رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کا مرکزی اجلاس پشاور میں جاری ہے جبکہ اسلام آباد، لاہور اور کوئٹہ کی زونل کمیٹیوں کو چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی۔
نیا دور کے مطابق مرکزی چیئرمین عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا، پورے پاکستان سے 19 رکنی مرکزی اور 6 زونل کمیٹی کے ممبران شریک ہیں۔
مرکزی اجلاس میں ملک بھر کی زونل کمیٹوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے، چاند کی رویت پر زونل کمیٹوں کی رپورٹ کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ممبر کمیٹی مفتی عتیق اللہ نے بتایا کہ چاند سے متعلق شہادتوں کے لیے رات11 بجے تک انتظار کریں گے۔
کمیٹی ممبر کا مزید کہنا تھا کہ مفتی پوپلزئی کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں، شہادتوں کا جائزہ لیا جائے گا، محکمہ موسمیات کے مطابق چاند نظر آنے کے امکانات کہیں پر بھی نہیں ہیں۔رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
نیا دور کے مطابق لاہور میں کالی گھٹائیں چھا گئیں ،آسمان پر گہرے بادل ہیں اور ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں۔لاہور میں ایوان اوقاف میں زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس شروع ڈی جی اوقاف خالد محمود کی زیر صدارت شروع ہوا۔
ڈی جی اوقاف خالد محمود سندھو کا کہنا تھا کہ لاہور میں رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا، چاند نظر آنے یا نا نظر آنے کا حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔کوئٹہ میں بھی زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جہاں کمیٹی نے اعلان کیا کہ تاحال بلوچستان کے کسی علاقے سے چاند نظر آنے کی شہادت نہیں ملی۔
مولانا انوار الحق حقانی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کسی بھی علاقے میں رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا، بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں مطلع آبر آلود تھا، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو بلوچستان کے صورتحال سے آگاہ کردیا۔
اسی طرح اسلام آباد میں زونل رویت ہلال کمیٹی کے ارکان وزارت مذہبی امور کی چھت پر چاند دیکھنے کے لیے موجود رہے۔کمیٹی کے شرکاء علامہ سجاد حسین نقوی، مفتی عبدالسلام جلالی اور مفتی محمد اقبال نعیمی، علامہ ہارون الرشید بالاکوٹی، پیر محمد ممتاز احمد ضیا نظامی بھی شریک ہوئے۔
اسلام آباد میں بھی زونل کمیٹی نے رمضان المبارک کا چاند نظر نہ آنے سے متعلق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو آگاہ کردیا، چاند نظر آنے یا آنے سے متعلق اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔
ذرائع محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اسلام آباد میں مطلع ابر آلود ہونے کے سبب چاند نظر آنے کا امکان نہیں۔ماہرین کے مطابق رمضان المبارک کا چاند جمعہ کو صبح 5 بج کر 45 منٹ پر پیدا ہوا، غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر زیادہ سے زیادہ 14 گھنٹوں سے کم ہوگی۔ماہرین کا کہنا تھا کہ رویت ہلال کے لیے چاند کی 19 گھنٹوں سے زائد ہونی چاہیے، چاند کا سورج سے زاویائی فاصلہ جو کم از کم 10 ڈگری وہ آج 5 ڈگری ہے۔
ماہرین کے مطابق غروبِ شمس اور غروبِ قمر کے درمیان فرق کم از کم 40 منٹ ہونا چاہیے، فرق کوئٹہ اور جیوانی میں 30 منٹ جبکہ پاکستان کے دیگر تمام علاقوں میں 29 منٹ ہو گا۔
ماہرین نے بتایا کہ لاہور میں غروب آفتاب کا وقت 6 بجے ہے، لاہور میں چاند نظر آنے کا وقت 6 بجکر 32 منٹ ہے جبکہ پنجاب میں چاند نظر آنے کا وقت 6 بجکر 47 منٹ تک ہوگا۔