Get Alerts

کیا آبنائے ہرمز پر جھڑپ مفاہمت کی یادداشت کو ختم کر دے گی؟

ایران یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ اس کے خلاف مسلسل بمباری کی مہم چلانے کی پوزیشن میں نہیں، خاص طور پر جب ایران جوابی کارروائی کر سکتا ہے اور آبنائے کے ذریعے بحری جہاز رانی کو دوبارہ روک سکتا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ تہران کا یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

کیا آبنائے ہرمز پر جھڑپ مفاہمت کی یادداشت کو ختم کر دے گی؟

بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے شہر انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خیال میں ایران کے ساتھ طے پانے والا مفاہمت نامہ "ختم" ہو چکا ہے۔ البتہ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ  فی الحال امن مذاکرات کو جاری رہنے دے سکتا ہے۔ کشیدگی بڑھنے کے باوجود کسی بھی فریق نے عبوری امن معاہدے کو باضابطہ طور پر منسوخ نہیں کیا ہے۔ لیکن اگر حملے جاری رہے تو صورتحال کے بے قابو ہونے کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے، اور معاملات غیر یقینی کی دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے۔

نیا دور کے لئے اپنی گذشتہ تحریر میں میرا موقف تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت مکمل جنگ سے وقتی نجات ہے، تصفیہ نہیں۔ یہ دلیل دو ذیلی دلیلوں پر مبنی تھی اور ہے: اول، امریکہ اور ایران کے درمیان بھی یہ یادداشت صرف ایک فریم ورک معاہدہ فراہم کرتی ہے تاکہ جوہری فائل اور اس جیسے دیگر مسائل پر بات ہو سکے۔ وہ مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ دوم، ہمیں ایران اور صیہونی ریاست کے درمیان جاری بالواسطہ اور بلاواسطہ جنگ، جو دونوں کے لئے وجودی حیثیت رکھتی ہے، کا الگ سے مطالعہ کرنا ہوگا۔ اس جنگ میں ساختی عوامل شامل ہیں جوایران اور امریکہ کے درمیان کسی تصفیے سے علیحدہ ہیں اور ایران، امریکہ کے معاہدے کے باوجود بھی حل طلب رہیں گے۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی تصفیے کا صیہونی ریاست کے رویے پر کوئی اثر نہ ہو گا۔ اثر ضرور ہوگا۔ لیکن وہ اثر کئی عوامل پر منحصر ہوگا، خاص طور پر اس بات پر کہ اگر واشنگٹن خلیج اور پورے مشرق وسطیٰ میں نئی شروعات چاہتا ہے تو وہ صیہونیوں کو کس حد تک نکیل ڈال سکتا ہے۔ اور اگر کبھی ایسا ہو گیا — اور یہ بہت بڑا اگر ہے — تو پھر ہم اصل مسئلے پر پہنچیں گے: فلسطینی تنازع۔ چونکہ میں اس پر الگ سے ایک تحریر لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اس لئے یہاں صرف اتنا کہوں گا کہ امن کی کشتی صیہونی نظریے اور اس کی توسیع پسندانہ آبادکاری کی چٹانوں سے ٹکرا چکی ہے۔ مکمل امن صیہونیت کے خاتمے سے مشروط ہے۔ یہ معرکے اسی طویل جنگ کا حصہ ہیں۔

اس وقت میں مفاہمت کی یادداشت اور ایران اور امریکہ کے درمیان تازہ فائرنگ کے تبادلے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں۔ اگرچہ اب تک یہ جھڑپیں محدود رکھی گئی ہیں اور اس سے قبل ایک مختصر دورِ کشیدگی بھی گزر چکا ہے، ان کا محور آبنائے ہرمز ہے۔

مفاہمت کی یادداشت میں آبنائے کا ذکر ہے۔ مسئلہ سمجھنے کے لئے چودہ نکاتی یادداشت کا پانچواں نکتہ دوبارہ پیش کرنا ضروری ہے جو براہِ راست آبنائے ہرمز سے متعلق ہے۔ یہ متن اس کی مختلف تشریحات کو سمجھنے کی بنیاد ہے۔

"اس مفاہمت نامے پر دستخط ہونے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران تجارتی جہازوں کو خلیج فارس سے بحیرہ اومان تک اور وہاں سے واپس محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی اور یہ سہولت صرف ساٹھ دنوں کے لئے بلا معاوضہ ہوگی۔ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت فوری طور پر شروع کر دی جائے گی لیکن تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں کو ہٹانے اور ایران کی طرف سے بارودی سرنگوں کی صفائی کے پیش نظر یہ عمل تیس دنوں کے اندر اندر باقاعدہ طور پر چل پائے گا۔ ایران آبنائے ہرمز میں آئندہ انتظامی اور بحری امور کا تعین کرنے کے لئے سلطنت اومان سے گفتگو کرے گا، اور اس سلسلے میں خلیج فارس کے دیگر ساحلی ممالک سے بھی مشاورت کی جائے گی، جو بین الاقوامی قانون اور آبنائے ہرمز کی ساحلی ریاستوں کے خودمختار حقوق کے عین مطابق ہوگی۔"

