آزاد مہدی شاہدرہ کا داستان گو ہے۔ اس کا نیا ناول ' پیرو' شاہدرہ کی ہی داستان گوئی ہے۔ شاہدرہ لاہور کی نواحی بستی ہے۔ دریائے روای شاہدرہ کی مانگ کا سندور تھا مگر جب تک سندور پر ایمان رکھنے والے روای کنارے آباد رہے تب تک روای بھی تنومند جوان رہا۔ اب شاہدرہ کنارے لاغر بوڑھے کی زندگی بسر کر رہا ہے۔
' پیرو' کی ابتدا میں آزاد مہدی نے جس طرح شاہدرہ کا تعارف کروایا، یوں لگتا ہے جیسے آپ طلسم ہوش ربا میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس بستی کی ایک ایک گلی دل کے اندر اترتی ہوئی محسوس ہوتی اور بازار تو لگتا جیسے سینے کے ساتھ لگ گیا ہو۔ پھر ان گلی کوچوں سے دریا کی طرف جاتا رستہ گویا جنت کا رستہ لگتا ہے۔ میں نے بچپن میں روای کی طرف جاتے رستوں پر بہت سفر کیا۔ تب روای کے حالات بہت بہتر تھے۔ اب تو روای ہی اجڑ گیا۔ شاہدرہ کی مانگ اجڑ گئی ہے۔
میں آج بھی روای سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر انہی راستوں پر سفر کر رہا ہوں۔ آزاد مہدی میرا ہاتھ پکڑے پھر سے ان راستوں کی پرانی کہانیاں سنانے لگ گیا ہے۔ جس شاہدرہ اور روای کی کتھا کو آزاد مہدی نے ادبی کسوٹی پر پرکھ کر ایک شاہکار بنا دیا، اسی شاہدرہ کے ناعاقبت اندیش لوگ آزاد مہدی کے گھر نیزے اور بھالے لیے کر چڑھ دوڑے۔ جس ' پیرو' میں شاہدرہ کی اساطیری کہانی بیان کی گئی، اُس کہانی کو ہی نذرِ آتش کر دیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسی شاہدرہ کے چوک میں آزاد مہدی کا مجسمہ لگ جاتا۔ مگر اس تخلیق کے بعد آزاد مہدی کو اپنا ہی شاہدرہ چھوڑنا پڑ گیا۔
ہائے ہائے، آزاد مہدی! جو شاہدرہ کی مانگ کے سندور روای کو اجاڑ چکے ہیں ان کے نزدیک ایک شاہدرہ کے داستان گو کی کیا اہمیت؟ ' پیرو' ایک لاوزول تخلیق ہے اور شاہدرہ کے ماتھے کا جھومر ہے۔ آج نہیں تو کل اہلِ شاہدرہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گا اور ' پیرو' شاہدہ کے ہر گھر میں میں موجود ہو گا۔