حکمران پاکستان کو بنک اور عوام کو غلام سمجھنا کب چھوڑیں گے؟

سوال یہ ہے کہ کیا آئین میں ایک ترمیم سے یہ معاملہ حل نہیں ہو سکتا اور زراعت سے حاصل انکم کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جا سکتا؟ سب کو معلوم ہے کہ ملک چاہے ڈوب جائے یا غریب عوام اور ملازم پیشہ افراد خودکشیاں کریں، اسمبلیوں میں بیٹھے بڑے بڑے کاشت کار اور جاگیردار ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔

حکمران پاکستان کو بنک اور عوام کو غلام سمجھنا کب چھوڑیں گے؟

26 جولائی 2004 کو جب اس وقت کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی کو اصل حاکم وقت جنرل پرویز مشرف نے اختلافات کی وجہ سے عہدے سے ہٹا دیا تو ان کے متبادل کے طور پر شوکت عزیز جو سٹی بنک سے امپورٹ کیے گئے تھے، انہیں وزارت خزانہ سے ہٹا کر وزارت اعظمیٰ کا امیدوار بنایا گیا اور ضلح اٹک اور تھر پارکر سے قومی اسمبلی کی نشستیں خالی کرا کر انہیں الیکشن لڑوایا گیا۔ ہالہ سندھ کے روحانی پیشوا مخدوم امین فہیم مرحوم نے ان دنوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ کی حیثیت سے قومی اسمبلی میں پارٹی قیادت سنبھال رکھی تھی کیونکہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری دونوں ملک سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

شوکت عزیز کے وزیر اعظم کے عہدے پر انتخاب پر میں نے مخدوم صاحب سے پیپلز ہاؤس اسلام آباد میں انٹرویو کیا تو ان کا برجستہ جواب تھا کہ 'یہ ملک ہے، بنک نہیں'۔ یہ الفاظ پی ٹی وی کے اس وقت کے ڈائرکٹر نیوز نے یہ کہہ کر حذف کرا دیے کہ کاش تم کسی نجی میڈیا گروپ میں ہوتے تو یہ الفاظ ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات کی لیڈ ہوتے۔

اس دن سے جب بھی پاکستان میں عالمی مالی اداروں سے وزیر خزانہ یا ملکی مالی معاملات کی نگرانی کے لئے امیدوارامپورٹ ہوتے ہیں تو مرحوم مخدوم امین فہیم کے یہ الفاظ میرے ذہن میں دوبارہ گونج اٹھتے ہیں۔ ان کے یہ الفاظ سچ بھی ثابت ہوئے، کیونکہ شوکت عزیز نے ملک چلایا بھی بنک ہی کی طرح۔ انہوں نے کنزیومر بنکنگ کو خوب فروغ دیا جس سے بنکوں نے ناصرف عوام کو لوٹا بلکہ سڑکوں پر قسطوں پر حاصل کی گئی پیٹرول جلاتی، دھواں اگلتی گاڑیوں کی بھرمار ہو گئی۔ اسلام آباد جیسے شہر میں سڑکیں تنگ پڑ گئیں، ٹریفک جام رہنے لگ گیا۔

فوری طور پر فلائی اوور اور انڈرپاس بنانے پڑے۔ یہی حال دوسرے شہروں کا ہوا۔ ملکی خزانے کا کیا حال تھا وہ ان کے جانے کے بعد پیپلز پارٹی کی نئی حکومت کے اہم لیڈروں کے بیانات پڑھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جس میں وہ یہ دعوے کرتے تھکتے نہیں تھے کہ خزانہ خالی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی ہو یا پی ٹی آئی یا آج کی ن لیگ کی حکومت، درآمد شدہ بینکر وزرائے خزانہ سے جان نہ چھڑا سکے، جن کا تمام تر بس لے دے کر تنخواہ دار طبقوں پر ٹیکس پر ٹیکس لگا کر گیس بجلی پیٹرول مہنگا کرنے پر ہی چلتا آ رہا ہے۔

اب کی بار ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں کی مخلوط حکومت پر اسحاق ڈار کی بجائے ایک بنکر محمد اورنگزیب جو ایک نجی بنک کے سربراہ تھے، کو اصل مقتدر حلقوں نے دباؤ ڈال کر وزیر خزانہ بنوا دیا، کیونکہ ان حلقوں کا مفاد عوام کے مفاد سے عظیم تر ہے۔

