واقفان حال کہتے ہیں کہ نواز شریف کے والد میاں شریف مرحوم کی زندگی میں نواز شریف پر جب بھی مشکل وقت آتا تو ان کے والد انہیں جو بھی مشورے دیتے تھے، وہ اس اصول کے گرد گھومتے تھے کہ سب سے پہلے حکومت بچانے کے لئے جو کمپرومائز کیا جا سکتا ہے وہ کر لیا جائے اور جب حکومت نہ رہے تو سب سے پہلے اپنی جان کی حفاظت کی جائے اور جب جان بچ جائے تو پھر اپنی سیاست کو دوبارہ منظم کیا جائے۔
غرض یہ کہ پہلے دو کام بھی دراصل سیاست بچانے کا حصہ ہی ہیں اور سیاست عوام کی خدمت کے لئے ہو نہ کہ اپنی ذات کے لئے۔ جب تک میاں نواز شریف کے والد محترم زندہ تھے میاں صاحب ہمیشہ اپنے والد کا مشورہ مان لیا کرتے تھے اور ویسے بھی شریف خاندان کی یہ روایت ہے کہ خاندان کے بڑوں کا مشورہ رد نہیں کیا جاتا۔ ورنہ نواز شریف کی طبیعت میں تو شروع ہی سے بغاوت اور مزاحمت پائی جاتی ہے، جو ایک لیڈر کا خاصہ ہوتا ہے۔
نواز شریف اپنے سیاسی کیرئیر میں ہمیشہ سے ہی متعدد کمپرومائز کرنے کے باوجود طاقت کے مراکز پر ضربیں لگاتے رہیں ہیں۔ لیکن، اس بار جب میاں صاحب پر مشکل وقت آیا ہے تو ان کے والد کا ساتھ انہیں میسر نہیں۔ میاں صاحب اس وقت خود ہی خاندان کے سب سے بڑے فرد ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میاں صاحب اب تک کوئی کمپرومائز کرنے پر رضامند دکھائی نہیں دے رہے باوجود اس کے کہ طبیعت ان کا ساتھ نہیں دے رہی اور اس وقت وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔
شہباز شریف چونکہ ان سے چھوٹے ہیں، اس لئے وہ ان کے مرحوم والد کی جگہ نہیں لے سکتے۔ شہباز شریف اس وقت میاں صاحب کو وہی مشورے دے رہے ہیں، جو ان کے والد دیا کرتے تھے لیکن عمر میں چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کا اثر و رسوخ والد کی طرح نہیں کہ میاں صاحب آسانی سے ان کی بات مان لیں۔ اس لیے شہباز شریف اپنی والدہ اور دیگر خاندان کے افراد کے ذریعے بھی میاں صاحب کو علاج کے لئے باہر جانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
اس وقت حالات ایسے بن چکے ہیں کہ نواز شریف صاحب اگر چاہیں تو علاج کے لیے باہر جا سکتے ہیں۔ جب میاں صاحب حکومت میں تھے، اس وقت چوہدری نثار اور شہباز شریف کا یہی مؤقف ہوتا تھا کہ حکومت بچانے کے لئے اگر کوئی کمپرومائز کرنا پڑتا ہے تو کر لینا چاہیے اور عوامی خدمت کے ذریعے عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کر کے سویلین سپرمیسی کا خواب شرمندہ تعبیر کر لیا جائے، یعنی ووٹ کو عزت دو کے مقابلے میں شہباز شریف کا نعرہ خدمت کو ووٹ دو ہے۔ لیکن، میاں صاحب چوہدری نثار اور شہباز شریف کے مشوروں کو مسترد کرتے رہے اور یوں ایک وقت آیا کہ پانامہ کے جال میں پھنس کر اقامہ پر نااہل قرار پائے۔ شہباز شریف کے نرم رویے اور مزاحمت کے بجائے مفاہمانہ طرز عمل کے پیچھے کوئی بدنیتی نہیں بلکہ ان کے والد کے وہی اصول کار فرما لگتے ہیں جس کے مطابق اس مشکل وقت میں جب کہ ان کی طبیعت بھی بہت زیادہ خراب ہے۔ نواز شریف کو سب سے پہلے اپنی صحت پر توجہ دینی چاہیے یعنی اپنی جان کی حفاظت کرنی چاہیے اور اس کے لئے انہیں اگر کچھ عرصے کے لئے کمپرومائز بھی کرنا پڑے اور ملک سے باہر جانا پڑے تو چلے جانا چاہیے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شہباز شریف کا مفاہمانہ طرز عمل دونوں بھائیوں کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہو کہ شہباز شریف، عمران خان کے متبادل کے طو مقتدر حلقوں کے لئے دستیاب رہیں ورنہ پیپلزپارٹی واحد آپشن کے طور پر فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ پھر یہ بھی کہ شہباز شریف اپنی مفاہمانہ پالیسی سے کچھ ریلیف کے راستے بھی کھولنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں، ویسے بھی سیاست میں مذاکرت کے دروازے کبھی بند نہیں کیے جاتے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ مفاہمانہ سیاست صرف شہباز شریف کی ہی منشا اور مرضی ہو اور نواز شریف کی ہدایات اس کے برخلاف ہوں۔ جیسا کہ ظاہری طور پر نظر بھی آرہا ہے، اس کی وجہ یہ ہوسکتی کہ شہباز شریف ذاتی طور پر یہ سمجھتے ہوں کہ مقتدر حلقوں سے محاذ آرائی درست نہیں۔ وہ اپنی پارٹی کے سخت گیر رہنماؤں اور کارکنوں پر بھروسہ نہ کرتے ہوں، وہ یہ سمجھتے ہوں یہ جارحانہ مزاج لوگ وقت پڑنے پر ساتھ چھوڑ جائیں گے اور شریف خاندان اکیلا جیلوں میں سڑتا رہے گا۔
ان کا یہ خیال ہے یہ لوگ نواز شریف کی لاش پر اپنی سیاست چمکانہ چاہتے ہیں، اس لیے شہباز شریف اس وقت سیاست بچانے کے بجائے نواز شریف کی جان کو بچانا چاہتے ہیں۔ اگر اس وقت ان کے والد زندہ ہوتے تو وہ بھی یہی کرتے جو شہباز شریف کر رہے ہیں۔
اس لیے شہباز شریف کی نرم مزاجی کو اقتدار کی لالچ یا بدنیتی سمجھنا غلط ہوگا، لوگوں کو تنقید کرتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ شہباز شریف صرف ن لیگ کے صدر نہیں بلکہ نواز شریف کے بھائی بھی اور مریم نواز صرف پارٹی کی نائب صدر نہیں بلکہ ایک بیٹی بھی ہے۔ اس لیے اس نازک وقت میں جب میاں صاحب زندگی اور موت کی کشمکش سے گزر رہے ہیں، شہباز شریف اور مریم نواز پر جارحانہ سیاست کے لیے دباؤ ڈالنا غلط ہے۔ ایک بھائی اور بیٹی کی حیثیت سے انہیں اس وقت سب سے زیادہ نواز شریف کی جان کی فکر ہے۔
مسلم لیگ ن کہ ایسے کارکن جو شہباز شریف کی سیاست سے اختلاف کر رہے ہیں، انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ایسے وقت میں جب آپ کے گھر میں والد بیمار ہوں تو آپ انہیں گھر اکیلا چھوڑ کر مولانا کے کارکنوں کی طرح ثابت قدم رہ سکتے ہیں۔ کھلے آسمان تلے شدید سردی اور بارش میں لمبے عرصے تک دھرنا دے سکتے ہیں؟ تنقید کرنے سے پہلے اپنے آپ سے یہ سوال ضرور پوچھیے۔
مصنف کیمسٹری میں ماسٹرز ہیں، اور کراچی یونیورسٹی میں ابلاغیات کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