Get Alerts

ڈاکٹر مبشر حسن کی چائے اور خالد محبوب لڈّو

خالد محبوب لڈّو لاہور کے ترقی پسند حلقوں میں نمایاں نام تھے۔ بطور محقق انہوں نے پہلے ڈاکٹر مظهر کے ہیگ پیپلز فرنٹ کے ساتھ کام کیا، پھر حسن جعفر زیدی کے ساتھ مل کر 12 کتابوں پر کام کیا، آخر میں ڈاکٹر مبشر حسن کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔

ڈاکٹر مبشر حسن کی چائے اور خالد محبوب لڈّو

کچھ شامیں زندگی کا حاصل ہوتی ہیں۔ وہ ساری زندگی آپ کے ساتھ بستی ہیں، چاہے آپ ان شاموں کو بسر کر چکے ہوں، مگر ان یادیں آپ کے دل و دماغ کے نہال خانوں میں برپا رہتی ہیں۔ ایسی شامیں ہیں جو ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر گزری تھیں۔

میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ بطور محقق اور ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ چلانے کی نوکری بھی کرتا تھا۔ اکثر صبح کو، مگر زیادہ تر شام کو ان کے گھر جاتا تھا۔ میں ایف ایم ریڈیو 103 میں رپورٹر تھا، پروگرام بھی کرتا تھا، ان کے ہفت روزہ ہم شہری میں فیچر رائٹر تھا، ساتھ روزنامہ اج کل میں کالم نویس تھا۔ آج کل ایف ایم 103 کے دفاتر اور ڈاکٹر مبشر کا گھر سب لاہور کی پرانی پوش بستی گلبرگ میں دو یا تین سڑکوں کے فاصلے پر تھے، یوں میری رسائی بہت آسان تھی۔

ڈاکٹر صاحب کے گھر کیا نابغۂ روزگار ہستیاں جلوہ افروز ہوتی تھیں۔ آئی اے رحمان، حسین نقی، حسن جعفر زیدی، خالد محبوب لڈّو، عدنان عادل، فرخ سہیل گوئندی، جاوید اقبال، معظم کامران، اسلام سب کسی نہ کسی روز شام کو آ جاتے تھے۔ مگر خالد محبوب لڈّو روز شام کو آتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب سے ہر گھنٹے بعد چائے کی فرمائش کرتے۔ سردیوں میں 3 سے 6 بجے تک اور گرمیوں میں 5 سے 8 بجے تک محفل برپا رہتی۔ ڈاکٹر صاحب کا ملازم کبھی چائے کے ساتھ سموسے، نمک پارے اور جلیبیاں رکھ دیتا اور اہلِ دانش گفتگو جاری رکھتے۔ یہ ملازم کی صوابدید تھی کہ چائے کے ساتھ کس دن کیا رکھے؛ ڈاکٹر صاحب نے کبھی کوئی ہدایت جاری نہیں کی تھی۔

خالد محبوب لڈّو لاہور کے ترقی پسند حلقوں میں نمایاں نام تھے۔ بطور محقق انہوں نے پہلے ڈاکٹر مظهر کے ہیگ پیپلز فرنٹ کے ساتھ کام کیا، پھر حسن جعفر زیدی کے ساتھ مل کر 12 کتابوں پر کام کیا، آخر میں ڈاکٹر مبشر حسن کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔ لڈّو صاحب ریسرچ کے آدمی اور بطور محقق ہی معروف تھے۔ حلقہ اربابِ ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاسوں میں مضامین اکثر پڑھتے تھے، مگر کبھی ان مضامین کو کتابی صورت میں شائع نہیں کرایا۔ ڈاکٹر مبشر حسن کے بھائی ڈاکٹر شبر حسن کا طویل کام آپ بیتی کی صورت میں ریکارڈ کیا، مگر وہ بھی کتابی صورت میں شائع نہ ہوا۔

خالد محبوب لڈّو نے ریلوے میں نوکری کے بعد ایک اسکول سے بطور پرنسپل بھی وابستہ رہے۔ ان کا علم، مشاہدہ اور مطالعہ بہت زیادہ تھا، مگر افسوس کہ اس علم کو کتابی صورت میں شائع نہ کرا سکے۔ یوں ان کی رحلت کے بعد بہت سا معیاری کام قارئین تک نہ پہنچ سکا۔

مجھے یاد ہے ایک شام ڈاکٹر مبشر کے گھر چائے پیتے ہوئے کہنے لگے: “حسنین، ایک افسانہ میرے دماغ میں ہے جو ادھورا ہے؛ کسی شام تم کو سناؤں گا۔ تم اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا دینا۔” مگر دو تین بار میرے اصرار کے باوجود وہ افسانہ نہ سنا سکے۔ یوں وہ افسانہ بھی ادھورا رہا۔

بقول ساحر:
“وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا۔”

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