بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے درویش عزیز بلوچ اپنی ذات میں انجمن تھے

درویش عزیز اپنے دوستوں کے ساتھ گذشتہ سات سال سے کیچ کے تعلیمی میدان میں سرگرم سکول فار آل ویلفیئر آرگنائزیشن چلا رہے تھے۔ یہ ادارہ 400 کے قریب یتیم بچوں کے تعلیمی معاملات کو دیکھتا اور ان کے اخراجات برداشت کرتا ہے۔

بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے درویش عزیز بلوچ اپنی ذات میں انجمن تھے

ہم سے بچھڑے درویش عزیز کا نام سنتے ہی آسمان زمین سے ٹکرا جاتا ہے، دریا رک کر ریت چھوڑنے لگتے ہیں، آسمان پر اڑان بھرنے والے پرندے گھونسلوں میں لوٹ جاتے ہیں، سرسبز جنگل خشک ہو جاتا ہے۔ نوجوان درویش عزیز اپنے نام کی طرح درویشانہ، خاکسارانہ، دوستانہ ماحول پروان چڑھانے والا، خوش مزاج، قوم دوست، متحرک سماجی کارکن اور علم و دانش کی خوشبوؤں سے لبریز شخصیت کے مالک تھے۔ درویش بلوچ چند روز قبل تربت سے کوئٹہ کے راستے میں حادثے کا شکار ہونے والی مسافر کوچ کے 28 جاں بحق ہونے والے مسافروں میں شامل تھے جو روڈ کی خستہ حالی، ڈرائیور کی تیز رفتاری، بے احتیاطی، سفری ایس او پیز کے مطابق نہ چلنے کے باعث حادثے کا شکار ہو کر دنیا سے چل بسے۔

درویش سے ملے کم و بیش تین سال کا عرصہ ہو چکا ہے مگر لگتا ہے جیسے کل ہی ملے تھے کہ ابھی کچھ وقت پہلے بچھڑ گئے۔ جب میں ناچیز درویش سے ملتا تو تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھتے، جیسا کہ کونسی کتاب پڑھ رہے ہو؟ مستقبل کے کیا مقاصد ہیں؟ آگے چل کر کہاں صحافت کرو گے؟ کبھی کبھار ایس ایف اے کی سرگرمیوں پر بھی بات چیت ہوتی تو میرا عموماً جواب یہی ہوتا کہ زبردست کام کر رہے ہو کیونکہ بظاہر کیچ میں کسی اور سماجی ادارے کو تعلیمی میدان میں کام کرتے نہیں دیکھا۔ بیش تر ملاقات ہوتی تھی تو یہی سوالات ہوتے اور انہی معاملات پر بات چیت ہوتی تھی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور رپورٹس کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

درویش عزیز تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف عمل دیکھنا چاہتے تھے۔ درویش عزیز اپنے دوستوں کے ساتھ گذشتہ سات سال سے کیچ کے تعلیمی میدان میں سرگرم سکول فار آل ویلفیئر آرگنائزیشن چلا رہے تھے۔ یہ ادارہ 400 کے قریب یتیم بچوں کے تعلیمی معاملات کو دیکھتا اور ان کے اخراجات برداشت کرتا ہے۔

درویش عزیز کی افسوس ناک موت تربت سے کوئٹہ جانے والی مسافر کوچ کلغلی تحصیل بسیمہ واشک کے مقام پر حادثے کا شکار ہونے سے واقع ہوئی۔ حادثے میں درویش، خواتین اور بچوں سمیت 28 افراد جاں بحق اور 26 افراد زخمی ہوئے۔ حادثہ کی خبر پھیلتے ہی بلوچستان بھر میں سوگ کا سماں چھا گیا۔ گذشتہ مہینے بھی وندر کے مقام پر ٹریفک حادثے میں ایک ہی خاندان سے 6 قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت فوری طور پر بلوچستان کی بڑی شاہراہیں جو روز حادثات کا سبب بن رہی ہیں انہیں ڈبل روٹس میں تبدیل کرے۔ ان تمام روڈ حادثات کے ذمہ دار عوامی نمائندے ہیں جو لاکھوں کا بجٹ لے کر عوام کو بنیادی سہولیات دینے میں ناکام ہیں۔ اللہ پاک شہادت پانے والوں کے درجات بلند فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب فرمائے، آمین!

شاہ میر مسعود کا تعلق بلوچستان سے ہے۔