Get Alerts

بلوچستان میں محبت کا جرم: ایک عورت، ایک گولی، ایک المیہ

نفرت اور محبت کی جنگ میں ہمیشہ محبت ہی ہارتی ہے، کیونکہ محبت کرنے والے معصوم ہوتے ہیں۔ نفرت کے سوداگر سنگدل ہوتے ہیں۔ وہ جان لے لیتے ہیں، محبت والے جان دے دیتے ہیں۔

بلوچستان میں محبت کا جرم: ایک عورت، ایک گولی، ایک المیہ

ایک بات سمجھ لیں، تعویذ باندھ کر گلے میں لٹکا لیں — عورت محبت کر سکتی ہے، عورت کسی کو بھی پسند کر سکتی ہے، اور ہاں! وہ اپنی پسند سے شادی بھی کر سکتی ہے۔ اگر آپ یہ اتنی سی بات نہیں سمجھ سکتے، تو آپ جاہل ہیں۔

وہی گھٹیا ترین قدیم بلوچی روایات، وہی بےغیرتوں کا ٹولہ جسے جرگہ کہا جاتا ہے، اور وہی ظلم میں پسی ہوئی عورت۔۔۔ بلوچ عورت۔

وہ ایک عورت تھی، بلوچ تھی، شاید تعلیم یافتہ بھی تھی۔ سب کچھ ٹھیک تھا، لیکن وہ ایک "جرم" کر بیٹھی — محبت کا۔ دوسرا "جرم" — محبت کی شادی کر لی۔ بھلا پاکستانی، اور اوپر سے بلوچ معاشرے میں ایک عورت کی کیا مجال کہ وہ محبت جیسا جرم کرے؟

وہ پیدا ہوتی ہے تو اسے قدیم بلوچی روایات کے مطابق پالا جاتا ہے۔ وڈیرہ مائی باپ، اور ماں باپ وڈیرے کے غلام۔ اس بلوچ عورت کے خواب وہیں سے ریزہ ریزہ ہونے لگتے ہیں۔ وہ چاہ کر بھی ان روایات کی زنجیروں سے آزاد نہیں ہو سکتی۔

اگر وہ کوئی اور جرم کرتی، تو شاید بچ جاتی۔ لیکن اس نے محبت کا جرم کیا۔ بھلا نفرت زدہ معاشرے میں محبت کی کیا جگہ؟ نفرت والے معاشروں میں صرف نفرت پنپتی ہے۔ وہاں اگر کوئی محبت کرے گا تو جان سے جائے گا۔

محبت ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے، نفرت کم۔ لیکن نفرت کی تپش اتنی شدید ہوتی ہے کہ وہ محبت کو پنپنے نہیں دیتی۔

وہ محبت کر بیٹھی۔ اسی سے شادی کر لی۔ بےغیرتوں کا ٹولہ (جرگہ) بیٹھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ وہ اٹھی اور جرگے کے سامنے بولی: "جھوٹا الزام مت لگاؤ! میں نے کوئی زنا نہیں کیا، اپنی محبت سے شادی کی ہے۔"

کوئی کسی کو بتائے کہ محبت تو پاکیزہ ہوتی ہے، محبت تو نیک جذبہ ہے، محبت تو فاتحِ عالم ہے۔ محبت میں کیسا گناہ؟ محبت میں کسی سے کیا ڈرنا؟

بزدل جرگے نے شاہی فرمان جاری کیا کہ اس محبت زدہ عورت کو دونوں خاندانوں کے سامنے گولی مار کر قتل کر دیا جائے۔ میں اسے قتل نہیں، شہادت کہوں گا۔

وہ یہ فرمان سن کر گھبرائی نہیں، روئی نہیں، جھکی نہیں۔ اس نے رحم کی فریاد نہ کی۔ وہ شان سے اٹھی، قرآن مجید کو سینے سے لگا کر مقتل کی طرف گئی۔

مردوں کا جمِ غفیر تھا۔ ایک مرد آگے بڑھا۔ ہاتھ میں پستول تھا۔ کہتے ہیں وہ اس کا بھائی تھا۔ بزدل بھائی سامنے سے فائر نہ کر سکا، اس نے پیچھے سے سر پر گولی ماری۔ محبت پھر ہار گئی، نفرت جیت گئی۔

اس کے آخری الفاظ شاید یہ تھے:
"صرف سم أنا اجازت ء نمے، صرف گولی کی اجازت ہے تمہیں"

نفرت اور محبت کی جنگ میں ہمیشہ محبت ہی ہارتی ہے، کیونکہ محبت کرنے والے معصوم ہوتے ہیں۔ نفرت کے سوداگر سنگدل ہوتے ہیں۔ وہ جان لے لیتے ہیں، محبت والے جان دے دیتے ہیں۔

سنا تھا، عورت محبت کی استاد ہے۔ عورت کا وجود ہی محبت ہے۔ جب وہ کسی سے محبت کرتی ہے، تو پھر کچھ بھی ہو جائے، وہ اس محبت سے پیچھے نہیں ہٹتی — اور بلوچستان میں آج یہ بات پھر سچ ثابت ہوئی۔

واصف علی واصفؒ نے کہا تھا:
"محبت کر جانا سچ نہیں ہے، محبت کا ہو جانا سچ ہے"

محبت نہ رنگ دیکھتی ہے، نہ ذات پات، نہ اونچ نیچ۔ یہ تو ایک ایسا جذبہ ہے جو بس ہو جاتا ہے۔ پھر چاہے اندھی آئیں، طوفان آئیں، پوری دنیا مخالف ہو جائے — وہ مل کر بھی اس جذبے کو ختم نہیں کر سکتے۔

محبت کی یہی خوبی اسے ممتاز بناتی ہے: یہ پاکیزہ لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ نفرت کوئی بھی کر سکتا ہے، محبت ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ محبت تھوڑی ہو کر بھی غالب رہتی ہے۔ شاید اسی لیے اسے مٹانے کے لیے جرگہ بلانا پڑتا ہے۔
تحریر :  ڈاکٹر محمد شافع صابر

مضمون نگار ڈاکٹر ہیں اور سر گنگارام ہسپتال لاہور میں آرتھوپیڈک سرجری کی ٹریننگ کر رہے ہیں۔