمہ دار ادارہ کون ہے، اختیار کس قانون سے آتا ہے، پیسہ کہاں سے آئے گا، کام کب ہوگا اور ناکامی کی صورت میں جواب دہ کون ہوگا۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک خوبصورت دستاویز کو ایک قابلِ عمل شہری منصوبہ بناتا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر، کراچی کے مستقبل کی منصوبہ بندی میں کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان، گریٹر کراچی ماسٹر پلان 2047 اور سندھ کی کلائمیٹ چینج پالیسی کو الگ الگ دستاویزات کے طور پر نہیں بلکہ ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کراچی کو مزید ایک منصوبے کی نہیں، موجودہ منصوبوں کے درمیان واضح تعلق، قانونی اختیار اور عملی عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

اربن پلانر، ریسرچر کراچی اربن لیب آئی بی اے