Get Alerts

تیل اور گیس کی سرزمین، کینسر کے عفریت کا شکار: ضلع کرک کی دل دہلا دینے والی داستان

اکثریتی علاقے کے عوام اس مرض کو تیل اور گیس کی پیداوار سے جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج سے دو عشرے پہلے یہاں ایک بھی کیس نہیں تھا، لیکن جب سے گیس نکالی گئی ہے یہ بیماریاں بھی ساتھ آ گئی ہیں۔

تیل اور گیس کی سرزمین، کینسر کے عفریت کا شکار: ضلع کرک کی دل دہلا دینے والی داستان

پتہ نہیں کس طرح ہمارے خاندان میں اس موذی مرض نے پنجے گاڑے ہیں۔ میرے خاندان کے اکثر لوگ اس مرض کا شکار ہو کر داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے، اور ہمیں پتہ تب چلا جب ہمارے مریض کا کینسر آخری سٹیج میں ہوتا تھا۔ اس وقت ہم لاکھ کوشش کرتے مگر ڈاکٹر کہتے کہ آپ لوگوں نے بہت دیر کر دی۔ اگر پہلے آتے تو کچھ نہ کچھ ہو جاتا۔ پھر بھی ہم علاج جاری رکھتے مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟ وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔

یہ باتیں ٹیری کے سول ہسپتال میں کام کرنے والے نصیر کی ہیں، جو اب اپنے والد کو ہر مہینے کینسر کے ڈوز کے لیے پشاور لے جاتے ہیں، اور پھر اگلے مہینے اپنی بھابھی کو لے جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنے کزن کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب میں علاقے میں اس مرض کا ماہر گردانا جاتا ہوں اور اکثر لوگ مجھ سے اس بارے میں پوچھتے ہیں۔ چونکہ وہ خود میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں، اس لیے وہ زیادہ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ ان کے بقول پہلے ان کے گھر میں کوئی کینسر کا مریض نہیں تھا، مگر اب گھر میں چار مریض ہو گئے ہیں۔

اور ٹیری میں نصیر اکیلے نہیں ہیں۔ ان جیسے خاندان ضلع کرک کی تمام تحصیلوں میں موجود ہیں جن میں کوئی نہ کوئی کینسر کا مریض ہے اور وہ اس موذی مرض سے زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔

اعجاز خان ان میں سے ایک ایسے ہی شخص ہیں جو سالوں تک اپنی بیوی کے کینسر سے بے خبر رہے۔ جب انہیں معلوم ہوا تو ان کی بیوی بھی کینسر کے آخری اسٹیج پر تھی۔ ڈاکٹروں نے علاج تو شروع کیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں اور چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر دنیا سے منہ موڑ گئیں۔

اسی طرح شیر علی کو بھی اپنی بیوی کے کینسر کا تب پتہ چلا جب وہ اس موذی مرض کے ہاتھوں جان جانے والی تھیں۔ اور پھر وہی ہوا، وہ بھی اپنے معصوم بچوں کو باپ کے سہارے چھوڑ گئیں جن کی عمریں اتنی نہیں تھی کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ اسی طرح رشید گل کی کہانی بھی ہے، وہ عام بیماری کے علاج کے لیے گیا مگر وہاں اسے معلوم ہوا کہ اسے سرطان لاحق ہے۔ جب اسے اس بارے آگاہی ہوئی، تب تک وقت گزر چکا تھا۔ علاج کیا گیا مگر وہ جان کی بازی ہار گیا۔

البتہ ایک اور شخص، جس نے نام نہ بتانے کی شرط پر اپنی کہانی سنائی، قدرے خوش قسمت ثابت ہوئے۔ جب ان کی بیوی نے بتایا کہ اس کے سینے میں گلٹیاں ہیں تو انہوں نے فوراً ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ کینسر کے پہلے مرحلے کی علامات ہیں اور علاج کامیاب ہو سکتا ہے۔ مسلسل تین سال کے علاج کے بعد آج وہ صحت یاب ہیں۔ یہ کہانی واضح کرتی ہے کہ بروقت تشخیص اور علاج زندگی بچا سکتا ہے، مگر اکثر لوگ ہچکچاہٹ اور لاعلمی کی وجہ سے دیر کر دیتے ہیں۔

