اداکارہ نازش جہانگیر فراڈ ہے فراڈ۔ بلیک میلر ہے یہ۔ کوکین کا نشہ کرتی ہے۔ کوکین کے علاوہ اور کون کون سے نشے کرتی ہے کھولوں اس کے پول؟ اب اسے بتاؤں گا کہ میں کون ہوں۔ قانونی اور غیر قانونی تمام طریقے اور حربے آزماؤں گا۔ جس حد تک جاسکا جاؤں گا۔ جو کر سکا کروں گا۔ اب دیکھنا میں کہاں کہاں سے آؤں گا۔ اگر یہ خود کو بدمعاش سمجھتی ہے تو میں بھی دیکھوں گا کہ یہ کتنی بڑی بدمعاش ہے۔ اسے گالیاں دی ہیں میں نے۔ مزید بھی گالیاں دوں گا۔ لو جی دوستو! ایک انٹرویو میں اداکار اسود ہارون نے نازش جہانگیر پر سنگین الزامات لگا دیے۔ انہیں دھمکیاں دیں۔ سخت زبان الگ سے استعمال کی ان کے خلاف۔ یہ وہی اسود ہارون ہیں کہ جنہوں نے کیس کر رکھا ہے نازش جہانگیر پر۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نازش جہانگیر نے ان سے فراڈ کیا۔ 25 لاکھ روپے کھا گئیں ۔ ساتھ ہی ساتھ گاڑی بھی ڈکار لی۔ آج تک نہ تو رقم واپس کی اور نہ ہی گاڑی۔ اس کیس میں ایک بار نازش جہانگیر کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوچکے ہیں۔ خیر اسود ہارون نے اس انٹرویو میں تمام تفصیلات بتائیں اس کیس کی۔ کہا کہ کبھی صلح نہیں کروں گا نازش جہانگیر سے کیونکہ اب بات عزتِ نفس تک آ پہنچی ہے۔ نازش کو اس لیے گالیاں دیں کہ انہوں نے اپنے وکلا سے میری والدہ کو دھکے پڑوائے۔ اس کے بعد ان کے وکلا نے فون کر کے معافی مانگی اور ٹیبل پہ معاملات حل کرنے کا کہا۔ میں نے کہا اوکے، ٹھیک ہے۔ میں تمام پیسے معاف کرتا ہوں۔ بس نازش جہانگیر میری گاڑی واپس کر دے۔ اور ساتھ ہی پوری دنیا کے سامنے اعترافِ جرم کر لے۔ میں کیس بھی ختم کر دوں گا۔ اس پر ان کے وکلا نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا۔ اسود ہارون نے یہ بھی بتایا کہ کیسے شروعات ہوئی تھی نازش جہانگیر کے ساتھ ان کے تعلق کی۔ بولے ان دونوں نے ایک ٹیلی فلم میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔ اس کے بعد سلام دعا بڑھ گئی ۔ اچھا تعلق بن گیا۔ گھر آنا جانا شروع ہوگیا۔ انہوں نے ٹرسٹ جیتا میرا۔ میں ا س وقت تک نہیں جانتا تھا کہ یہ فراڈ ہیں، بلیک میلر ہیں۔ گرفتار بھی ہوچکی ہیں ایک بار۔ انہیں گھر والوں نے بے دخل کر رکھا تھا گھر سے۔ اور میں نے انہیں اس وقت سپورٹ کیا کہ جب ان کی سگی ماں نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ نازش نے مجھ سے امانتاً پیسے مانگے۔ میں نے دے دیے۔ اور پھر اس نے واپس ہی نہیں کیے۔پھر یہ گاڑی بھی کھا گئی۔ 6 ماہ انتہائی پیار سے مانگتا رہا اس سے میں پیسے اور گاڑی۔ لیکن بہت لمبے ہاتھ ہیں اس کے۔ اس نے مجھے نہ جانے کس کس سے فون کروائے۔ مجھے تھانے بلا کے گن کے بٹ سے مار پڑوائی۔ سڑی سڑی گالیں دلوائیں۔ حالانکہ تھانے کچہری نہ ہوتی تو معاملہ مل بیٹھ کے حل ہوسکتا تھا۔ کیونکہ مجھ سے کہیں زیادہ Mature ہے یہ۔ 36 سال کی ہے یہ اور میں 24 سال کا۔ لیکن اب بیٹھ کے مسئلہ حل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ یہ اپنے بوائے فرینڈ سکندر خان کو پیسے دے کر کیس پر اثر انداز ہوتی ہے۔ وہ اسے قانونی معاملات میں سپورٹ کرتا ہے۔ لیکن اصل میں وہ اس کا نیا شکار ہے۔ جبکہ وہ خود کو اس کا بوائے فرینڈ سمجھتا ہے۔ یہ پیسوں کے لیے یوز کر رہی اسے۔ لیکن خیر اب اسے سزا دلوا کے ہی رہوں گا میں۔ نازش جہانگیر اگر سچی ہے تو کم از کم عدالت آ کر اپنا مؤقف تو دے۔ لیکن یہ تو مجھے کہتی ہے کہ کچھ ہی عرصے میں عوام یہ سب بھول جائیں گے۔ تم کیا کر لو گے میرا؟ مگر میں اسے سرپرائز کروں گا۔