Get Alerts

فارم 47 سے جھوٹ تک: ایک حکومت کی کہانی

جن حکومتوں کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی جائے، وہ سچ سے نہیں بلکہ سچ کے خوف سے چلتی ہیں — کیونکہ سچ سامنے آئے تو اقتدار کی دیواریں خود بخود گرنے لگتی ہیں۔

فارم 47 سے جھوٹ تک: ایک حکومت کی کہانی

جن حکومتوں کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہو، اُن سے سچ کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ فارم 47 کی وجہ سے معرضِ وجود میں آنے والی حکومتوں کی بقا جھوٹ پر ہوتی ہے۔ سچ بولنا ان کے لیے ناممکن ہوتا ہے، کیونکہ اگر وہ سچ بول دیں تو ان کی بنیادیں ہل جائیں اور فارم 47 کا جھوٹ عیاں ہو جائے۔

کسی دیوانے نے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی ہے: “1947 سے فارم 47 تک ہی ہے ہماری داستان۔”

پچھلے چند دن سے وفاقی اور پنجاب کی فارم 47 کی حکومتیں مسلسل جھوٹ بول کر اپنی تباہ شدہ ساکھ کو مزید برباد کر رہی ہیں۔ سابق وزیرِاعظم عمران خان کے حوالے سے معروف صحافی اسد اللہ خان نے خبر بریک کر کے اس قوم پر احسان کیا، ورنہ ہمیں پتا ہی نہ چلتا کہ اس ملک کے سب سے مقبول سیاستدان اور قومی ہیرو کے ساتھ کیا ہوا۔ ان کی آنکھ کے مرض اور پمز میں ہونے والے علاج کے حوالے سے کسی کو بتایا ہی نہیں گیا۔

جیل قوانین کے مطابق جب کسی قیدی کو علاج کے لیے جیل سے باہر ہسپتال لے جایا جاتا ہے تو لواحقین سے رابطہ کر کے انہیں اطلاع دی جاتی ہے، اور وہ بھی اس ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ مگر ایک سابق وزیرِاعظم اور مقبول ترین سیاستدان کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا، بلکہ وفاقی وزرا مسلسل جھوٹ بولتے رہے۔ پھر ایک موقر اخبار ڈان میں تفصیلی خبر شائع ہوئی، اور اسد اللہ خان نے اپنے اگلے وی لاگ میں مزید بات کی تو وفاقی وزیرِ اطلاعات نے آہیں باہیں کر کے تسلیم تو کر لیا، مگر مزید بے سروپا کہانی سنا دی، جسے تب تک سچ نہیں مانا جا سکتا جب تک عمران خان کی بہنوں اور ذاتی معالجوں کی ملاقات نہ ہو جائے۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک سیدھے سے مسئلے کو جھوٹ بول کر اس طرح کیوں الجھا دیا گیا؟ عمران کی آنکھ کے علاج میں ان کی بہنوں کو اعتماد میں لیا جاتا اور ذاتی معالجوں کو بھی رسائی دی جاتی تو معاملہ اس قدر پیچیدہ نہ ہوتا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ فارم 47 کی حکومت کے اختیار میں کچھ بھی نہیں؛ یہ صرف “پوچھ کر بتاؤں گا” کے فارمولے پر چل رہے ہیں، اس لیے جھوٹ ہی بول سکتے ہیں۔

دوسری طرف لاہور کے بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کا دلخراش واقعہ پیش آیا۔ اس پر بھی فارم 47 کی پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کی طرح جھوٹ بول کر اسے فیک نیوز قرار دیا۔ صوبائی وزیرِ اطلاعات اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ یہ خبر غلط ہے، مگر جب ماں بیٹی کی لاشیں برآمد ہوئیں تو معافی مانگ کر پتلی گلی سے نکل گئے۔

فارم 47 کی وزیرِاعلیٰ کے غضب سے کمشنر لاہور، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، ایس پی، ایم ڈی واسا اور ڈی جی ایل ڈی اے تو محفوظ رہے، مگر چھوٹے افسران پر نزلہ گرا دیا گیا۔ پنجاب میں بہاولپور، شورکوٹ اور فیصل آباد میں بھی مبینہ طور پر مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، مگر لاہور کا میڈیا ویسی کوریج نہیں کر سکتا جس دلیری سے کراچی کے میڈیا نے سانحہ گل پلازہ یا سندھ میں کھلے مین ہول میں گرنے والوں کے واقعات پر کی تھی۔

یوں لگتا ہے کہ لاہوری میڈیا صوبائی وزارتِ اطلاعات کے شکنجے میں کس کر جکڑا ہوا ہے اور ہلنے کی بھی تاب نہیں رکھتا۔ اوپر سے بھاٹی گیٹ میں جاں بحق ہونے والی ماں بیٹی کے شوہر کو جس طرح پنجاب پولیس نے گرفتار کر کے ہراساں کیا، وہ ظلم کی ایک الگ داستان ہے۔

مکر و فریب، ظلم و بربریت پر قائم ان فارم 47 کی حکومتوں کی بقا صرف اور صرف جھوٹ پر ہے۔ یہ ایسے ہی چل رہی ہیں — سچ ان کے لیے ہضم کرنا ناممکن ہے۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