سماجی و ثقافتی پہلو

اس حوالے سے ٹیری کی سماجی شخصیت اور سیاسی کارکن فرقان شاہ کا کہنا تھا کہ وہ خود اپنے والد کو اس بیماری کے ہاتھوں کھو چکے ہیں اور بنیادی وجہ ہماری اپنی لاپرواہی ہے۔ خاص طور پر خواتین میں چھاتی کے کینسر کے بہت سے کیس دریافت ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں، لیکن خواتین کو ڈاکٹروں کے پاس نہیں لے جایا جاتا۔ یہاں تک کہ خواتین بھی مردوں سے بیماری شرم کی وجہ سے چھپاتی ہیں اور پھر جب مرض بڑھ جاتا ہے تو بات سامنے آتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیماری آخری مراحل میں پہنچ چکی ہوتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل علاقے کی تعلیم یافتہ خواتین نے گرلز سیکنڈری سکول ٹیری میں چھاتی کے کینسر کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا تھا۔ اس سے وقتی طور پر کچھ شعور تو پیدا ہوا لیکن ایسے پروگرامز کو مسلسل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی آ سکے۔

ماحولیاتی و تحقیقی شہادتیں

اکثریتی علاقے کے عوام اس مرض کو تیل اور گیس کی پیداوار سے جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج سے دو عشرے پہلے یہاں ایک بھی کیس نہیں تھا، لیکن جب سے گیس نکالی گئی ہے یہ بیماریاں بھی ساتھ آ گئی ہیں۔

بین الاقوامی تحقیقی جرائد، خصوصاً BioMed Central میں شائع مطالعات، نے واضح کیا ہے کہ بینزین (Benzene) اور دیگر Volatile Organic Compounds (VOCs) براہِ راست کینسر پیدا کرنے والے کیمیائی مادے ہیں۔ ان کے مطابق تیل اور گیس کے فیلڈز میں رہنے والے افراد میں لیوکیمیا (خون کا کینسر) اور دیگر کینسر کی شرح زیادہ پائی گئی ہے۔

اسی طرح، پاکستانی زیر زمین پانی پر کی جانے والی تحقیق میں بھاری دھاتیں (Lead, Arsenic, Chromium, Uranium) پائی گئی ہیں، جو سرطان اور معدے کے امراض کا سبب بن سکتی ہیں۔

بڑھتے ہوئے اعداد و شمار

گلوبل کینسر آبزرویٹری کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہر سال 26 ہزار سے زیادہ نئے کیس سامنے آتے ہیں۔ پانچ سالہ تخمینے کے مطابق یہ تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی اوپر جا پہنچتی ہے۔

ضلع کرک، جس کی آبادی خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں سے کہیں کم ہے، اس بیماری میں پیچھے نہیں۔ اندازہ ہے کہ ہر سال یہاں 250 سے 300 نئے مریض سامنے آتے ہیں۔ اگر اس کا موازنہ قومی اوسط سے کیا جائے تو یہ شرح غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔

شوکت خانم کینسر ہسپتال پشاور کی ایک رپورٹ کے مطابق کوہاٹ ڈویژن، جس میں کرک بھی شامل ہے، کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد علاج کے لیے وہاں جاتی ہے۔ اسپتال کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کرک اور قریبی علاقوں سے مریضوں کی شرح صوبے کے دیگر ڈویژنز کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس سے اس علاقے میں کینسر کے پھیلاؤ کا اندازہ ہوتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق اگر کرک جیسے نسبتاً کم آبادی والے ضلع میں ہر سال سینکڑوں نئے کیس سامنے آ رہے ہیں، تو یہ واضح اشارہ ہے کہ یہاں ماحولیاتی یا صنعتی عوامل بیماری کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ تیل و گیس کی پیداوار سے وابستہ ماحولیاتی آلودگی دنیا بھر میں کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

اعداد و شمار: دولت بمقابلہ صحت

ضلع کرک میں تیل اور گیس کے تقریباً 48 کنوئیں موجود ہیں اور مزید تحقیقات کے ساتھ یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، کرک پاکستان کو روزانہ 25,890 بیرل خام تیل فراہم کرتا ہے۔ اگر اس تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل لگائی جائے تو کرک روزانہ پاکستان کو تقریباً 44 کروڑ 27 لاکھ روپے کی دولت دیتا ہے۔ سالانہ بنیادوں پر یہ رقم 16 ارب روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔

اسی طرح گیس کے شعبے میں، کرک سے روزانہ 1 کروڑ 96 لاکھ 5 ہزار 200 ایم سی ایف گیس نکالی جاتی ہے، جس کی مالیت تقریباً 9 کروڑ 40 لاکھ روپے روزانہ ہے۔ ماہانہ بنیاد پر یہ رقم 2.82 ارب روپے، اور سالانہ بنیاد پر 33.8 ارب روپے بنتی ہے۔

