احمدیوں کو قربانی سے روکا جائے، لاہور ہائی کورٹ بار کا انتظامیہ کو خط

خط میں لکھا گیا ہے کہ ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر احمدیوں کے خلاف کئی شکایات آتی ہیں اور متعدد ایف آئی آرز درج کروائی جاتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر احمدی حضرات تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

احمدیوں کو قربانی سے روکا جائے، لاہور ہائی کورٹ بار کا انتظامیہ کو خط

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پنجاب حکومت کو خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت صوبے بھر میں احمدی کمیونٹی کو 10 ذی الحجہ کے موقع پر عید کی نماز ادا کرنے اور قربانی کے جانور ذبح کرنے سے روکے اور تمام اضلاع کے پولیس افسران کو ہدایت جاری کرے کہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 298 سی کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ انتظامی افسران اگر اس حکم پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ محمد اسد منظور بٹ کی جانب سے سیکرٹری داخلہ پنجاب کے نام خط لکھا گیا ہے۔ خط کے متن میں درج ہے کہ ذی الحجہ کی 10، 11 اور 12 تاریخ کو مسلمان سنت ابراہیمیؑ اور نبی کریمﷺ کی سنت کی پیروی میں اللہ کی راہ میں جانوروں کی قربانی دیتے ہیں۔ قربانی شعائر اسلامی میں سے ایک ہے اور مسلمان 1400 سال سے یہ رسم ادا کرتے آ رہے ہیں۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل (3)260 کے مطابق قادیانی گروپ، یا لاہوری گروپ (جو احمدی کہلاتے ہیں یا کسی بھی نام سے جانے جاتے ہیں) غیر مسلم اقلیتیں ہیں۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی قادیانی حضرات کو شعائر اسلام کی ادائیگی سے منع کرتی ہے۔

اگرچہ آئین پاکستان نے 1974 کی ایک آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تھا مگر اس کے باوجود بعض احمدی شہری مسلمانوں جیسی شناخت اختیار کرتے تھے اور مسلمانوں جیسے حقوق کا مطالبہ کرتے تھے۔ اس لیے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے PLD 1993 SCMR 1718 میں قرار دیا کہ یہ مکاری ہے کیونکہ احمدی غیر مسلم ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور رپورٹس کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرنا اور عید کی نماز ادا کرنا ایسے شعائر ہیں جو صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہیں لیکن اس موقع پر بعض قادیانی بھی آئین اور قانون کی نفی کرتے ہوئے جان بوجھ کر یہ شعائر ادا کرتے ہیں اور خود کو بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر مسلمان بنا کر پیش کرتے ہیں یا اپنے عقیدے کو اسلام قرار دیتے ہیں لہٰذا ان صورتوں میں احمدی حضرات پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی کا اطلاق ہوتا ہے۔

ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر احمدیوں کے خلاف کئی شکایات آتی ہیں اور متعدد ایف آئی آرز درج کروائی جاتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر احمدی حضرات تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

ان حقائق کی بنیاد پر ہم حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 2023 میں جاری ہونے والے اپنے حکم نامے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کی جائیں۔ حکومت پنجاب تمام اضلاع میں تعینات آر پی اوز، سی سی پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز، ڈپٹی کمشنرز، ایس ایچ اوز اور آئی جی پولیس پنجاب کو ہدایات جاری کرے کہ وہ 10، 11 اور 12 ذی الحجہ کو احمدیوں کی جانب سے عید کی نماز ادا کرنے اور قربانی جیسے شعائر اسلامی کی خلاف ورزی روکنے کے لیے قبل از وقت اقدامات کو یقینی بنائیں اور اگر کہیں احمدی حضرات ان شعائر اسلامی کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جاتے ہیں تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں؛ جہلم؛ احمدیوں نے قربانی کی تو انہیں لٹکائیں گے، تحریک لبیک کی دھمکی

حکومت پنجاب یہ بھی ہدایت جاری کرے کہ اگر کوئی انتظامی افسر ان احکامات کی بجا آوری میں ناکام ثابت ہوتا ہے تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اگر احمدی حضرات ان ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ احمدیوں کو تنبیہ کریں کہ وہ قانون کی خلاف ورزی سے باز رہیں تاکہ نقص امن کا کوئی خطرہ پیدا نہ ہو اور احمدی کسی ممکنہ جانی اور مالی نقصان سے بچ سکیں۔