بین الاقوامی سیاست میں کبھی کبھی بندوقیں خاموش ہو جاتی ہیں، میزائل رک جاتے ہیں اور جنگ کا رخ بدل جاتا ہے۔ صرف چند الفاظ کی وجہ سے۔ 8 اپریل کو ایسا ہی لمحہ سامنے آیا جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام جاری کیا۔ یہ صرف 107 الفاظ تھے، مگر ان الفاظ نے ایران-امریکہ تصادم جو شاید ایٹمی جنگ کی جانب بڑھ رہا تھا کو روک دینے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔
یہ عام ٹویٹ نہیں تھی۔ عالمی میڈیا میں اس پیغام کو ایک "سفارتی دستاویز" کے طور پر دیکھا گیا، نہ کہ صرف سوشل میڈیا پوسٹ کے طور پر۔
سفارتکاری کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ 1962 کے کیوبا میزائل بحران میں امریکہ اور سؤویت یونین کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہوا۔ ہر خط کے ہر لفظ کو کئی بار جانچا گیا۔ ایک مخصوص خط کے جواب کی حکمت عملی نے ایٹمی جنگ کو ٹال دیا۔ 1978 کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے میں مصر، اسرائیل اور امریکہ نے تیرہ دن تک مسودوں پر کام کیا۔ 1993 کے اوسلو معاہدے میں ناروے نے ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقوں کے بیانات کے الفاظ تک طے کروائے۔ ان تمام مثالوں میں ایک بات مشترک تھی: الفاظ پہلے طے ہوتے ہیں، اعلان بعد میں ہوتا ہے۔
شہباز شریف کے پیغام کی ساخت بھی اسی روایت کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ جس کو ڈرافٹ والے پہلے ورژن سے متنازعہ بنانے کی کوشش اور پوائنٹ سکورنگ کی گئی حالانکہ جو لوگ سفارتی آداب اور حالات کو جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ ٹویٹ سے قبل ثالثی کی بنیاد پر اگر متعلقہ فریقین کو اس پر راضی کیا گیا اور پھر ٹویٹ کے الفاظ ترتیب دے کر پوسٹ کیے گئے تو یہ ایک بہترین سفارتی عمل تھا جس نے دنیا کو تباہی سے بچایا۔ اس میں تین واضح مخاطب تھے: امریکہ، ایران اور خطے کے دیگر فریق۔ پیغام میں درخواست کا لہجہ رکھا گیا، دباؤ کا نہیں۔ یہی وہ سفارتی زبان ہوتی ہے جو مخالف فریق کو پیچھے ہٹنے کا باعزت راستہ دیتی ہے۔ سفارتکاری میں کامیابی اسی کو کہتے ہیں کہ کوئی بھی خود کو ہارا ہوا محسوس نہ کرے۔
اس پیغام کا وقت بھی اہم تھا۔ ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے پہلے جاری ہونے والے بیان نے دونوں فریقوں کو فوری ردعمل دینے کا موقع دیا۔ سفارتی دنیا میں وقت کا انتخاب بھی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ نہ بہت پہلے کہ نظر انداز ہو جائے، نہ بہت دیر سے کہ اثر ختم ہو جائے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی اہم ہے۔ وہ یہ کہ عالمی سیاست میں ہر ملک ثالث نہیں بن سکتا۔ ثالث وہی بنتا ہے جس پر دونوں فریق اعتماد کریں۔ پاکستان ماضی میں بھی مختلف مواقع پر بیک چینل سفارتکاری میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ یہی ساکھ ایسے مواقع پر کام آتی ہے۔ اگر کوئی پیغام صرف ایک فریق سے آتا تو شاید مسترد ہو جاتا، مگر تیسرے معتبر فریق کی درخواست اکثر قابل قبول بن جاتی ہے۔
تنقید کرنے والوں نے اسے کمزوری کہا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سفارتکاری میں ثالثی کرنا طاقت کی علامت ہے، کمزوری کی نہیں۔ آخر کوئی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر کئی رہنماؤں نے اس کوشش کو مثبت قدم قرار دیا۔
اس واقعے کو "ڈپلومیسی کا ورلڈ کپ" کہنا مبالغہ لگ سکتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا میں طاقت صرف فوجی نہیں رہی۔ سافٹ پاور، بیانیہ اور ثالثی کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہو چکی ہے۔
اکیسویں صدی کی جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ اطلاعاتی دنیا میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ اسی طرح امن بھی ٹویٹس، بیانات اور بیک چینل رابطوں کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے۔ 107 الفاظ کا یہ پیغام اسی نئی دنیا کی علامت تھا، جہاں الفاظ کبھی کبھی میزائلوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتے ہیں۔