Get Alerts

نکاح نامہ، ملکیت اور انصاف: ایک ذاتی اور اجتماعی جدوجہد

جہیز کو "حصہ" سمجھ کر وراثت سے محروم کیا جاتا ہے۔ مہر کاغذی رسم بن کر رہ جاتی ہے۔ شادی کے سالوں کی محنت — گھریلو ہو یا پیشہ ورانہ — کو کوئی معاشی قدر نہیں دی جاتی۔ اور جب رشتہ ٹوٹتا ہے تو عورت خالی ہاتھ نکلتی ہے، گویا اس نے اس گھر کی اینٹ تک نہیں رکھی۔

نکاح نامہ، ملکیت اور انصاف: ایک ذاتی اور اجتماعی جدوجہد

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نکاح نامہ اصلاحات کی تجویز اور شادی کو ایک معاشی شراکت داری کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے ازدواجی اثاثوں میں خواتین کے پچاس فیصد حق کی بات — یہ خبر پڑھ کر میں کچھ دیر کے لیے رک گئی۔

یہ خبر سب سے پہلے فرائیڈے ٹائمز نے 25 مارچ 2026 کو شائع کی۔ میں نے اسے صرف پڑھا نہیں، محسوس کیا — کیونکہ یہ میری کہانی بھی ہے۔

پچاس سال کی عمر میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو ایک عجیب ستم ظریفی نظر آتی ہے۔ ساری زندگی عورتوں کے حقوق کے لیے لڑتی رہی — مقالے لکھے، سیمینارز اور کانفرنسز میں بولی، پالیسیاں بنائیں، دوسروں کو راستہ دکھایا۔ لیکن جب اپنی زندگی کی طرف دیکھتی ہوں تو وہی زخم ملتے ہیں جن کے خلاف میں لڑتی رہی۔

ہر طرح کا تشدد بھی سہا، معاشی بے دستی بھی۔ بری کی چیزیں واپس لے لی گئیں، کم تر جہیز کا طعنہ بھی سہا، مہر کبھی ملا ہی نہیں، نکاح نامہ بھی چھپا دیا گیا، اور وہ سب کچھ جو اپنی محنت سے بنایا تھا، وہ بھی چھوڑنا پڑا۔ دھوکے در دھوکے — اور یہ بھی کہ جن سے حمایت کی توقع تھی، انہوں نے بھی پیٹھ پھیری۔

یہ ستم ظریفی ہے یا سبق؟ شاید دونوں۔

یہاں اپنی روداد کا رونا نہیں رو رہی۔ PTSD ہے، روزگار کا بوجھ ہے، غم منانے کی فرصت کبھی ملی ہی نہیں۔ بے بس لوگوں کی طرح بھرم رکھے، چہرے پر مسکان سجائے — می رقصم۔ زخموں پر مسکراتے ہوئے رقص جاری ہے۔ زندگی چلتی رہتی ہے۔

لیکن آج ایک سوال اور بھی ہے — ایک بہت عملی، بہت ذاتی سوال:

کیا مجھ جیسی عورتیں بھی اس فیصلے سے کچھ پا سکتی ہیں؟

جن کی شادیاں برسوں پہلے ٹوٹ چکیں، جن کے پاس کوئی کاغذ نہیں، کوئی گواہ نہیں۔

کیا ہوگا اگر سابق شوہر سے رابطہ نہ ہو؟

کیا ہوگا اگر وہ فوت ہو چکا ہو؟

کیا ہوگا اگر گھر بنانے میں حصہ ڈالا، بچے پالے، کاروبار چلایا، لیکن کوئی دستاویزی ثبوت نہ ہو؟

یہ سوال صرف میرا نہیں — کروڑوں پاکستانی عورتوں کا ہے جو خاموشی سے جی رہی ہیں اور سوچ رہی ہیں:

"کیا اب بھی کچھ ہو سکتا ہے؟"

قانون بناتے وقت یہ سوال میز پر رکھنے ہوں گے، ورنہ یہ فیصلہ بھی انہی خواتین کے لیے ہوگا جو پہلے سے کچھ نہ کچھ رکھتی ہیں — اور وہ جن کے پاس صرف یادیں ہیں، وہ پھر خالی ہاتھ رہیں گی۔

پاکستان کے آئین میں جائیداد رکھنے کا حق موجود ہے، لیکن عملی طور پر عورت کو اس حق تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ عورت کی معاشی خودمختاری کا براہِ راست تعلق اثاثوں تک رسائی سے ہے — اور یہی اس کی عزت، فیصلہ سازی اور بقا کی بنیاد بنتی ہے۔

