دنیا کے سب سے بڑے اور امیر ترین کرکٹ بورڈ کے تضادات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اور چیف سلیکٹر اجیت اگرکار کی جوڑی کی کارکردگی کوئی بہت شاندار نہیں رہی۔ اس دوران چیمپئنز ٹرافی، ون ڈے ایشیا کپ، ٹی ٹوئنٹی کی فتوحات اور انگلینڈ جا کر ٹیسٹ سیریز برابر کرانے کی کامیابیوں نے آسٹریلیا سے ان کے گھر جا کر تین ایک سے ناکامی، اور سب سے بڑھ کر دو مسلسل ہوم ٹیسٹ سیریز — پہلے نیوزی لینڈ سے تین صفر اور پھر جنوبی افریقہ سے دو صفر — جیسی بڑی ناکامیوں کو دھندلا دیا ہے۔
پھر گوتم اور اگرکار کی جوڑی کچھ اسٹار کھلاڑیوں کو بھی مطمئن کرنے میں ناکام رہی۔ سب سے پہلے روی چندر ایشون نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی، پھر ویرات کوہلی اور روہت شرما نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ اب محمد شامی کو ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود سلیکٹ نہیں کیا جا رہا۔ رتوراج گائیکواڑ اجنبی بنے ہوئے ہیں اور سرفراز خان پر بھی نظرِ کرم نہیں ہو رہی۔
خاص طور پر محمد شامی، جو ایک اسٹار فاسٹ بولر ہیں، 64 ٹیسٹ میچوں میں 229 اور 108 ون ڈے میچوں میں 206 وکٹیں لے چکے ہیں۔ عصرِ حاضر کے بہترین فاسٹ بولرز میں شمار ہونے کے باوجود مسلسل ڈومیسٹک میں پرفارم کرنے کے بعد بھی منتخب نہ کرنا کئی سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ بھارتی میڈیا اور سابق کھلاڑی اگرکار اور گوتم کی جوڑی پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں۔
دوسری طرف بیرونی تضادات کو بھی بھارتی کرکٹ بورڈ حل کرنے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔ ایشیا کپ میں پہلے بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملایا، پھر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔
اب ایک اور تنازع نے جنم لیا ہے۔ آئی پی ایل نیلامی کے وقت بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو رکھا گیا۔ ان کی اچھی بولی لگی، ہر ٹیم نے بولی لگائی۔ مہندر سنگھ دھونی کی چنئی سپر کنگز نے بھی دام لگایا، مگر شاہ رخ خان کی کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے 8 کروڑ میں خرید لیا۔ مگر بنگلہ دیش میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک ہندو کو زندہ جلا دیا گیا۔ اس پر شاہ رخ خان کے خلاف خوب ہنگامہ کھڑا کیا گیا کہ اس کی ٹیم نے بنگالی کرکٹر کو کیوں رکھا ہے۔ اس کے بعد بھارتی بورڈ کے کہنے پر شاہ رخ خان نے مستفیض الرحمٰن کو ڈراپ کر دیا۔
ابھی بھی متحدہ عرب امارات میں جاری ایک لیگ، جس کا مالک ایک بھارتی ہے، وہاں بنگلہ دیشی کھلاڑی شکیب الحسن کھیل رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کی وفات پر بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر کا جانا، وہاں پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق سے ہاتھ ملانا، بھارتی حکومت اور کرکٹ بورڈ کے تضادات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
شاہ رخ خان چونکہ مغربی بنگال کی حکمران جماعت ترنمول کانگریس کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف محاذ کھولا گیا۔ ترنمول کانگریس نریندر مودی اور بی جے پی کی کھل کر مخالفت کرتی ہے، اسی لیے اسے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
حرفِ آخر، بھارتی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین متھن مہناس کو یہ سمجھنا ہو گا کہ سوشل میڈیا کے دباؤ میں آ کر فیصلے تبدیل کرنے سے ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