Get Alerts

نفرت کی دریافت: ایک سچ جس نے ڈیجیٹل دنیا کا چہرہ بے نقاب کر دیا

یہ روداد ہے ان سیاہ راتوں کی جو اشفاق لغاری کو جھیلنا پڑیں، جب انہیں اپنی ہی جامعہ کے ساتھی کی جانب سے بنائی گئی جھوٹی اور برہنہ تصویروں کے ذریعے فیس بک پر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔

نفرت کی دریافت: ایک سچ جس نے ڈیجیٹل دنیا کا چہرہ بے نقاب کر دیا

نفرت کی دریافت کی کہانی پڑھنی تو اس سوچ کے ساتھ شروع کی کہ شاید اشفاق نے خود پر گزری سیاہ راتوں کی کہانی تحریر کی ہوگی۔ لیکن نفرت کی دریافت مکمل پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ صرف اشفاق کی کہانی نہیں ہے۔

عجیب اتفاق ہے کہ یہ کتاب پڑھتے ہوئے میرے سامنے اسی نوعیت کا ایک سائبر ہراسانی کا معاملہ زیرِ گردش ہے۔ یہ معاملہ بھی میڈیا سے منسلک شخصیت، بنیظیر شاہ کا ہے۔ ڈیپ فیک کے ذریعے ان کی بنائی گئی جھوٹی اور تضحیک آمیز ویڈیو سوشل میڈیا پر جگہ جگہ گردش کر رہی ہے۔

اسی لیے میرے خیال میں یہ کہانی ہمارے اردگرد ہر اس ڈرے اور سہمے شخص کی ہے۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ اپنے زخموں کو کھول کر سب کے سامنے پیش کرنے کی ہمت صرف اشفاق نے کی ہے۔

اشفاق نے رنج و غم کی وہ سیاہی جو ان کے دل اور دماغ پر چھائی رہی، بیان کر کے اس مفروضے کو تہہ و بالا کیا ہے کہ مرد کو درد نہیں ہوتا۔ اسی حوالے سے میڈم عرفان ملاح کتاب کے ابتدائی صفحات میں بڑی تفصیل سے لکھ چکی ہیں۔ میں یہاں صرف اتنا کہوں گا کہ اشفاق نے نفرت کی دریافت کے ذریعے اپنے درد کی پٹاری جس ہمت سے کھولی، وہ قابلِ داد ہے۔

یہ کہانی جامشورو کی پتھریلی زمین کی ایک جامعہ سے شروع ہوتی ہے اور دائرہ وسیع ہوتے ہوتے “سابقہ سپریم کورٹ آف پاکستان” اور موجودہ “سپریم ڈسٹرکٹ اینڈ جوڈیشل کورٹ” تک پھیل جاتا ہے۔ یہ روداد ہے ان سیاہ راتوں کی جو اشفاق لغاری کو جھیلنا پڑیں، جب انہیں اپنی ہی جامعہ کے ساتھی کی جانب سے بنائی گئی جھوٹی اور برہنہ تصویروں کے ذریعے فیس بک پر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔

اس کے بعد اشفاق نے پاکستانی عدالتوں کا دروازہ اس امید پر کھٹکھٹایا جو کہ دیوانے کے خواب جیسی تھی—یعنی پاکستانی عدلیہ سے انصاف کی امید۔

مرزا غالب کو سنیں تو اشفاق کی اس جرات کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے:
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

جبکہ امریکا میں مقیم سندھ کے خوبصورت شاعر اور لکھاری حسن مجتبیٰ نے اشفاق کی اس جرات کو “مگرمچھ کے منہ میں سفر کرنے” سے تشبیہ دی ہے۔

اس کہانی کے مرکزی کردار کو اشفاق نے “نامہربان دوست” قرار دیا ہے۔ بقول اشفاق، اس نامہربان دوست نے انہیں جھوٹے روپ کے سچے درشن کرائے۔ اشفاق نے کتاب میں اسے آصف کے نام سے لکھا ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ اشفاق نے ارادتاً یہ نام چنا یا یہ غیر شعوری عمل تھا، کیونکہ آصف تو تاحیات استثنیٰ پا چکا ہے، جبکہ اشفاق کے آصف کے خلاف سائبر ہراسانی کا مقدمہ ابھی تک انجام کو نہیں پہنچا۔

اس کتاب نے ایک اور دلچسپ مگر خوفناک پہلو بھی بے نقاب کیا ہے کہ روزمرہ زندگی میں ہم سے ملنے والے بظاہر نفیس لوگ بھی کتنے بھیانک ثابت ہوسکتے ہیں۔ جو “اپنے” لگتے ہیں وہ بھی کتنے زہر آلود ہو سکتے ہیں۔ “اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں” کی تشریح جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے، پوری طرح واضح ہوتی جاتی ہے۔

ساتھ ہی اشفاق کے اس سائبر کرائم مقدمے کی تفصیل پڑھ کر ہمارے نظامِ عدل کی کمزوریاں اور خامیاں بھی سامنے آتی ہیں۔ یہ کہانی تمام سائبر ہراسانی کے شکار افراد کے لیے ایک طرح کی گائیڈ بُک ہے، جس میں ججوں کے رویوں، ان کی سائبر مقدمات سے متعلق سمجھ بوجھ، اور اعلیٰ عدالتوں میں بیٹھے پراسیکیوٹرز کی مہارت (یا اس کی کمی) تک کا کچا چٹھا کھول دیا گیا ہے۔

اشفاق نے اپنی کتاب کے ذریعے اپنے تلخ تجربات کو نچوڑ کر تمام متاثرین کے سامنے رکھ دیا ہے۔
اگر اسے فیض صاحب کے الفاظ میں کہا جائے تو:
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

حسن مجتبیٰ، اشفاق کی کہانی کو “بیہودگی کے ڈیجیٹل جلوس” کی کہانی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پاکستان میں اس موضوع پر پہلی کتاب ہے۔

میرے خیال میں یہ پہلی کتاب ضرور ہو سکتی ہے، مگر یہ داستان ہر اس فرد کی ہے جو سائبر ہراسانی کا شکار ہے۔