لیکن ہمارا سماجی ڈھانچہ ہمیشہ اس کے برعکس کام کرتا آیا ہے۔

جہیز کو "حصہ" سمجھ کر وراثت سے محروم کیا جاتا ہے۔ مہر کاغذی رسم بن کر رہ جاتی ہے۔ شادی کے سالوں کی محنت — گھریلو ہو یا پیشہ ورانہ — کو کوئی معاشی قدر نہیں دی جاتی۔ اور جب رشتہ ٹوٹتا ہے تو عورت خالی ہاتھ نکلتی ہے، گویا اس نے اس گھر کی اینٹ تک نہیں رکھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اس بنیادی ناانصافی کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ شادی ایک "اکنامک پارٹنرشپ" ہے — جہاں دونوں فریقین کی محنت، وقت اور وسائل شامل ہوتے ہیں۔ گھریلو محنت اور گھر کا انتظام بھی معاشی شراکت ہے۔ علیحدگی پر اثاثوں کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے — یہ صرف قانونی اصول نہیں، یہ انصاف کی زبان ہے۔

لیکن ہمیں یہاں رکنا نہیں چاہیے۔

پاکستان میں مسئلہ صرف قانون کا نہیں — اس کے نفاذ کا ہے۔ اس لیے نکاح نامہ اصلاحات کو ایک جامع قومی ایجنڈا بنانا ہوگا:

  • نکاح نامہ میں ازدواجی اثاثوں میں شراکت کی شق واضح ہو

  • مہر مؤثر اور قابلِ وصول حق بنے

  • شادی کے دوران اثاثوں کی دستاویزی ریکارڈنگ لازم قرار دی جائے

  • اور سب سے ضروری — ان خواتین کے لیے بھی قانونی راستہ ہو جن کے پاس نہ کاغذ ہے، نہ رابطہ، نہ گواہ

یہاں ایک بات کہنی ضروری ہے — اور شاید کچھ لوگوں کو ناگوار لگے۔

یہ بحث اکثر دیہی اور غریب طبقے کی خواتین تک محدود کر دی جاتی ہے، گویا شہری، متوسط اور پڑھی لکھی عورت کو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مڈل کلاس خاتون اکثر دہری مار میں پھنسی ہے — نہ اتنی بے بس کہ فوری ہمدردی ملے، نہ اتنی طاقتور کہ خود لڑ سکے۔

اور یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض اوقات الیٹ این جی اوز کی خوبصورت انگریزی میں لکھی رپورٹیں اور ایوارڈ تقریبات زمینی حقیقت سے کوسوں دور ہوتی ہیں۔ انصاف اگر صرف کانفرنس ہالز میں بولا جائے تو وہ ان عورتوں تک نہیں پہنچتا جو اسے سب سے زیادہ چاہتی ہیں۔

میں اس پیش رفت پر خوش ہوں — دل سے خوش۔

لیکن خوشی کے ساتھ ایک تھکاوٹ بھی ہے — وہ تھکاوٹ جو تب ہوتی ہے جب آپ ساری زندگی کسی دروازے کو دستک دیتے رہیں اور وہ تب کھلے جب معاشرہ آپ کو "بوڑھا" قرار دے چکا ہو۔

پھر بھی، یہ دروازہ کھلا — یہ اہم ہے۔

مطالبہ صرف ایک ہے: یہ تجویز قانون بنے، یہ قانون نافذ ہو، اور یہ نفاذ ہر عورت تک پہنچے — چاہے اس کے ہاتھ میں ثبوت ہو یا صرف سچ۔

کیونکہ سچ بھی ایک دستاویز ہے۔

یہ آغاز ہے۔ اسے انجام تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے — اور اس بار، ریاست کو بھی اپنا حصہ ادا کرنا ہوگا۔

پسِ تحریر:

جسٹس محسن اختر کیانی کا نام دیکھ کر ایک پرانی یاد تازہ ہو گئی۔ 2002–2003 میں جہیز کے خلاف جو ٹی وی سیریز میں نے بنائی تھی، اس میں ایک نوجوان وکیل بطور مبصر شریک ہوئے تھے — وہ جسٹس محسن اختر کیانی تھے۔

آج وہی نوجوان وکیل جج بن کر اس تاریخی فیصلے کا حصہ بنے ہیں۔

مجھے خوشی ہے کہ وہ مہم، وہ سیریز، وہ برسوں کی محنت — بے کار نہیں گئی۔ کچھ بیج ایسے ہوتے ہیں جو برسوں بعد پھلتے ہیں — اور پھل دیکھنے کے لیے زندہ رہنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر رخشندہ پروین سماجی کارکن اور ادیبہ ہیں۔