Get Alerts

ایٹم کے بارے میں ملاصدرا کے خیالات‎

ملاصدرا نہ صرف خود دیمقراطیس کی رائے سے اختلاف رکھتے ہیں بلکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشائیوں، یعنی ابنِ سینا وغیرہ نے، بھی اس کو باطل کہا ہے۔ ملا صدرا کی اس کتاب میں کئی مقامات پر دیمقراطیس کا ذکر آیا ہے اور ہمیشہ ملا صدرا نے ایٹم کے تصور کی مخالفت ہی کی ہے۔ یہ کتاب کسی قسم کی ریاضی سے بالکل پاک ہے۔

Mulla Sadra on Atom
کیپشن: Mulla Sadra on Atom

جدید سائنس کا یہ کہنا ہے کہ چیزیں مالیکیولز سے مل کر بنی ہوتی ہیں۔ مالیکیولز کو ایٹمز تشکیل دیتے ہیں۔ مالیکیولز تو کروڑوں اقسام کے ممکن ہیں، جب کہ ایٹموں کی اقسام ایک سو سے کچھ اوپر ہیں۔ ایٹم کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنے میں مغرب کے محققین کی بہت محنت صرف ہوئی ہے۔ آج کل بعض غالی قسم کے خطیب ان معلومات تک رسائی کا کریڈٹ بھی ملا صدرا کو دے دیتے ہیں، جو درست نہیں۔ سچ یہ ہے کہ ایٹم کی سمجھ میں سبھی مسلم فلاسفہ کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں پہلے ایک مختصر تاریخچہ پیش کر کے پھر ملا صدرا کی اپنی عبارات بمع حوالہ جات پیش کی جائیں گی تاکہ قارئین کرام اپنی انکھوں سے ملا صدرا کا موقف پڑھ کر اس غلط فہمی سے نجات حاصل کر سکیں۔

تعارف

ایٹم کا لفظ یونانی زبان سے نکلا ہے اور اس کا مطلب ناقابلِ تقسیم ہونا ہے۔ دیمقراطیس (متوفیٰ 370 قبل مسیح) کا خیال تھا کہ دنیا کی چیزیں ناقابل تقسیم ذرات سے بنی ہیں۔ آج بھی عام لوگ یہ بات سمجھتے ہیں کہ کسی اینٹ کو اگر توڑتے جائیں تو آخر میں مٹی کے بہت چھوٹے ذرات رہ جائیں گے جنہیں مزید توڑنا ممکن نہ ہو گا۔ اگرچہ مٹی کے ذرات کو ناقابل تقسیم سمجھنا درست نہیں ہے۔

دیمقراطیس (Democritus) کی بات پرانے دور کی زبان کی محدودیت اور خیالات کی پراگندگی کے ہمراہ تھی۔ دیمقراطیس اور اس کے ساتھیوں اور پیروکاروں کے ایٹم کے تصور کی تفصیلات درست نہ تھیں اور انہوں نے اس بنیاد پر مظاہر فطرت کی جو توجیہ پیش کی وہ غلط تھی۔ جیسا کہ افلاطون اور ارسطو کی اکثر باتیں بھی غلط تھیں۔ البتہ ان لوگوں کی اصل قدر و قیمت اس میں ہے کہ انہوں نے اپنے تئیں ٹھیک سوچنے اور کائنات کی درست تشریح کرنے کی کوشش کی۔ ان کی باتوں کو یاد کر لینا درست نہیں، لیکن ان کی روش اور سچائی کو پانے کی تڑپ کو سراہا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد ایٹم کے بارے میں دو ہزار سال تک کوئی سنجیدہ کام نہیں ہوا۔ انیسویں صدی عیسوی میں جان ڈالٹن نے یہ دیکھا کہ مرکبات کے آپس میں ری ایکشن سے جو نئے مرکبات بنتے ہیں ان کے وزن میں فرق چند مخصوص اعداد کی صورت میں ہوتا ہے۔ گویا ان کا وزن مخصوص باٹوں کی صورت میں بدلتا ہو، یہ اضافہ مسلسل نہ ہو بلکہ وزن یکدم ایک درجے سے دوسرے درجے پر جاتا ہو، جیسے ایک کے بعد دوسری سیڑھی چڑھی جاتی ہے۔ ان باٹوں کا نام اس نے دیمقراطیس سے لفظ مستعار لے کر ایٹم رکھا۔ یہ صرف لفظی اشتراک تھا، بظاہر ایک جیسی اصطلاحوں کے معنی الگ الگ تھے۔ 1803 میں ڈالٹن نے کیمسٹری کا ایک قانون تجویز کیا جس کے مطابق ایسے مرکبات جو دو الگ الگ عناصر پر مشتمل ہوں، ان میں عناصر کی مقدار کا تناسب چھوٹے مکمل اعداد (integers) کی صورت میں ہو گا۔ چار سال بعد ہی اس کا مشاہدہ بھی کر لیا گیا۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے جب عراق کے شہر نجف پر نجد کے وہابی لشکر نے حملہ کیا تھا۔

