بھارت کی چار ریاستوں، بنگال، آسام، کیرالہ اور پنڈی چیری میں اپریل میں انتخابات ہوں گے، جن کے نتائج مئی کے پہلے ہفتے تک منظرِ عام پر آ جائیں گے۔
اگر ان چاروں ریاستوں کی انتخابی تاریخ کو دیکھا جائے تو صرف آسام میں ہی بی جے پی کی حکومت رہی ہے، جبکہ بنگال، کیرالہ اور پنڈی چیری میں کانگریس، ترنمول کانگریس اور دیگر علاقائی جماعتیں برسراقتدار رہی ہیں۔
بنگال بی جے پی کا اہم ترین ہدف ہے، جسے وہ اب تک حاصل نہیں کر پائی۔ بنگال کی 294 رکنی ریاستی اسمبلی میں گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کو صرف 30 نشستیں ملی تھیں، جبکہ ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس نے 140 سے زائد نشستیں جیت کر اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنائی تھی۔
اس بار بی جے پی کے مؤثر ترین رہنما اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ بنگال میں بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بنگال سے کئی نامور فلمی ستارے بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔ شتروگھن سنہا ترنمول کانگریس میں شامل ہیں، متھن چکرورتی بی جے پی کے ساتھ ہیں، جبکہ کرکٹر یوسف پٹھان ترنمول کانگریس کی حمایت کر رہے ہیں۔ شتروگھن سنہا اور یوسف پٹھان لوک سبھا کے رکن بھی ہیں۔
بنگال اور آسام کی سرحدیں بنگلہ دیش، بھوٹان اور میانمار سے ملتی ہیں، جہاں سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد و رفت ایک اہم مسئلہ ہے۔ حال ہی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بنگال سے 90 لاکھ اور آسام سے 26 لاکھ ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے ہیں۔
ترنمول کانگریس کا مؤقف ہے کہ یہ سب ان کے ووٹرز تھے جنہیں بی جے پی نے سازش کے تحت نکلوایا ہے، جبکہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد غیر قانونی تارکینِ وطن تھے۔
آسام کی 126 نشستوں پر بھی سخت مقابلہ متوقع ہے۔ یہاں بی جے پی مضبوط پوزیشن میں ہے، تاہم کانگریس نئے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔ یہاں بھی 26 لاکھ ووٹرز کے اخراج کا مسئلہ زیرِ بحث ہے، جس پر کانگریس اور مسلم جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں، جبکہ بی جے پی اسے غیر قانونی تارکینِ وطن کا معاملہ قرار دیتی ہے۔
کیرالہ ایک ایسی ریاست ہے جہاں بی جے پی بہت کمزور ہے۔ یہاں ہندو، عیسائی اور مسلمان آباد ہیں اور یہ ایک سیکولر ریاست ہے۔ بی جے پی کو یہاں کامیابی کی امید نہ ہونے کے برابر ہے۔ 140 نشستوں پر مشتمل اس اسمبلی میں کانگریس اور اس کے اتحادیوں کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں، اور وزیرِ اعلیٰ بھی عموماً علاقائی جماعت سے ہوتا ہے۔
چھوٹی ریاست پنڈی چیری کی 30 نشستوں والی اسمبلی میں بھی کانگریس کی جیت کے امکانات زیادہ ہیں۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مودی اور امیت شاہ کا سب سے زیادہ زور بنگال پر ہوگا۔ آسام میں وہ جیت کے لیے پُرامید ہیں، جبکہ کیرالہ اور پنڈی چیری میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اپریل میں ہونے والے ان انتخابات کے کیا نتائج نکلتے ہیں، اور آیا بی جے پی اپنے مضبوط حریف ترنمول کانگریس، ممتا بنرجی اور راہول گاندھی کو شکست دینے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ نتائج کا اعلان مئی کے پہلے ہفتے میں ہو جائے گا۔