امریکہ ایران جنگ کے دوران جہاں سب سے اہم کردار پاکستان کا نظر آرہا ہے وہیں سعودی عرب کو بھی اس تناظر میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے قطع نظر سعودی عرب اسلامی دنیا کی بڑی معاشی طاقت ہے سعودی عرب کی اہمیت اور اصل قدر اس لئے ہے کہ یہ ملک اسلام کا منبع ہے۔ حرمین شریفین دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے دلوں کا مسکن ہیں۔ اس مقدس سرزمین کی زیارت اور حفاظت کو مسلمان اعزاز عظیم تصور کرتے ہیں۔ پاکستان ماضی میں بھی حرمین شریفین کا محافظ رہا اور اب بھی ہے۔ صورتحال اب نمایاں اور منفرد اس لئے ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے بیچ چند ماہ قبل ایک باضابطہ معاہد طے پایا ہے۔ جس کو SMDA (Strategic mutual defence agreement)یعنی باہمی تذویراتی دفاعی معاہدہ کہا جاتا ہے۔
موجودہ حالات کے تناظر میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے باوجود سعودی عرب نے جوابی کاروائی کیوں نہ کی اور اگر سعودی عرب جواب دیتا ہے تو کیا پاکستان بھی ایران پر حملہ کرے گا؟
ان دونوں سوالات کے جوابات کی طرف آنے سے پہلے اس بیانیہ کا ذکر بھی ضروری ہے جو اس وقت پاکستان اور ایران کے بیچ دراڑ ڈالنے کے لئے منظم انداز سے چلایا جا رہا ہے۔ اس بیانیے کو پروان چڑھانے میں افغان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو گمنام یا جعلی شناخت کے ساتھ آپریٹ کر رہے ہیں اور بظاہر خود کو ایرانی فورم یا شخص ظاہر کر کے ایسا مواد پوسٹ کر رہے ہیں جس سے ایرانی عوام یہ سمجھیں کہ پاکستان کی امن کی کوششیں کوئی سازش ہیں۔ بدقسمتی سے اس بیانیے کو پاکستان سے باہر بیٹھے پی ٹی آئی کے سپورٹرز بھی خوب بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہیں۔ اور یہی بیانیہ اس ضمن میں بھی لوگوں کی ذہن سازی کر رہا ہے کہ سعودی عرب نے اگر جواب دیا تو پاکستان ایران پر حملہ کرے گا۔ ایران سعودی عرب ماضی کی رنجش کو دیکھتے ہوئے صیہونی لابی نے انٹرنیشنل میڈیا پر بھی ایسی خبریں لگوائیں کہ جس سے یہ تاثر اجاگر ہوا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے رہا۔ باقی جے شنکر کے بیان نے بھارت کا چہرہ بھی عیاں کیا اور پاکستان کے خلاف بیان دے کر ثابت کیا کہ اسرائیل کی طرح بھارت بھی مذاکرات کو Spoil کرنا یا بگاڑ ڈالنا چاہتا ہے۔
اب آتے ہیں اس سوال کی جانب کہ سعودی عرب نے ابھی تک ایران کے خلاف جوابی کارروائی کیوں نہ کی۔ اس کا جواب عام فہم ہے۔ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایران کو جواب دیا تو اس کا فائدہ صرف اسرائیل کو ہونا ہے۔ خطہ ایک نہ ختم ہونے والی آگ میں گر جائے گا، معاشی، دفاعی اور سیاسی طور پر اسلامی دنیا کمزور ہو گی۔ خلیجی ممالک میں بڑی حد تک یہ سوچ بھی موجود ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ایران کے ساتھ بدترین زیادتی ہے اور سب سے اہم اس جنگ کا جواز بلکل غیر منطقی ہے۔ سعودی عرب کی تحمل کی پالیسی کے پیچھے پاکستان کا کلیدی کردار ہے۔ پاکستان دونوں جانب رابطے میں ہے۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب اور ایران پاکستان کی بات کو سمجھ بھی رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب ایران کو کسی عسکری جواب کا ارادہ نہیں کر رہا۔
اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ اگر سعودی عرب جواب دیتا ہے تو کیا پاکستان بھی ایران پر حملہ کرے گا؟
اس کے لئے ہمیں SMDAکو سمجھنا ہوگا۔ اول تو موجودہ حالات میں اس معاہدے نے ایک فطری اور خودکار Stabiliser کا کردار ادا کیا ہے جیسا کہ پاکستان سعودی عرب کا دفاعی شراکت دار اور ایران کا پڑوسی ہے۔ اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ سعودی عرب نے ابھی تک پاکستان کو SMDA کے تحت شراکتِ دفاع کی درخواست بھی نہیں کی۔ ساتھ ہی ساتھ اس وقت امن کے لئے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو دنیا کے علاوہ برادر ممالک بھی دیکھ رہے ہیں۔ اور یوں یہ معاہدہ سعودی عرب کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی معاون ثابت ہو رہا ہے۔
انتہائی اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح پاکستان مخالف سوچ SMDA کو تجارتی معاہدہ بنا کر پیش کر رہی ہے، یہاں یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ لین دین کا نہیں بلکہ تذویراتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ دونوں ملک مشاورت سے حکمت عملی کو ترتیب دیں گے۔ لین دین کا نام دینا جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔ معاہدے کے خلاف اس وقت ابہام اور جھوٹ پھیلانے والے اس ضمن میں نہ کوئی دلیل دے پا رہے ہیں اور نہ ثبوت۔ SMDA جیسے معاہدے ہنگامی حالات کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ عمومی طور پر استعمال میں لائے جائیں۔ لہٰذا ایران اور پاکستان کے بیچ پھوٹ ڈالنے والوں کو فی الحال منہ کی ہی کھانا پڑ رہی ہے۔ خدا پاکستان کی کوششوں لو رنگ لگائے اور خطے میں امن آئے۔