یہ دیکھا جا رہا تھا کہ بعض اوقات مختلف صفات والے مرکبات اصل میں ایک جیسے عناصر کی ایک جیسی مقدار اور تناسب سے بنے ہوتے ہیں۔ 1860 میں لوئی پاسچر نے بتایا کہ اصل میں ان کی ترکیب مختلف ہوتی ہے جس کی وجہ سے تشکیل پانے والے مالیکیولز مختلف ہوتے ہیں۔ 1867 میں مینڈلیو نے عناصر کا جدول تیار کیا، ہر عنصر اپنے ایٹم کے وزن کے حساب سے درست مقام پر رکھا گیا۔

انیسویں صدی کے آخر تک جدید کیمسٹری کی بنیادیں تیار ہو چکی تھیں۔ اب کیمسٹری اور فزکس کے اتحاد کی طرف قدم بڑھنے لگے۔ 1899 میں جے جے تھامسن نے ایٹم کے اندر پایا جانے والا نیا ذرہ دریافت کیا جس کا نام الیکٹران رکھا گیا۔ 1911 میں ردر فورڈ نے نیوکلیئس دریافت کیا، جو ہر ایٹم کے مرکز میں ہوتا ہے اور ایٹم کا زیادہ تر مادہ اسی میں ہوتا ہے۔ یہ نیوکلیئس (ہستہ) بھی پروٹانز اور نیوٹرانز سے مل کر بنا ہوتا ہے۔ 1912 میں بوہر نے بتایا کہ الیکٹران نیوکلیئس کے گرد مخصوص مداروں میں ہی حرکت کر سکتے ہیں۔ اب معلوم ہو چکا تھا کہ ایٹم مرکب اور قابل تقسیم ہوتا ہے۔ اب ایٹموں کے ڈھانچے کے خدوخال اعداد کی شکل میں بیان کیے جانے لگے اور مینڈلیو کے جدول کی توجیہ ممکن ہو گئی۔ ادھر سیاست کی دنیا میں جنگ عظیم اول چھڑ گئی اور وطن پرستی کی درندگی نے علم و تہذیب کے سفر کو سست کر دیا۔

ایٹم کی سمجھ میں ایک بڑی پیشرفت تب ہوئی جب 1926 میں شوڈنگر نے اپنی مشہور زمانہ مساوات پیش کی جس کی مدد سے اشیا کے اعراض کی وضاحت ان کو تشکیل دینے والے مالیکیولز کی بنیاد پر کی جانے لگی۔ کیمسٹری کی بنیاد کوانٹم فزکس میں ڈھونڈی جا چکی تھی۔ یہ اس پر پیچ سفر کی ایک مختصر داستان ہے۔

ملا صدرا کیا کہتے تھے؟

ملا صدرا (متوفیٰ 1640) نے ایٹم کے بارے میں ہمارے علم میں کوئی اضافہ کرنے کے بجائے دیمقراطیس کے خام قسم کے ابتدائی خیال کی بھی مخالفت کی ہے۔ ان کی کتاب اسفار اربعہ میں یہ لکھا ہے:

”اتصالی وحدت حقیقی وحدت کی ایک قسم ہے۔ پس اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو چیز اتصالی وحدت رکھتی ہے اس کو موضوع کے اعتبار سے بھی واحد ہی ہونا ضروری ہے۔ یعنی اس کی تقسیم مختلف صورتوں کی طرف نہیں بلکہ ایسے اجزا کی طرف ہونی چاہیے جو اپنی حقیقت میں متحد ہوں اور جن کا وجود بالفعل نہیں بلکہ بالقوہ ہوتا ہے، جیسا کہ عنقریب اس پر بحث آئے گی۔ اور چونکہ یہ بھی ایک بدیہی مقدمہ ہے کہ جس میں وحدت بالفعل ہو گی اس کی کثرت بالقوہ ہو گی، اس کے بعد یہ دعویٰ کہ جس چیز کی وحدت اتصالی ہوتی ہے ایسے وحدانی متصل کے اجزا کا صورتوں کے لحاظ سے مختلف ہونا ممکن ہے، نہایت بیہودہ بات ہے۔“[1][2]

یہ سب خیال بافی ہے۔ آگے ایک اور جگہ دیمقراطیس کا ذکر یوں کرتے ہیں:

