Get Alerts

جو جماعتیں سلامتی کمیٹی اجلاس میں نہیں تھیں انگیج کرنے کو تیار ہیں: بلاول کی حکومت و اپوزیشن میں ثالثی کی پیشکش

قومی ایشوز پر اتفاق رائے پیدا کرنا ناگزیر ہے، دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کےلیے متحد ہونا ہوگا اور تمام جماعتوں کو ذاتی مسائل کے بجائے ملک اور قوم کےلیے اکٹھا ہونا ہوگا لیکن ہماری سیاست میں تقسیم ہے،قومی معاملات میں اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہوگیا ہے,اپوزیشن کو دعوت دیتے ہیں، وہ اپنی تنگ نظری کی سیاست چھوڑ کر عوام کے بارے میں سوچے، بلاول بھٹو

جو جماعتیں سلامتی کمیٹی اجلاس میں نہیں تھیں انگیج کرنے کو تیار ہیں: بلاول کی حکومت و اپوزیشن میں ثالثی کی پیشکش

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ دہشت گردی عروج پر ہے اور سیاست تقسیم کا شکار ہے، دہشت گرد بلوچستان اور خیبرپختونخوا سرگرم ہیں، اپوزیشن کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی تنگ نظری کی سیاست چھوڑ کر عوام کے بارے میں سوچے۔

لاہور میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے پیچھے بین الاقوامی طاقتیں ہوں گی، دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہونا ہوگا۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پاکستان مشکلات سے دوچار ہے، پاکستان کے عوام غربت اور بے روز گاری کا سامنا کررہے ہیں، پاکستان کے عوام سیاست دانوں کی طر ف دیکھ رہے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عوام کے مسائل کا حل ترجیح ہونی چاہیے، نیشنل سیکیورٹی اجلاس میں کچھ جماعتوں کی عدم شرکت افسوسناک ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن وامان پرخصوصی توجہ دینا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی ایشوز پر اتفاق رائے پیدا کرنا ناگزیر ہے، تمام جماعتوں کو ذاتی مسائل کی بجائےملک اور قوم کے لیے اکٹھا ہونا ہوگا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم سے اپیل ہے ایک بار پھر قومی سلامتی پر اجلاس بلائیں، حکومت سیاسی جماعتوں کو قومی سلامتی امور پر یکجا کرے، ملکی مفاد میں اجتماعی فیصلے لینا ہوں گے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پیپلزپارٹی ایک ایسےمقام پر کھڑی ہے، ہم حکومت سے بات کرسکتے ہیں اور کوشش کرسکتے ہیں کہ ملکی مفاد میں اجتماعی فیصلے لیے جائیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم اپوزیشن کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی تنگ نظری کی سیاست چھوڑ کر عوام کے بارے میں سوچے۔