مجموعی طور پر، ضلع کرک صرف ایک سال میں پاکستان کو 50 ارب روپے (تیل اور گیس دونوں کو ملا کر) سے زائد کی دولت فراہم کرتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اتنی دولت دینے والا یہ خطہ اپنی آبادی کو بنیادی کینسر ہسپتال، ماہر آنکولوجسٹ اور تشخیصی سہولیات فراہم نہیں کر سکا۔

ماحولیاتی و طبی پہلو

تحصیل بانڈہ داؤدشاہ کے ڈاکٹر ذوالقرنین کے مطابق، اگرچہ کوئی باقاعدہ تحقیق نہیں ہوئی، مگر جب سے مول کمپنی نے یہاں کام شروع کیا ہے، اس کے بعد سے علاقے میں جلدی امراض اور معدے کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کیمیکلز کی وجہ سے ہوا یا زیر زمین پانی میں زہر شامل ہونے سے، مگر یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ اس کی وجہ تیل اور گیس کی کمپنیاں ہیں کیونکہ کوئی ریسرچ نہیں ہوئی۔

اس کے علاوہ علاقے میں نہ صرف کینسر بلکہ دیگر جلدی امراض بھی عام ہیں۔ مقامی لوگ اس کی وجہ فضا میں بڑھتی ہوئی آلودگی کو قرار دیتے ہیں۔ مول کمپنی کے حکام سے اس معاملے پر موقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

نتیجہ اور سوال

ضلع کرک پاکستان کو اربوں روپے کی دولت دے رہا ہے، مگر اس کے اپنے لوگ بیماریوں اور موت کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔ یہ کہانیاں صرف چند خاندانوں کی نہیں بلکہ پورے علاقے کی ہیں، جہاں ہر گاؤں میں کسی نہ کسی کا کوئی عزیز کینسر سے لڑ رہا ہے۔

یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ حکومت، مقامی انتظامیہ اور تیل و گیس کمپنیاں اپنی ذمہ داری قبول کریں، تحقیق کرائیں، عوام کو سہولیات فراہم کریں، اور سب سے بڑھ کر عوامی شعور بیدار کریں۔ کیونکہ کینسر سے جیتنے کے لیے سب سے پہلا ہتھیار بروقت تشخیص اور علاج ہے۔

خلاصہ

ضلع کرک میں تیل اور گیس کے درجنوں کنوئیں تو ہیں، لیکن ایک بھی کینسر اسپتال موجود نہیں۔ جدید سہولیات جیسے PET اسکین، SPECT اسکین یا ریڈی ایشن تھراپی سینٹر یہاں خواب سے کم نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مریضوں کو علاج کے لیے پشاور، اسلام آباد یا لاہور جانا پڑتا ہے۔ یہ سفر نہ صرف طویل اور صبر آزما ہوتا ہے بلکہ اخراجات کا بوجھ عام گھرانوں کی سکت سے کہیں زیادہ ہے۔ اکثر مریض بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ جو بچ جاتے ہیں وہ بھی قرضوں، ذہنی دباؤ اور مسلسل علاج کے خرچ میں پس کر رہ جاتے ہیں۔

ایک مقامی سماجی کارکن نے بے بسی کے عالم میں کہا کہ یہاں سے نکلنے والی گیس اور تیل سے روزانہ اربوں روپے کما لیے جاتے ہیں، لیکن عوام کے لیے ایک ڈھنگ کا اسپتال تک نہیں بنایا گیا۔ کمپنیاں اپنی تجوریاں بھر رہی ہیں اور لوگ بیماریوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔

آخر میں یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے:

جب کرک پاکستان کو سالانہ اربوں روپے کی آمدنی دیتا ہے تو وہاں کے عوام کے حصے میں اسپتال کیوں نہیں آتے؟

صحت کی بنیادی سہولتیں کیوں میسر نہیں؟

اور سب سے بڑھ کر، کیا ریاست کے نزدیک عوام کی جان کی قیمت تیل و گیس سے کم ہے؟

یہ وہ تلخ سوال ہیں جن کے جواب کرک کے عوام آج بھی تلاش کر رہے ہیں۔

مصنف کالم نگار، فیچر رائٹر، بلاگر، کتاب 'صحافتی بھیڑیے' کے لکھاری اور ویمن یونیورسٹی صوابی میں میڈیا سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