Get Alerts

کھول دو — منٹو کا پاکستان

منٹو کے دیگر افسانوں کی طرح "کھول دو" نے بھی قارئین کو جھنجھوڑ دیا۔ اسی دور میں منٹو کو اپنے متعدد افسانوں پر فحاشی کے مقدمات اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ وہ سماج کے ان زخموں کو بے نقاب کر رہے تھے جنہیں لوگ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔

 کھول دو — منٹو کا پاکستان

چودہ اگست قریب ہے۔ جھنڈے تیار ہو رہے ہیں، ترانے بج رہے ہیں، اور ہر سال کی طرح ہم آزادی کا جشن منانے کو ہیں۔ مگر سرکاری جشن سے پہلے کے یہ دن اور رات میرے لیے کئی حوالوں سے پیچیدہ حد تک کربناک ہوتے ہیں۔ ان حوالوں میں ایک فیمینزم بھی ہے، اور عورت کے جسم کو، جنگ ہو یا امن، طاقت، انتقام اور اختیار کے اظہار کے وسیلے کے طور پر استعمال کیے جانے کی روایت بھی۔

میں نے آج کے پاکستان کو مختلف زاویوں سے دیکھ کر اس پر کئی مضامین لکھے ہیں۔ آج میں اسے سعادت حسن منٹو کے افسانے " کھول دو" کی آنکھ سے دیکھنا چاہتی ہوں۔

سعادت حسن منٹو کا یہ مختصر افسانہ ذہن کے کسی گوشے میں ہمیشہ سانس لیتا رہتا ہے، شاید اس لیے بھی کہ میرا کام صنفی تشدد کی تشخیص، روک تھام اور تدارک سے جڑا رہا ہے۔ یہ افسانہ اپنی اذیت میں آج بھی اتنا ہی تازہ ہے، جیسے کل ہی لکھا گیا ہو، جیسے آج ہی کی بات ہو۔

تقسیم کے فوراً بعد لکھی جانے والی اس کہانی نے اردو ادب میں ایک ایسا زخم کھولا جسے بند کرنا ممکن نہ تھا۔ منٹو کے دیگر افسانوں کی طرح " کھول دو" نے بھی قارئین کو جھنجھوڑ دیا۔ اسی دور میں منٹو کو اپنے متعدد افسانوں پر فحاشی کے مقدمات اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ وہ سماج کے ان زخموں کو بے نقاب کر رہے تھے جنہیں لوگ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ گویا سچائی خود ایک جرم ٹھہری، اور قلم کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔

کہانی کا خلاصہ سادہ مگر دل دہلا دینے والا ہے۔ سراج الدین نامی ایک بزرگ ہجرت کے دوران لاہور کے ایک مہاجر کیمپ میں ہوش میں آتا ہے۔ اسے یاد آتا ہے کہ فسادات میں اس کی بیوی قتل کر دی گئی، اور بھگدڑ میں وہ اپنی بیٹی سکینہ سے بچھڑ گیا۔

"..........  سکینہ کا دوپٹہ گر پڑا تھا۔ اسے اٹھانے کے لیے سراج الدین نے رکنا چاہا، مگر سکینہ نے چلا کر کہا، 'ابا جی، چھوڑئیے۔۔۔' لیکن اس نے دوپٹہ اٹھا لیا تھا۔۔۔ یہ سوچتے سوچتے اس نے اپنے کوٹ کی بھری ہوئی جیب کی طرف دیکھا اور ہاتھ ڈال کر ایک کپڑا نکالا۔۔۔ سکینہ کا وہی دوپٹہ تھا۔۔۔ لیکن سکینہ کہاں تھی؟"

بھاگتے ہوئے سکینہ کا دوپٹہ گر پڑا تھا۔ سراج الدین رکنا چاہتا تھا، دوپٹہ اٹھانا چاہتا تھا، مگر سکینہ نے کہا تھا، "رہنے دیں، ابا، چھوڑ دیں اسے، بھاگیں۔" وہی دوپٹہ اب اس کی جیب میں پڑا ہے، اور بیٹی کہیں نہیں۔ ایک کپڑے کا ٹکڑا بچ گیا، بیٹی گم ہو گئی۔

وہ دیوانہ وار اسے ڈھونڈتا ہے۔ کچھ نوجوان رضاکار اسے تسلی دیتے ہیں کہ وہ سکینہ کو تلاش کر لائیں گے۔ وہ اسے پا بھی لیتے ہیں، مگر بجائے حفاظت کے، وہی رضاکار، جو نجات دہندہ بن کر آئے تھے، اسی لڑکی کو بار بار درندگی کا نشانہ بناتے ہیں۔ جو ہاتھ بچانے کے لیے بڑھے تھے، وہی نوچنے لگے۔ امداد اور استحصال کے درمیان کا فاصلہ شاید کبھی اتنا مختصر نہیں رہا۔

اور پھر وہ آخری منظر آتا ہے، جس کے بعد اردو افسانہ پہلے جیسا نہیں رہا۔

ڈاکٹر اسٹریچر پر پڑی ہوئی لڑکی کو دیکھتا ہے، نبض ٹٹولتا ہے، اور سراج الدین سے کہتا ہے:

"کھڑکی کھول دو۔"

سکینہ کے نیم مردہ جسم میں جنبش پیدا ہوتی ہے۔ بے جان ہاتھوں سے وہ ازاربند کھولتی ہے اور شلوار نیچے سرکا دیتی ہے۔ بوڑھا سراج الدین خوشی سے چیخ اٹھتا ہے: "زندہ ہے۔۔۔ میری بیٹی زندہ ہے۔۔۔"

