نیا دور نیوز ڈیسک:۔
نیا دور نیوز ڈیسک کے مطابق اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے غیر قانونی اسلحہ اور شراب برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت مقدمے کے تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کے وکیل راجہ ظہور الحسن ایڈووکیٹ بھی عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ملزم پیش ہوا نہ ہی وکیل، مسلسل عدم پیشی نا قابل قبول ہے۔
فاضل جج نے ایس ایس پی آپریشنز کو ملزم کو گرفتار کر کے پیش کرنیکا حکم دے دیا اور کیس کی مزید سماعت بھی 21 جنوری تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ علی امین گنڈا پور کو اس کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے اشتہاری بھی قرار دیا جا چکا ہے، تا ہم بعد ازاں ضلعی عدالت نے ملزم کو اشتہاری قرار دینے کا حکم کالعدم قرار دے دیا تھا۔
کیس کی نوعیت اور اسکا پس منظر:۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2016ء میں اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ بنی گالہ کے باہر پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈا پور کی گاڑی سے 5 کلاشنکوف اسالٹ رائفلز، ایک پستول، 6 میگزین ، ایک بلٹ پروف جیکٹ، شراب اور آنسو گیس کے 3 گولے برآمد کئے تھے۔
موجودہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی ک رہنما نے پولیس کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئےکہا تھا کہ وہ 2 لائسنس یافتہ کلاشنکوف رائفلوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے اور گاڑی میں اسلحہ کا سائسنس موجود تھا۔ علی امین گنڈا پور نے یہ بھی دعویٰ کیا تھاکہ وہ شراب کی بوتل میں شہد لے کر جا رہے تھے جسے پولیس اہلکاروں نے ضبط کر لیا۔