”دیمقراطیس کا خیال ہے کہ عالم کا وجود محض اتفاق کا نتیجہ ہے، اور اس کی دلیل میں اس کی تقریر یہ تھی کہ عالم کے مبادی (ابتدائی اجزا) ایسے چھوٹے چھوٹے اجرام و ذرات ہیں جن کی ان کی سختی کی وجہ سے تقسیم نہیں ہو سکتی۔ اس کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ یہ ذرات اس خلا اور فضا میں جو غیر محدود ہے، بکھرے ہوئے ہیں اور یہ کہ ان ذروں کی فطرت اور طبیعت تو واحد ہے، یعنی طبیعت میں سب ایک ہیں لیکن ان کی شکلیں مختلف ہیں اور وہ ہمیشہ دائمی حرکت اور گردش کے ساتھ متحرک رہتے ہیں۔ اتفاقاً انہی ذرات کے کسی مجموعے کی دوسرے مجموعے کے ساتھ مڈ بھیڑ ہوگئی، اور ایک خاص شکل میں وہ اکھٹے ہو گئے۔ اس سے عالم کی پیدائش ہوئی۔ عالم کے متعلق اگرچہ دیمقراطیس اسی خیال کا قائل تھا، لیکن اسی کے ساتھ حیوانات و نباتات کی پیدائش کے متعلق وہ اتفاق کا مدعی نہ تھا۔“[3][4]

اگلے صفحات پر وہ اس خیال کو رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں:

”پس معلوم ہوا کہ دیمقراطیس اور انباذقلیس کی طرف جو خیالات اس باب میں منسوب ہیں، سب غلط اور بے بنیاد ہیں۔“[5][6]

ملاصدرا نہ صرف خود دیمقراطیس کی رائے سے اختلاف رکھتے ہیں بلکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشائیوں، یعنی ابنِ سینا وغیرہ نے، بھی اس کو باطل کہا ہے۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:

”مشائیوں نے کیفیتوں کی شدت پذیری اور ضعف انگیزی کے متعلق ثابت کیا ہے کہ یہ حرکت کے جسمانی موضوع و محل سے اس حرکت کا نام ہے جو کیفیات کے مراتب میں واقع ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ان لوگوں نے حکیم دیمقراطیس کی اس رائے کو باطل کرتے ہوئے، جو اجسام کے مبادی کے متعلق ہے، اپنے دعوے کو بدیہی قرار دیا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ جسم کے سیاہ ہونے میں سواد یعنی سیاہی کے جو مختلف مراتب شدت و ضعف کی بنیاد پر پیدا ہوتے ہیں، یہ ماننا پڑے گا کہ تمام مراتب نوعی ماہیت کی رو سے متحد ہیں۔ اور اس میں کوئی محال بات لازم نہیں آتی۔“[7][8]

ملا صدرا کی اس کتاب میں کئی مقامات پر دیمقراطیس کا ذکر آیا ہے اور ہمیشہ ملا صدرا نے ایٹم کے تصور کی مخالفت ہی کی ہے۔ یہ کتاب کسی قسم کی ریاضی سے بالکل پاک ہے۔ اہل دانش جانتے ہیں کہ ایٹم کا جدید تصور ریاضی کے بغیر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ بہتر یہی ہو گا کہ ایسے لوگوں کے جعلی فضائل گھڑنے کے بجائے اپنی معلومات میں اضافہ کر کے دنیا کو ٹھیک سے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

حوالہ جات

[1] مناظر احسن گیلانی، ”فلسفۂ ملاصدرا“، ترجمۂ اسفار اربعہ، صفحات 362، 363، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018
[2] ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“،جلد 2، صفحہ 94، دار احیا التراث العربی، بیروت
[3] مناظر احسن گیلانی، ”فلسفۂ ملاصدرا“، ترجمۂ اسفار اربعہ، صفحہ 475، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018
[4] ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“،جلد 2، صفحہ 253، دار احیا التراث العربی، بیروت
[5] مناظر احسن گیلانی،”فلسفۂ ملاصدرا“، ترجمۂ اسفار اربعہ، صفحہ 477، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018
[6] ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“،جلد 2، صفحہ 256، دار احیا التراث العربی، بیروت
[7] مناظر احسن گیلانی، ”فلسفۂ ملاصدرا“، ترجمۂ اسفار اربعہ، صفحہ 299، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018
[8] ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“،جلد 1، صفحہ 437، دار احیا التراث العربی، بیروت

ڈاکٹر حمزہ ابراہیم مذہب، سماج، تاریخ اور سیاست پر قلم کشائی کرتے ہیں۔