اور ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں بھیگ جاتا ہے۔

اس ایک جملے میں، "زندہ ہے"، پوری تقسیم کا المیہ سمٹ آیا ہے۔ باپ کی خوشی اور ڈاکٹر کی دہشت ایک ہی لمحے میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں، مگر ایک دوسرے سے بے خبر۔ منٹو نے نہ کوئی نوحہ لکھا، نہ کوئی نعرہ بلند کیا۔ اس نے صرف ایک جسم کی بے اختیار، اضطراری حرکت دکھا کر پوری تقسیمِ ہند کی بے دردی کو ایک منظر میں سمو دیا۔ ایک ایسی چیخ، جو زبان سے نہیں، جسم کی یادداشت سے نکلی۔

اور شاید سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ منٹو نے مجرموں کو کسی ایک مذہب یا قوم سے وابستہ نہیں کیا۔ نہ ہندو، نہ مسلمان، نہ سکھ۔ اس نے صرف انسان کو، اس کی وحشت کے ساتھ، بے نقاب کیا۔ یہی عالمگیریت اس افسانے کو وقت کی قید سے آزاد کرتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ آج بھی ہمیں آئینے کی طرح گھورتا ہے۔

تقسیم کے دوران عورت کا جسم ایک میدانِ جنگ بن گیا تھا؛ دشمن کی "غیرت" کو للکارنے کا ذریعہ، اور اپنوں کی "حفاظت" کے نام پر بھی استحصال کا نشانہ۔ وہ سرحد جو نقشے پر کھینچی گئی، عورت کے جسم پر بھی کھینچی گئی۔ سکینہ کی کہانی لاکھوں گمنام " سکینہ" کی کہانی تھی، جن کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں کہیں محفوظ نہیں۔ نہ ان کے نام، نہ ان کی چیخیں؛ صرف ایک اجتماعی خاموشی، جو نسلوں تک سفر کرتی رہی۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ماضی کا نوحہ ہے؟

افسوس، جواب نفی میں ہے۔

عورت کے جسم پر تشدد کی وہی منطق، وہی بے حسی، آج بھی ہمارے سماج میں زندہ ہے۔ اب فسادات کے میدان میں نہیں، بلکہ گھر کی چار دیواری میں، گلی کے موڑ پر، اور تھانے کی دہلیز پر، جہاں انصاف مانگنے والی عورت کو بھی بارہا کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ سکینہ کے ساتھ جو ہوا، اس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔ صرف مجرموں کے چہرے بدل گئے ہیں، وردیاں بدل گئی ہیں، اور استحصال نے نئے نئے لباس پہن لیے ہیں۔

سکینہ صرف منٹو کے افسانے کا کردار نہیں؛ وہ ہر اس عورت کا استعارہ ہے جس کے جسم پر طاقت، خوف اور اختیار کی سیاست لکھی جاتی ہے۔

میں اکثر سوچتی ہوں کہ کتنی بیٹیاں آج بھی کسی نہ کسی "کھڑکی کھول دو" کے انتظار میں پڑی ہیں، اور کتنے باپ (اور مائیں بھی) اس سکوت کو زندگی کی علامت سمجھ کر خوش ہو جاتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ خاموشی کبھی رضامندی نہیں ہوتی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ 1947 میں یہ وحشت، سفاکی، خون خواری (سمجھ نہیں آتی کون سا لفظ اس کا صحیح عکاس ہے یا درست مترجم؟) سرحدوں کے عبور کے دوران، فسادات کی آڑ میں ہوئی تھی، اور آج یہ گھر کے اندر، رشتوں کی آڑ میں، اور بسا اوقات انہی ہاتھوں سے ہوتی ہے جو حفاظت کا وعدہ کرتے ہیں۔ استحصال کا لباس بدلا ہے، اس کی روایت نہیں بدلی۔

چودہ اگست کی شام، جب ہم آزادی کے ترانے گائیں گے، پرچم لہرائیں گے، اور روشنیوں سے سڑکیں سجائیں گے، تو شاید یہ سوال بھی اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے: کیا ہماری بیٹیاں، بہنیں اور مائیں واقعی آزاد ہیں؟ کیا وہ گھر میں، دفتر میں، سفر میں اور قبر میں بھی محفوظ ہیں؟ ان کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے؟

منٹو نے " کھول دو" لکھ کر کوئی سبق نہیں دیا، کوئی فیصلہ صادر نہیں کیا، کوئی وعظ نہیں کیا۔ اس نے صرف ایک منظر دکھایا، اور پھر ہمیں ہمارے اپنے ضمیر کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا۔ یہی بڑے ادب کی طاقت ہے۔ وہ جواب نہیں دیتا، سوال ہمارے حوالے کر دیتا ہے۔

آج، تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد، وہ سوال اب بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ کیا ہم نے صرف سرحدیں آزاد کروائی تھیں، یا انسان بھی آزاد ہوا تھا؟ اگر عورت کا جسم آج بھی غیرت، انتقام، طاقت، خوف یا ملکیت کے اظہار کا میدان بنا ہوا ہے، تو ہمیں ماننا ہوگا کہ آزادی کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔

شاید منٹو آج ہمارے درمیان ہوتے تو ہمیں کوئی نیا افسانہ نہ دیتے۔ وہ خاموشی سے " کھول دو" ہی دوبارہ ہمارے سامنے رکھ دیتے اور کہتے: "آئینہ بدلنے سے چہرہ نہیں بدلتا۔" اور شاید یہی سطر ان کے کسی نئے افسانے کا آغاز بن جاتی۔

ڈاکٹر رخشندہ پروین سماجی کارکن اور ادیبہ ہیں۔