ہم پاکستانی بھی بہت ہی 'وکھری' قوم ہیں۔ اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں ہر گز دلچسپی نہیں رکھتے۔ البتہ دوسروں کی زندگی میں دخل دینا اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔ خود خوش رہنا نہیں چاہتے اور دوسروں کی خوشی برداشت نہیں ہوتی۔ اپنی حالت درست نہیں کرنی مگر دوسروں کو بھاشن فی سبیل اللہ لازمی دینا ہے۔ فضا علی نے تیسری شادی کر لی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ زندگی کا بھرپور لطف اٹھا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی خوشی کو ہمارے ساتھ شئیر بھی کر رہی ہے مگر دنیا سے یہ خوشی برداشت نہیں ہو رہی۔ کچھ دنوں قبل ایک شو میں ان کے شوہر نے انہیں اپنے کندھے پر اٹھا لیا۔ ہر طرف شور مچ گیا۔ فحاشی اور بےہودگی کی ہا ہا کار مچ گئی۔ فضا علی کو سب مذہب اور اخلاقیات کا درس دینے میں جت گئے۔ جو بہت ہی خاندانی حضرات تھے انہوں نے بہتان تراشی کرنا شروع کر دی۔ انتہائی غلیظ زبان میں ان کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ایک تو ہمارے یہاں سیدھی بات بھی گالم گلوچ کے بغیر نہیں ہوتی۔ اور الزام تراشی کے لئے تو بے ہودگی کی تمام حدود پار کر لی جاتی ہیں۔ ایک سوشل میڈیا کے ہیرو پہلے قذف کے مرتکب ہوئے پھر فرمانے لگے کہ فضا علی کی عمر پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں پالنے کی ہے۔ یقیناً ان کی آنکھیں اور دماغ بھی زبان کی طرح خراب ہیں۔ فضا علی تو جوان ہی لگتی ہیں۔
مرد تو مرد عورتیں بھی فضا علی کے خلاف پوڈ کاسٹ کرنا شروع ہو گئیں۔ ان کی معصوم بیٹی پر بھی گھٹیا الزامات لگائے گئے۔ جو بکواس کی گئی وہ یہاں لکھنے کے قابل نہیں۔ ہر بار کی طرح ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ ہمارے یہاں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں۔
مجھے لگتا ہے قوم ابھی تک فضا علی سے متعارف نہیں ورنہ جو کچھ وہ کرتی ہیں، کرتی رہی ہیں اور کرتی رہیں گی—ان حرکات کی وجہ سے لوگ ان پر تنقید نہ کرتے۔ یقیناً وہ فضا علی کو فرحت ہاشمی ٹائپ مبلغہ دین یا پردہ نشین خاتون سمجھتے ہیں۔ جب ہی انہیں یہ مشورہ دیتے ہیں کہ لائیو شو میں یا ٹک ٹاک وڈیوز کے ذریعے بیڈ روم والی زندگی عوام الناس تک مت لائیں۔
قوم کو خبر نہیں کہ شو بز بہت ظالم چیز ہے۔ شہرت کا نشہ ہیروئین کے نشے سے بھی زیادہ جان لیوا ہے۔ یہ رگوں میں اترنے والا ایسا زہر ہے جو اگر نہ ملے تو انسان مردے سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ وحید مراد اور راجیش کھنہ کی زندگی تو سب کے سامنے ہے۔ دونوں سپر سٹار تھے۔ کھنہ صاحب کی سفید رنگ کی گاڑی لڑکیوں کی لپ اسٹک سے لال و لال ہو جایا کرتی تھی۔ وحید مراد کی ریٹنگ گری تو شدید ڈپریشن کا شکار ہو کر بالآخر خالق حقیقی سے جوانی میں ہی جا ملے۔ کھنہ صاحب تنہائی کا شکار ہو گئے۔ اور آج کا شو بز تو انتہائی تیز رفتار ہے۔ سوشل میڈیا کا دجالی دور ہے۔ اگر دن میں تین یا چار پوسٹیں نہ ڈالو تو پرستار بھول جاتے ہیں۔ ہیرا منڈی اور ٹبی گلی سوشل میڈیا پر راج کر رہی ہے۔ مقابلہ سخت ہے۔ روز کنواں کھودنا ہے اور پانی پینا ہے۔ سخت مشقت طلب کام ہے۔ ان حالات میں بیچاری فضا علی سب کے سامنے اپنے آپ کو اپنے شوہر سے نہ اٹھوائے؛ برطانیہ میں پارکوں میں اس کے ساتھ اچھل کود نہ کرے، شوہر بندر کی طرح مہارت سے قلابازیاں نہ کھائے تو اور کیا کرے؟ فضا علی تو کیا ساری دنیا اسی قسم کا پھکڑ پن کرنے میں مصروف ہے۔ فضا کی وڈیوز میں مجھے تو کوئی بے ہودگی نظر نہ آئی۔ برجستگی ضرور ہے۔ ورنہ توایسی کئی ٹک ٹاک ہیروئینیں ہے جو جسم کی نمائش کر کے سوشل میڈیا پر کافی نام کما چکی ہیں۔ ان پر کوئی تنقید نہیں کرتا۔
مسئلہ حسد کا ہے۔ فضا علی ایک خوبصورت شخصیت ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے موجودہ شوہر کے ساتھ خوش ہیں۔ یہاں کئی ٹک ٹاک سٹارز کی پہلی شادی ہی نہ ہو سکی۔ انہیں قلق اس بات کا ہے کہ فضا علی خوش کیوں ہے۔ اس کی زندگی میں بہار کیوں ہے۔ کچھ خاتون ٹک ٹاکرز تو یہ پشن گوئی بھی کر چکی ہیں کہ چند ہی ہفتوں میں فضا علی کی تیسری شادی بھی ناکام ہو جائے گی۔ ہماری تو یہ دعا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش و خرم رہیں اور اچھل کود والی وڈیوز شئیر کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں ورنہ سوشل میڈیا انہیں چند ہی دنوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھلا دے گا۔