Get Alerts

"امریکی سامراج کو اصل چیلنج چین نہیں، بھارت دے گا"

ہم روزِ اول سے ہی سرد جنگ کا حصہ بن گئے، ہمیں اسلحہ چاہیے تھا، طاقت چاہیے تھی، بنگلہ دیش کے معاملے پر اس وقت کی پاکستانی قیادت کو سیاسی سمجھوتہ منظور نہیں تھا جو کہ اس وقت ایک واحد حل تھا

سینیئر صحافی وجاہت مسعود کا کہنا ہے کہ پاکستان 1947 ہی سے امریکی کیمپ کا حصہ تھا۔ بانی پاکستان نے یہ طے کر لیا تھا کہ ہم اپنے محل وقوع کے ذریعے اپنی اہمیت بنائیں گے اور اس کا مطلب یہی لیا جا سکتا ہے کہ وہ اسی کو پاکستان کی معیشت کا ذریعے سمجھتے تھے۔

نیا دور کے پروگرام 'ون آن ون' میں میزبان علی وارثی سے بات کرتے ہوئے وجاہت مسعود کا کہنا تھا کہ برٹش انڈین آرمی کا تیسرا حصہ پاکستان کے حصے میں آ گیا، اور ہمارے پاس دو ہی آپشن تھے کہ یا تو فوج چھوٹی کریں یا پھر وسائل بڑھائیں۔ دونوں کی غیر موجودگی میں کسی جنگ میں پاکستان کو دھکیل دینا ہی ایک آخری آپشن بچا تھا۔ لہٰذا پاکستان کے وزیر اعظم نے کشمیر کو خالی اونچی پہاڑیاں کہہ کر ٹھکرا دیا اور سردار پٹیل کی پیشکش کے باوجود کشمیر لینے سے انکار کر دیا۔ پاکستان کے حجم اور ضرورت سے زیادہ بڑی فوج رکھنے کا یوں ہمیں ایک بہانہ میسر آ گیا۔

امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی تاریخ بیان کرتے ہوئے سینیئر صحافی کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی زندگی میں ہی کھو چکے تھے۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے پاکستان 49 دن کا دورہ امریکہ کا کیا۔

وجاہت مسعود نے بتایا کہ یحییٰ خان نے مجیب الرحمن کو کہا تھا کہ اپنے لڑکوں کو اسلام کے لئے کام کرنے کا کہو۔ یحییٰ خان پہلا ڈکٹیٹر تھا جس نے 'ملّا' کو اپنے خاص مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم روزِ اول سے ہی سرد جنگ کا حصہ بن گئے۔ ہمیں اسلحہ چاہیے تھا، طاقت چاہیے تھی۔ بنگلہ دیش کے معاملے پر اس وقت کی پاکستانی قیادت کو سیاسی سمجھوتہ منظور نہیں تھا جو کہ اس وقت ایک واحد حل تھا۔

"1971 میں ہمارے لوگ چین گئے تو چو این لائی نے تین سوالات کیے: ایک، کیا بنگال کے عوام آپ کے ساتھ ہیں؟ دو، کیا وہاں موجود آپ کا آخری فوجی آخری گولی تک لڑے گا؟ تین، اگر آپ وہاں جنگ ہار گئے تو کیا مغربی پاکستان میں جنگ جاری رکھیں گے؟ ان سوالوں کا یہ کیا جواب دیتے؟"

وجاہت مسعود نے کہا کہ تب سے لے کر اب تک پاکستانی میڈیا عوام کو گمراہ کر رہا ہے، یہ میڈیا جھوٹ بولتا ہے اشاروں پر ناچتا ہے اور ڈرامے بازیاں کرتا ہے کہ فلاں ہماری مدد کو آ جائے گا، فلاں ہماری مدد کو آ رہا ہے۔ مغربی پاکستان کو 71 میں امریکہ نے بچایا۔

اس سوال پر کہ آنے والے سالوں خصوصاً نئے امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کے دور میں پاکستان کو کیا پالیسی اپنانی چاہیے، وجاہت مسعود نے کہا کہ اس وقت دنیا کو لگ رہا ہے کہ چین امریکی سامراج کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے لیکن اپنے تاریخ کے مطالعے کی روشنی میں میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے لئے اصل چیلنج ہندوستان ہے۔

"بد قسمتی سے اس وقت پاکستان میں بے یقینی کا ایسا عالم ہے کہ ہمارے پاس ایسی کوئی شخصیت نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ ہمارا چین کے ساتھ ثقافتی، سیاسی اور جغرافیائی تعلق بہت کمزور ہے جب کہ انڈیا سے ہمارا ثقافتی، سیاسی، تاریخی اور جغفرائی تعلق بہت مضبوط ہے۔ امریکہ کو دشمن کہنے والوں کے بچے امریکہ میں پڑھتے اور رہتے ہیں اور وہ خود ریٹائر ہونے سے پہلے ہی امریکہ کی سکونت لے لیتے ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب ہمیں statesmanship کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آج سے دس سال بعد ہمیں بھی اندازہ ہوگا اور ہندوستان کو بھی کہ یہ وہ وقت تھا کہ جب ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے پوری کوشش کرنی چاہیے تھی۔"