2024-25 کے بجٹ میں انکم ٹیکس کے 6 سلیب بنائے گئے ہیں۔ سالانہ 6 لاکھ سے زائد آمدنی والے نوکری پیشہ افراد پر اس انداز میں انکم ٹیکس لگایا گیا کہ ایک سو روپے کی آمدنی میں سے وہ صرف پچاس روپے گھر لے جا سکے گا۔ جس میں سے اسے بجلی، گیس، پیٹرول، کھانا پینا، بچوں کا دودھ، تعلیم کے اخراجات اور اگر گھر کرایے کا ہے تو اسی میں سے کرایہ بھی ادا کرنا ہو گا۔ جہاں یہ نعرے بازی تھی کہ پنجاب اور سندھ میں غریب کو دو سو یا تین سو یونٹ بجلی مفت ملے گی وہاں اب فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 7 روپے 12 پیسے اضافہ کر دیا گیا جس سے فی یونٹ کی بنیادی قیمت 48.89 روپے ہو گئی۔ اس قیمت پر اب غریب یا تو بجلی ہی کٹوا دے گا اور اس جلا دینے والی گرمی میں ہاتھ کا پنکھا استعمال کرے گا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور رپورٹس کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ سے پہلے یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ملک بد ترین مشکل حالت میں ہے، اس مشکل صورت حال میں ہر ایک کو حصہ ڈالنا ہو گا۔ وزیر اعظم کے بھی یہی فرمودات ہوا کرتے تھے کہ ہر ایک کو ٹیکس دینا ہو گا، ہم بھیک مانگ کر ملک چلا رہے ہیں۔ لیکن ہوا یہ کہ پراپرٹی کی خرید و فروخت پر حاضر سروس و ریٹائرڈ سول و فوجی ملازمین کو مکمل چھوٹ دے دی گئی، جبکہ باقی عوام اس سہولت سے محروم ہیں۔ سیمنٹ کی فی بوری پر قیمتوں کا سب سے پہلے اثر ہوا جو ملکی تاریخ میں اس وقت بلند ترین سطح پر ہے۔ ظاہر ہے باقی کنسٹرکشن میٹیریل کا بھی یہی حشر ہونا ہے۔ اس سے ایک عام آدمی کا گھر بنانے کا خواب تو بس 'وڑ' ہی گیا۔ چلو انہیں شاید زندگی میں اپنے ذاتی گھر کے سکون کے بجائے اب قبر میں ہی سکون ملے گا۔

اشرافیہ کی سہولت کاری کا معاملہ یہیں نہیں رکا۔ ان خراب حالات کے باوجود وزیر اعظم اور وزیر خزانہ نے کمال چابکدستی کے ساتھ قومی اسمبلی کے بجٹ میں 46 فیصد، سینیٹ کے بجٹ میں 58 فیصد اور ایوان صدر کے بجٹ میں 63 فیصد اضافہ کروا لیا۔ سٹاک ایکسچینج جہاں روزانہ اربوں کھربوں کے سودے ہوتے ہیں اس پر ٹیکس اس لیے نہیں لگ سکتا کیونکہ مارکیٹ بہت اوپر جا رہی ہے، ٹیکس لگا تو بروکر مارکیٹ بٹھا دیں گے۔ وہ تو بھلا ہو وزیر اعظم کا کہ جنہوں نے بنکوں کے بے پناہ روز بروز بڑھتے ہوئے منافع پر ٹیکس کی چھوٹ مسترد کر دی ورنہ ملک کے بینکر وزیر خزانہ یہ بھی معاف کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔

ایک طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ زرعی شعبے سے حاصل ہونے والی انکم پر ٹیکس لگایا جائے جسے یہ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ یہ صوبائی معاملہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئین میں ایک ترمیم سے یہ معاملہ حل نہیں ہو سکتا اور زراعت سے حاصل انکم کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جا سکتا؟ سب کو معلوم ہے کہ ملک چاہے ڈوب جائے یا غریب عوام اور ملازم پیشہ افراد خودکشیاں کریں، اسمبلیوں میں بیٹھے بڑے بڑے کاشت کار اور جاگیردار ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ کارپوریٹ سیکٹر ہمیشہ ٹیکسوں کی چھوٹ مانگے گا، عسکری تجارتی ادارے ہمیشہ رعایتیں مانگیں گے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق صرف 2022 میں 'نیا پاکستان' بنانے والی جماعت تحریک انصاف کی حکومت نے ان تینوں گروپوں کو 17 ارب ڈالر کی سبسڈیز دیں۔ بجٹ کے بعد بجلی، پٹرول، گیس، اشیائے خور و نوش کی قیمتوں اور بسوں ویگنوں ہوائی جہازوں کے کرایہ جات میں مسلسل اضافہ جاری ہے لیکن ملک پر قابض بے حس کرپٹ اشرافیہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

بقول خزانہ اور مالیاتی امور کے ماہر صحافی شہباز رانا کے کہ اب ملک کے عوام اور نوجوانوں کے پاس چند ہی آپشن کھلے رہ گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر ممکن ہے تو پاکستان ہی چھوڑ دو۔ دوسرا یہ کہ اپنی تنخواہ کیش میں لو۔ تیسرا، اپنے اثاثے ظاہر نہ کرو۔ چوتھا اگر اب تک ٹیکس نیٹ میں نہیں تو باہر ہی رہیں، ورنہ جو ٹیکس نہیں دیتے ان کا ٹیکس بھی آپ سے ہی وصول کر لیا جائے گا۔ آخری یہ کہ ان طاقت ور حلقوں کا حصہ بن جائیں جن کو ٹیکس نیٹ سے باہر رکھا گیا ہے اور رکھا جاتا رہے گا کیونکہ اگر وہ ہیں تو پاکستان ہے، وہ نہیں تو خدانخواستہ ملک بھی خطرے میں اور ملک کی سالمیت بھی۔ لیکن صاحب ان کا کیا بنے گا جو پہلے ہی سال ہا سال سے ٹیکس نیٹ میں ہیں؟

خدارا ملک کی بقا اور عوام کی فلاح کے نام کی کوئی چیز اس ملک میں اگر رہ گئی ہے تو اس ملک کو ملک سمجھیں، بنک نہیں اور عوام کو عوام سمجھیں، غلام نہیں۔

مصنف سینئر صحافی ہیں اور ان سے asmatniazi@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