تہران اس متن کی یہ تشریح کرتا ہے کہ اگرچہ آبنائے کو کھلا رکھا جانا ہے لیکن ساٹھ روزہ عبوری مدت کے دوران تمام تجارتی آمدورفت ایران کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت ہونی چاہیے، جب کہ دونوں فریق مستقل بحری انتظامات پر مذاکرات کریں گے۔ متن کی وہ سطر دیکھیں جس میں کہا گیا ہے: "ایران تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا" اور وہ سطر جس میں لکھا ہے: "ایران آبنائے ہرمز میں آئندہ انتظامی اور بحری امور کا تعین کرنے کے لئے سلطنت اومان سے گفتگو کرے گا۔"

واشنگٹن کی "کھلی" آبنائے کی شرح مختلف ہے۔ امریکہ کے مطابق جہاز ایران کے ساتھ رابطہ کیے بغیر اومانی بحری راستے سے گزر سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ شروع سے ہی یہ کوشش کر رہا ہے کہ جہازوں کو اومان کے ساحل سے لگ کر چلنے کی سہولت فراہم کی جائے۔ یہ بات ایران کو گوارا نہیں۔ کیوں؟

بہت سے تجزیہ کار، حتیٰ کہ پاکستان میں بھی، یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران اس معاملے میں سختی کر رہا ہے۔ جھڑپوں کے دوبارہ شروع ہونے کے امکان کو دیکھتے ہوئے ان کی بے چینی سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن وہ غلط ہیں۔ تہران کے نزدیک یہ کوئی تکنیکی اختلاف نہیں بلکہ حکمت عملی کا محور ہے۔ ایران کو اندیشہ ہے کہ امریکہ مفاہمت نامے کو آبنائے پر ایران کے کنٹرول کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ وہ کسی بھی قسم کے رابطے کی ضرورت کو مسترد کر رہا ہے اور مؤثر طور پر ایک متبادل راہداری قائم کر رہا ہے جو جنگ دوبارہ چھڑنے پر بھی کھلی رہ سکے۔ ایسا بندوبست ایران کو مستقبل کی کسی لڑائی میں اس کے سب سے اہم دباؤ یعنی آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی قابلِ اعتماد صلاحیت سے محروم کر دے گا۔ تہران کا کہنا ہے کہ تجارتی بحری جہاز رانی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے لیکن صرف اس صورت میں جب تمام جہازوں کی نقل و حرکت ایران کے ساتھ مربوط ہو تاکہ اس آبی گزرگاہ پر ایران کا اختیار برقرار رہے۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ مفاہمت نامے کے متن میں واضح طور پر یہ شرط نہیں ہے کہ جہاز آبنائے سے گزرنے سے پہلے ایران سے اجازت لیں۔ بلکہ یہ متن ایران کو تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپتا ہے اور ایران کو تمام بحری آمدورفت پر عملی کنٹرول کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ سطر جس میں " آبنائے ہرمز میں آئندہ انتظامی اور بحری امور کا تعین" کی بات کی گئی ہے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران کی تشریح متن کے زیادہ قریب ہے۔ بہرحال، جیسا کہ میں اوپر کہہ چکا ہوں، یہ معاملہ تکنیکی نہیں بلکہ حکمت عملی کا ہے۔ ایران اپنا ترپ کا پتہ چھوڑنے کو تیار نہیں۔

لیکن اس حقیقت کوایران کی وقتی نجات کی حکمت عملی سے کیسے ہم آہنگ کیا جائے جس کا تذکرہ میں نے پچھلی تحریر میں بھی کیا تھا؟ اگر ایران آبنائے کے معاملے پر جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کو قبول کرنے کو تیار ہے تو یہ حکمت عملی کیسے کارآمد ہوگی؟ یہاں دو باتیں کارفرما ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران آبنائے پر کنٹرول کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔ دوسرے، ایران یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ اس کے خلاف مسلسل بمباری کی مہم چلانے کی پوزیشن میں نہیں، خاص طور پر جب ایران جوابی کارروائی کر سکتا ہے اور آبنائے کے ذریعے بحری جہاز رانی کو دوبارہ روک سکتا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ تہران کا یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں فریق ایک سمجھوتے کی راہ تلاش کر رہے تھے جس کے تحت تجارتی جہاز اپنی آمدورفت کو ایران اور خلیج تعاون کونسل کی کسی نامزد ریاست کے ساتھ مربوط کرسکیں گے۔ جہاز تہران اور خلیج تعاون کونسل کی بحری اتھارٹی  دونوں کو رپورٹ کریں گے۔ اس تجویز کا مقصد ایران کی نگرانی کے مطالبے اور امریکہ کی اس خواہش کے درمیان توازن پیدا کرنا تھا کہ تہران کو خصوصی کنٹرول نہ دیا جائے۔

درحقیقت دونوں فریق ایک دوسرے کی قوت ارادی کا امتحان لے رہے ہیں۔ اگر معاملہ محض تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کا ہوتا تو جہاز ایرانی بحری راستے سے گزر سکتے تھے۔ تہران نے جہازوں کو شمالی راہداری استعمال کرنے سے نہیں روکا۔ امریکہ کا ایران کو اطلاع دیے بغیر جنوبی راہداری استعمال کرنے پر اصرار تہران کے اس دعوے کو چیلنج کرنا ہے کہ وہ آبنائے پر اختیار رکھتا ہے۔ یہ لڑائی بحری گزرگاہ کے مسئلے سے زیادہ خودمختاری اور حکمت عملی کے دباؤ سے متعلق ہے۔ 

اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مفاہمت کی یاداشت آہستہ آہستہ دم توڑ سکتی ہے۔

اعجاز حیدر معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