پاکستان کا دوسرا مواصلاتی سیٹلائٹ پاک سیٹ ایم ایم وین لانچ کیلئے تیار

سپارکو کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک سیٹ ایم ایم ون پاکستان بھر میں ٹی وی براڈکاسٹنگ، سیلولر فون سروس، اور براڈ بینڈ سروس کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا اور یہ اس سال اگست میں اپنی سروس فراہم کرنا شروع کر دے گا۔ یہ سیٹلائٹ پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز نے دن رات کی محنت کے بعد تیار کیا ہے۔

پاکستان کا دوسرا مواصلاتی سیٹلائٹ پاک سیٹ ایم ایم وین لانچ کیلئے تیار

پاکستان کا دوسرا مواصلاتی سیٹلائٹ پاک سیٹ ایم ایم ون لانچنگ کیلئے تیار ہے۔ جدید مواصلاتی سیٹلائٹ 30 مئی کو خلامیں بھیجا جائے گا۔

سپارکوکا ملک کےکونے کونے تک انٹرنیٹ پہنچانے کا خواب چنددن کی دوری پر ہے۔ سپارکو کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا جدید مواصلاتی سیٹلائٹ 30 مئی کو خلامیں بھیجا جائے گا۔ پاک سیٹ چین کے شیچانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلاء میں بھیجا جائے گا. ہائی پاور ملٹی مشن سیٹلائٹ جدید کمیونیکیشن سروسز فراہم کرے گا اور دوردرازعلاقوں میں ہائی اسپیڈ کنیکٹوٹی اوربراڈبینڈ سروس میں معاونت کرے گا۔

پاک سیٹ ایم ایم ون پاکستان بھر میں ٹی وی براڈکاسٹنگ، سیلولر فون سروس، اور براڈ بینڈ سروس کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا اور یہ اس سال اگست میں اپنی سروس فراہم کرنا شروع کر دے گا۔ یہ سیٹلائٹ پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز نے دن رات کی محنت کے بعد تیار کیا ہے۔

سیٹلائٹ خراب ترین موسمی حالات میں بھی مستحکم کنیکٹوٹی فراہم کرے گا. اس سیٹلائٹ کی لائف 15 سال ہو گی۔

پاک سیٹ ایم ایم ون آر پاکستان بھر میں ٹی وی نشریات، سیلولر فون سروس اور براڈبینڈ سروس بہتر بنانے میں مدد دے گا اور یہ رواں برس اگست میں اپنی سروس فراہم کرنا شروع کر دے گا۔

سیٹلائٹ پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئرز نے رات دن کی محنت کے بعد تیار کیا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

اس کے علاوہ پاکستان کا ایک اور ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بھی خلا میں موجود ہے، جس کا نام پی آر ایس ایس ون ہے جو کہ 2018 میں لانچ کیا گیا تھا۔

یاد رہے پاکستانی سیٹلائٹ آئی کیوب قمر چینی مشن چانگ ای 6 کیساتھ 3 مئی کو چاند پرروانہ ہواتھا۔ یہ تاریخی لمحہ پاکستان کے وقت کے مطابق 3 مئی کی دوپہر 2 بج کر 18 منٹ پر چین کے ہینان سپیس لانچ سائٹ سے خلا میں بھیجا گیا تھا۔

اس موقع پر پاکستان کے ماہرین کی ٹیم سپیس سینٹر میں موجود تھی۔ سیٹلائٹ مشن کی روانگی کے وقت لانچ سائیڈ پر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا گیا اور نعرہ تکبیر سے ہال گونج اٹھا۔

انسٹیٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی کی کور کمیٹی کے رکن ڈاکٹر خرم خورشید نے بتایا کہ آئی کیوب قمر کا ڈیزائن اور ڈیویلپمنٹ چین اور سپارکو کے اشتراک سے تیار کیا گیا۔

پاکستان کے مصنوعی سیارے کا وزن 7 کلو ہوگا اور چاند کے مدارکے چکر کاٹے گا ۔ اس مشن سے لی جانے والی تصاویر تحقیقی مقاصد میں کام آئیں گی۔

بعد ازاں پاکستان کے پہلے سیٹلائٹ مشن ’آئی کیوب قمر‘نے کامیابی کیساتھ چاند کے مدار سے پہلی تصویر بھیجی تھی۔