صحافی ہراسانی کیس: جسٹس عیسیٰ کو لارجر بینچ میں شامل کرنے کی تجویز

صحافی ہراسانی کیس: جسٹس عیسیٰ کو لارجر بینچ میں شامل کرنے کی تجویز
صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کے لارجر بینچ میں شامل ایک جج نے تجویز دی ہے کہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد مضبوط کرنے کے لیے ان دو ججز کو بھی لارجر بینچ میں شامل کیا جائے جنہوں نے ابتدا میں اس کیس کی سماعت کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس قاضی محمد امین نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا یہ بہتر نہیں کہ جن ججز (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل) نے 20 اگست کا حکم جاری کیا تھا انہیں اس بینچ کا حصہ بنایا جائے؟' اس پر اٹارنی جنرل نے اتفاق کیا تو لارجر بینچ کے سربراہ قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت کا 20 اگست کے اہم حکم میں مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ کے اس حکم نے کچھ مشکلات پیدا کیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ایک خط می لکھا تھا کہ لارجر بینچ کا 23 اگست کا حکم غلط فہمی پر جاری کیا گیا کہ جیسے 2 رکنی بینچ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے کیس میں ازخود نوٹس لیا ہے۔ جسٹس قاضی امین، جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم لارجر بینچ کا حصہ ہیں جو عوامی اہمیت کے معاملات پر ازخود نوٹس کے لیے طریقہ کار کا تعین کرنا چاہتا ہے۔ جسٹس قاضی امین کی تجویز پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کے خصوصی دائرہ اختیار میں آتی ہے، تاہم بینچ جتنا بڑا ہو اتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔

ابتدا میں اٹارنی جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کا موجودہ بینچ ’مانیٹرنگ بینچ‘ نہیں ہے۔ یہ مانیٹرنگ بینچ نہیں ہے بلکہ ایک بڑا بینچ ہے جس نے علیحدہ معاملہ اٹھایا ہے جس کی سماعت نہیں ہوئی تھی اس لیے اس پر کارروائی ہوسکتی ہے۔

جسٹس قاضی امین کی تجویز کے حوالے سے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے تجربے کے مطابق لارجر بینچ کی تشکیل سے عدالتوں کا کام متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ لارجر بینچ کسی چیز سے روک نہیں رہا لیکن آئین کی دفعہ 184 (3) کے تحت درخواستوں کا انتظام کرنے کے لیے کوئی طریقہ کار تلاش کرنا مناسب ہوگا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’آپ دستاویزات کو پہلے دفتر میں رجسٹرڈ کروانے کے بجائے (عدالتی) بار کے حوالے نہیں کرسکتے ورنہ پورا نظام زمین بوس ہوجائے گاـ اس طرح کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی آئین کے تحت قائم ڈھانچے کو تباہ نہیں کر سکتا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اہم سوال یہ ہے کہ از خود نوٹس کے اختیار کو کون استعمال کر سکتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایک بینچ بھی یہ کرسکتا ہے لیکن معاملہ چیف جسٹس کو بھجوانا ایک انتظامی طریقہ کار ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں 2 رکنی بینچ کی جانب سے 20 اگست کو دیے گئے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن موجودہ کارروائی کا ایک ممکنہ نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ حکم نامے کے آخری پیرا میں اس حد تک تبدیلی کردی جائے کہ 26 اگست کو 2 رکنی بینچ کے لیے سماعت مقرر کرنے کے بجائے ہراسانی کا معاملہ چیف جسٹس کو ارسال کردیا جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ازخود نوٹس کو اس انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے کہ جس سے ساکھ، یقین اور تسلسل ظاہر ہو۔

اٹارنی جنرل کے مطابق عدالت کا بنیادی کام اپیلیں سننا ہے اور 50 ہزار سے زائد زیر التوا مقدمات کے ساتھ اس دائرہ اختیار کو کچھ خاص مقدمات کے لیے چھوڑنے کی ضرورت ہے جہاں ہائی کورٹ لوگوں کو ریلیف فراہم نہیں کر سکتی یا جہاں سپریم کورٹ کی سطح پر مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