چینی بحران میں صارفین کی جیبوں پر ہر ماہ 6 ارب روپے سے زائد کا ڈاکہ ڈلا

چینی بحران میں صارفین کی جیبوں پر ہر ماہ 6 ارب روپے سے زائد کا ڈاکہ ڈلا
آج سے تقریباْ دو سال قبل جب تحریک انصاف کی الیکشن میں جیت ہوئی تو اسے ملک کے لئے گیم چینجر قرار دیا جا رہا تھا۔ کوئی پوچھتا کہ جناب عمران خان کے دائیں بائیں کھڑی انکی بیساکھیوں جس کو عرف عام میں انکی اے ٹی ایمز کہا جاتا ہے، انکی موجودگی میں گیم چینج ہونے کا یہ دعویٰ کیسے  کیا جارہا ہے تو آگے سے غیر منطقی جذباتی بحث سے سوال پوچھنے والے کو جواب دینے کی کوشش کی جاتی۔ اور جب یہ کوشش بھی بار آور ثابت نہ ہوتی تو پھر اس بحث کو گالم گلوچ میں تبدیل کر دیا جاتا۔

بہر حال حالات شاہد ہیں کہ تبدیلی ذدہ پاکستان کے مسائل تبدیلی کے فیوض سے محروم رہ جانے والے گزشتہ پاکستان کے مسائل سے کئی گناہ زیادہ، سنگین اور خطرناک ہیں۔ صرف گورننس کو ہی لیجئے کہ یہاں تو توبہ توبہ کروا دی گئی ہے۔ گورننس کے جس پہلو پر بات کیجئے وہ پہلے سے زیادہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ نہ صرف یہ ہے بلکہ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ حکومت اس پر شرمندگی کی بجائے .اس صورتحال کی عجیب و غریب انداز سے نشاندہی کرتے ہوئے اسکا کریڈٹ لینے میں مصروف ہے۔

گزشتہ پاکستان میں بھی ایسی خبریں شائع ہوا کرتیں کہ حکومت نے عوام کی جیب سے اتنے ارب نکلوا لیئے، اور اس حکومت کے دوران یہ سلسلہ مزید شدت سے جاری ہے۔ اب حالیہ چینی بحران کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چینی کی قیمت کے معاملے میں حکومت کی اجازت سے لگنے والے ابھی ہلکے ہلکے جھٹکوں نے ہی عوام کی جیبوں سے 85 ارب روپے نکلوا لئے ہیں۔

اعداد و شمار  سے پتہ چلتا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گزشتہ 14 ماہ کے دوران صارفین نے تقریباً 85 ارب روپے اضافی ادا کئے ہیں اور یوں ماہانہ 6  ارب روپے سے زائد کا ڈاکہ جیبوں پر برداشت کیا ۔ ان 85 روپوں میں سے تقریباً 76 ارب روپے چینی ملز مالکان کی جیبوں میں گئے ہیں۔

دسمبر 2018 میں ایکس مل پرائس (وہ قیمت جس پر ملز خریداروں کو چینی بیچتی ہیں) 51.64 روپے تھی جبکہ مارکیٹ میں یہ گاہک کو 55.99 روپے میں دستیاب ہوتی تھی۔ تاہم دسمبر 2018 تا فروری 2020 ایکس مل پرائس تقریباً 20 روپے تک بڑھ گئی ہے اور گاہک کے لئے فی کلو 24 روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے اور اس اضافے نے ملز مالکان کی جیبوں میں 76 ارب روپیہ مزید بھرا ہے۔یہ بڑی رقم پنجاب حکومت کی جانب سے 3 ارب روپے کی سبسڈی کے علاوہ ہے۔  پاکستان میں چینی کی مجموعی سالانہ کھپت 5.2 ملین میٹرک ٹن (5.2 ارب کلوگرام) ہے۔  سرکاری رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین کی ملکیت جے ڈبلیو ڈی کا مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 19.97 فیصد، مخدومخسرو بختیار کے بھائی عمر شہریار کے آر وائے کے گروپ کا حصہ 12.24 فیصد اور شریف خاندان کا حصہ 4.54 فیصد تھا۔

 موجودہ مالی سال 2019-20 میں حکومت نے معاشرے کے تمام طبقات کیلئے جی ایس ٹی میں 17 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ سیلز ٹیکس کی مد میں شوگر سیکٹر سے ایف بی آر کے ریوینیو میں 62.3 فیصد اضافہ تو ہوا ہے تاہم  ٹیکس کی شرح میں یہ اضافہ بالآخر صارفین کو منتقل کیا جاتا ہے۔قیمت کے اس اضافے سے  تو ماہانہ 6 ارب  ہی صارفین کی جیب سے نکلے ہیں لیکن رمضان میں جبکہ چینی کی قیمت 100 روپے کلو تک پہنچنے کا خدشہ ہے تب اربوں میں کئی اور ارب جمع ہوسکتے ہیں۔